Inquilab Logo Happiest Places to Work

مجاہدینِ آزادی نے ہمارے لئے جو قربانی دی کیا ہم اس کے مستحق ہیں؟: سنی دیول

Updated: August 15, 2026, 8:04 PM IST | Mumbai

سنی دیول نے حب الوطنی پر مبنی فلموں میں اپنے کرداروں سے ایک الگ شناخت بنائی ہے، لیکن اداکار کے مطابق حب الوطنی صرف نعروں یا جوشیلی تقریروں کا نام نہیں بلکہ اپنے وطن سے جذباتی وابستگی ہے۔ ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کی ریلیز سے قبل گفتگو میں سنی دیول نے آزادی کی قدر، انسانیت اور اس سوال پر زور دیا کہ کیا ہم ان قربانیوں کے اہل ثابت ہوئے ہیں جو آزادی کیلئے دی گئی تھیں۔

Sunny Deol in a scene from the film "Partition 1947". Photo: INN
سنی دیول فلم ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کے ایک منظر میں۔ تصویر: آئی این این

اگر بالی ووڈ میں کسی ایک اداکار کو حب الوطنی پر مبنی سنیما کا طویل عرصے تک نمائندہ قرار دیا جائے تو وہ سنی دیول ہیں۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے سنی دیول نے ’’بارڈر‘‘ اور ’’غدر‘‘ جیسی فلموں میں ایسے کردار ادا کیے ہیں جن میں ملک سے محبت، قربانی اور قوم پرستی نمایاں رہی ہے۔ تاہم سنی دیول کے مطابق حب الوطنی کا مفہوم وقت کے ساتھ نہیں بدلتا۔ یومِ آزادی پر متحدہ عرب امارات میں ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کی ریلیز سے قبل ’گلف نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ حب الوطنی بدلتی ہے۔ آپ اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں۔ گھر تو گھر ہوتا ہے، گھر کیسے بدل سکتا ہے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’آوارہ پن ۲‘: پاکستانی گلوکار مصطفیٰ زاہد نے ’تیرا میرا رشتہ ۰ء۲‘ جاری کیا

سنی دیول کے نزدیک حب الوطنی صرف نعروں یا جوشیلی تقریروں کا نام نہیں بلکہ اپنے وطن سے جذباتی وابستگی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حب الوطنی پر مبنی فلمیں آج بھی ناظرین میں مقبول ہیں۔ یہ صنف اب صرف یومِ آزادی یا یومِ جمہوریہ تک محدود نہیں رہی بلکہ جنگ، تاریخ، قومی کامیابیوں، حقیقی واقعات اور عام لوگوں کی جدوجہد پر مبنی فلموں تک پھیل چکی ہے۔ ’’سیم بہادر‘‘، ’’فائٹر‘‘، ’’آرٹیکل ۳۷۰‘‘، ’’اسکائی فورس‘‘ اور ’’کیسری چیپٹر ۲‘‘ جیسی فلموں نے بھی ناظرین کی توجہ حاصل کی۔

’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ میں سنی دیول ایک بار پھر ہدایتکار راج کمار سنتوشی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ سنتوشی نے سنی دیول کو فطری طور پر قوم پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی ملک کیلئے بات کرنے یا لڑنے کا موقع آتا ہے تو ان کی اداکاری مصنوعی محسوس نہیں ہوتی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کی فلمیں صرف حب الوطنی تک محدود نہیں رہیں۔ ’’گھائل‘‘ انصاف، ’’دامنی‘‘ عام لوگوں کی جدوجہد اور ’’گھاتک‘‘ معاشرے کے منفی عناصر کے خلاف لڑائی پر مبنی تھی۔

سنی دیول بھی ’’بٹوارہ ۱۹۴۷ء‘‘ کو محض حب الوطنی کی فلم نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق یہ ایک خاندانی فلم ہے جو انسانیت اور مشکل حالات سے گزرنے والے لوگوں کی کہانی بیان کرتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ خاندان اور انسانیت کے بارے میں ہے اور اس بارے میں ہے کہ ہم ان حالات سے کیسے گزرتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: شوٹنگ سیٹ پر کھانے کی ناقص صورتحال پر FWICE برہم، سخت کارروائی کا مطالبہ

سنی دیول نے اپنی فلموں پر لگائے جانے والے مختلف لیبلز کے حوالے سے کہا کہ ’’گھاتک‘‘ کو لوگ ایکشن فلم کہتے ہیں، لیکن ان کیلئے وہ ہمیشہ ایک محبت کی کہانی رہی۔ ان کے مطابق فلمیں صرف ایک صنف یا لیبل تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ ان میں انسانی جذبات زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

آزادی کے مفہوم پر بات کرتے ہوئے راج کمار سنتوشی نے اسے اظہارِ رائے اور ملک کی ترقی کیلئے اجتماعی ذمہ داری سے جوڑا۔ سنی دیول نے اس موقع پر ایک اہم سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں لوگوں نے آزادی کیلئے اپنی جانیں قربان کیں، اس لیے آج ہر شخص کو خود سے پوچھنا چاہیے، ’’کیا ہم اس آزادی کے مستحق ہیں؟ کیا ہم وہ کچھ کر رہے ہیں جس کیلئے ان لوگوں نے قربانی دی؟ کیا ہم اس کے اہل ہیں؟‘‘ یہی سوال سنی دیول کے حب الوطنی پر مبنی سنیما کی اصل روح بھی بیان کرتا ہے، جہاں ملک سے محبت کے ساتھ انسانیت، انصاف اور ذمہ داری کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK