کوریائی قلمکارہان کانگ کا ’دی ویجی ٹیرین‘ ایک نفسیاتی ناول

Updated: February 10, 2020, 3:48 PM IST | Shahid Nadeem

ناول میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ ہمارے سماج میں انسانی خواہش اور مرضی کا کوئی مقام یا احترام نہیں رہا۔ یہ ایسے بے حس لوگوں کا معاشرہ بن چکا ہے کہ جو بھی سماج کے مروجہ رویے اور روایات کے خلاف قدم اٹھاتا ہے اسے خوفزدہ کیاجاتا ہے اور ہر طرح سے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے

کوریائی قلمکارہان کانگ کا’دی ویجی ٹیرین
کوریائی قلمکارہان کانگ کا’دی ویجی ٹیرین

  کوریائی ناول نگار ہان کانگ کا ناول ‘ دی ویجی ٹیرین‘ کافی عرصہ تک قارئین میں گفتگو کا موضوع بنارہا ، ۲۰۱۶ء میں اسے ’بوکر انٹرنیشنل ایوارڈ‘ کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ اس کا انگریزی ترجمہ ڈیبورا اسمتھ نے کیا تھا کہ ہان کانگ کو انسانی جذبات  اور تجربات کو بیان کرنے میں مہارت حاصل ہے۔ کوریائی سماج میں سبزی خوری کا رواج بہت کم ہے۔ کوریا میں یہ ناول ابتدائی دنوں میں موضوع  کے اعتبارسے خاصہ عجیب  اورحیرت انگیز تسلیم کیا گیا۔ لیکن بعد میں یہ بہت مشہور ہوا اوراس کی کاپیاں تیزی سے فروخت ہونے لگیں۔ اب تک اس ناول کا انگریزی، فرانسیسی ، اسپینی  اورچینی سمیت تقریباً تیرہ زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ اب تک شاعری اورناول کی دس کتابیں شائع ہوچکی ہیں وہ کہتی ہیں کہ بیسیوں صدی نے نہ صرف کوریا بلکہ انسانی نسل پر گہرے زخم چھوڑے ہیں۔ 
  ہان کانگ، ۱۹۷۰ء  میں گارنگ یو میں پیدا ہوئیں۔ یہ شہر کوریا کے جنوب مغربی کنارے پر آباد جنوبی کوریا کا چھٹا بڑا شہر ہے۔ محض نو برس کی عمر میں وہ خاندان سمیت سیول آگئیں۔ یہ محض اتفاق ہے کہ چار ماہ بعد وہاں قتل عام شروع ہوگیا۔ وہ بتاتی  ہیں کہ میں نے ۱۹۱۰ء سے ۴۸ءتک  مقبوضہ جاپان کو دیکھا اورنہ کورین جنگ کو جس کا اغاز ۱۹۵۰ء  میں ہوا اور ۱۹۵۳ء  میں جنگ بندی کے بعد ختم ہوا۔ ۱۹۹۳ء سے میری شاعری اورکہانیوں ، رسالوں  میں شائع ہونے لگی تھیں۔ ‘‘ہان کانگ کا یہ ناول معاشرے  میں مردانہ برتری اوراس نظام کے خلاف  ہے جو اپنی من مانی روایات کا پیرو کار ہے ۔ دی ویجی ٹیرین کی مرکزی کردار یونگ ہائی ایک عام سی گھریلو خاتون ہے۔ مسٹر چیونگ کے نزدیک ان کی بیوی ہر لحاظ سے ناقابل ذکر ہے۔ وہ کہتا ہے کہ پہلی بار جب وہ ملا  تھا تواس میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوئی تھی  اس کے لئےوہ بس ٹھیک تھی۔ اس نے شادی کا فیصلہ کرتے وقت سوچا تھا کہ وہ ایک اچھی خدمت گزار بیوی ثابت ہوگی۔ جس قسم کی زندگی وہ گزارنا چاہتا تھا اس کے لئے وہ بہت مناسب تھی۔  ایک عرصہ تک  شادی شدہ زندگی گزارنے کے بعد ایک دن بیوی نہایت پریشان کن خواب دیکھتی رہے ، جس میں وہ خود کو ایک خوفناک  جانور میں تبدیل ہوتے دیکھتی ہے۔وہ اپنے خواب اور خیالات میں کسی کو شامل نہیں کرتی۔ خوابوں کا یہ سلسلہ طویل ہوتا جاتا ہے۔ وہ جانوروں کو ذبح کرنے کے مناظربھی دیکھتی ہے ۔بالآخر ایک دن وہ ان خوابوں کے بارے میں اپنے شوہر سے ذکر کرتی ہے ، مگر شوہر کو ان خوابوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
  ایک روز شوہر دیکھتاہے کہ وہ فریج سے کھانے کا سب سامان نکال کر باہر پھینک رہی ہے۔ کچن کے فرش پر پلاسٹک بیگ اور ہوا بند ڈبے بکھرے پڑے ہیں۔ وہاں پیر رکھنے کی بھی جگہ نہیں بچی ہے۔ شابو شابو ( ایک جاپانی ڈش جو کوریا میں بہت مقبول ہے ) بنانے کے لئے گوشت ، بچھڑے کی ران ، ہوا بند پیکٹ  اور بیگ میں رکھی سمندری فینی اس کی ساس کے دیئے ہوئے اریل کے قتلے ، پیلی ڈورسے بندھے خشک مینڈک پھیلے ہوئے ہیں۔ شوہر نے سختی سے پوچھا کہ وہ کیا کررہی ہے۔ جواب ملا اس نے ایک خواب دیکھا ہے، اوراس کی موجودگی کو نظرانداز کرتے ہوئے سارا سامان اٹھاکر کوڑے دان میں ڈال دیا۔ ایسی بربادی ؟ بھلا کوئی شوہر یہ سب کیسے برداشت کرسکتا تھا۔ مرغی کے ٹکڑے اور تواور تقریباً دولاکھ وان کی قیمتی سمندری اریل ، سب کوڑے دان میں۔ اس عورت کا دماغ  ضرور خراب ہوگیا ہے ۔
  یونگ ہائی کی ماں کو خبر ملی کہ وہ سبزی خور ہوگئی تو وہ سمجھ نہ سکی کہ یونگ ہائی زندہ کیسے رہے گی ۔ باس کی دی ہوئی  پارٹی میں گوشت نہ کھانے پر اس کا مذاق اڑایا گیا۔ گھر میں خاندان کی ایک پارٹی میں اس کا شوہر زبردستی اسے گوشت کھلانے کی کوشش کرتا ہے ۔ طمانچہ مارتا ہے ، مگر لاحاصل ، آئندہ چند ماہ تک سبزی پر گزارا کرنے کے بعد تنگ آکر بیوی کے گھروالوں کو مدعو کرتا رہے کہ اسے سمجھائیں۔ کھانے کی میز پر اس کا سخت مزاج باپ جو ویتنام میں ملازمت کرچکا تھا ، بھی تھا، پونگ ہائی کا بھائی اس کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی اس کے منہ میں زبردستی گوشت ٹھونسنے کی کوشش کرتا ہے، تھپڑرسید کرتا ہے ، یونگ ہائی دور جاتی ہے اور گوشت کا ٹکڑا اُگل دیتی ہے۔ باپ اور بھائی مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایک دن وہ چھری سے اپنی کلائی کاٹ لیتی ہے۔ اسپتال لے جاتے ہیں اور اسے ذہنی مریض قراردیاجاتا ہے۔ شوہر نے پوچھا تم کہتی ہو اب گوشت نہیں کھلاؤگی؟ اس نے اقرارمیں سرہلایا کب تک ؟
  ’’میں سمجھتی ہوں ہمیشہ کے لئے ‘‘۔ ممکن تھا کہ شوہر یہ بھی برداشت کرلیتا ، مگر گوشت کے علاوہ یونگ ہائی کی جنسی رغبت بھی ختم ہوگئی۔ شوہر کو قریب نہ آنے دیتی ۔ پوچھنے پر کہتی کہ اسے شوہر کے جسم سے گوشت کی بو آتی ہے۔
  شوہر اس کی ضد پر حیران تھا۔ اسے معلوم تھا کہ ماضی  میں سبزی خور ہونا اتنا معیوب بھی نہیں تھا۔ مختلف اسباب سے لوگ سبزی خورہونا پسند کرتے تھے، کبھی الرجی کی وجہ سے ، کبھی ماحولیات کو بہتر بنانے کے لئے ، بودھ سنیاسی عہد کرتے ہیں کہ ان کا مذہبی عقیدہ ہے کہ جانداروں کو نقصان نہ پہنچایاجائے۔ نوجوان لڑکیاں وزن کم کرنے کے لئے گو شت سے پرہیز کرتی ہیں۔ شوہر نے سوچا بُری روحوں کے اثرات کی وجہ سے لوگ گوشت کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ بدہضمی اور نیند نہ آنے کی وجہ سے کچھ لوگ گوشت نہیں کھاتے مگر اسے بیوی کی ضد اور ہٹ دھرمی کے علاوہ کچھ اورنہ لگتا۔ اس کا خیال تھا کہ شوہر کی خواہشات کے خلاف جانا ہی اس کا واحد سبب ہے۔ وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ اب تک جو عورت بے حد عام سی تھی اچانک اتنی باغی کیسے ہوگئی۔ ذہنی مریضوں کے اسپتال میں اسے خواب میں سنسان سیاہ جنگل نظرآتا ہے ، وہ خوفزدہ ہے۔ ہرطرف اسے خون ٹپکتے گوشت کے لوتھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ خود کو ان میں گھرا ہوا پانے سے اس کے کپڑے اور منہ اور بدن خون میں لت پت نظرآتے ہیں۔
  یونگ ہائی بچپن سے ہی اپنے باپ کے ظلم وستم کا نشانہ تھی ۔ اسے یاد ہے کہ ایک بار پالتو کتے ’وٹنی‘  نے اسے کاٹ لیا تھا۔ وہاں کی رسم کے مطابق باپ نے کتے کو گاڑی سے باندھ کر گول گھماکر مارڈالا، اور وہ اس  ظالمانہ منظر کو دیکھنے پر مجبور تھی۔ کتے کی مسلسل تکتی آنکھیں اس کی روح تک اترگئیں۔ یہیں تک ہوتا تو وہ بھول جاتی، لیکن شام کو اس کتے کا گوشت پکاکر جشن منایاگیا۔ بچی جب گوشت کھانے جارہی تھی تواسے کتے کی بے بس اور مجبور آنکھیں یادآجاتی ہیں  اور وہ کھانے سے انکار کردیتی ہے۔ اٹھارہ برس تک باپ اسے مسلسل مارتا پیٹتا رہا اور گوشت کھانے پر مجبور کیاجاتا رہا۔ گوشت خوری ترک کرنے کی وجہ سے یونگ ہائی کا وزن بتدریج کم ہونے لگا، جلد خشک ہونے لگی ۔ اسپتال میں اسے بزور طاقت کھلانے پلانے کی کوشش کی جاتی ہے ، ناک اور گلے میں ٹیوب ڈال کر کھانا پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ 
 ناول کے اختتام پر ہائی یونگ نہ صرف گوشت بلکہ ہر طرح کا کھانا تیاگ دیتی ہے۔ وہ خود کو ایک درخت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔وہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ صرف پانی اور سورج کی روشنی کے سہارے زندہ رہ سکتی ہے۔ ناول میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ ہمارے سماج میں انسانی خواہش اور مرضی کا کوئی مقام یا احترام نہیں رہا۔ یہ ایسے بے حس لوگوں کا معاشرہ بن چکا ہے کہ جو بھی سماج کے مروجہ رویے اور روایات کے خلاف قدم اٹھاتا ہے اسے خوفزدہ کیاجاتا ہے اور قدم واپس لینے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ویجی ٹیرین کی یہ کردار یہ قبول نہیں کرتی اور بالآخر اسے اس کی محبت چکانی پڑتی ہے۔ کافکائی اسلوب کے اس ناول کو پڑھنا ایک خوفناک ترجمہ سے گزرنا ہے جو قاری کا منہ تلخی  سے بھر دیتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ کاش ایسا نہ ہوا ہوتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK