ماہ رمضان کا آخری جمعہ

Updated: May 22, 2020, 12:34 PM IST | Mufti Mohammed Taqi Usmani

ویسے تو رمضان میں ہر جمعہ کا دن برکتوں والا ہوتا ہے لیکن اس دن کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے بعد آئندہ رمضان تک برکتوں والا جمعہ نصیب نہیں ہوگا ، اس لحاظ سے اس کی اہمیت محسوس کرنی چاہئے

Namaz - Pic : INN
نماز ۔ تصویر : آئی این این

آج رمضان المبارک کا آخری جمعہ ہے اور اس کی بھی چند گنی چنی ساعتیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ اسی سے متعلق کچھ گزارشات کرنی ہیں۔
lجمعۃ الوداع کے بارے میں ایک غلط فہمی کا ازالہ
برصغیر میں عام طور سے رمضان کے آخری جمعہ کو جمعۃ الوداع کہا جاتا ہے یعنی رمضان کی رخصتی والا جمعہ۔ اس کے بارے میں لوگوں میں بہت سی باتیں بھی مشہور ہوگئی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس جمعہ کو جمعۃ الوداع کہنا میں نے برصغیر ہند و پاک کے علاوہ کہیں نہیں سنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی جمعۃ الوداع کا لفظ استعمال نہیں فرمایا اور نہ ہی اس دن کے لئے کوئی خاص عبادت مقرر فرمائی ، اور حضرات صحابہؓ  نے بھی اسی پر عمل فرمایا۔
البتہ اس دن کی اہمیت دوسرے دنو ںکے مقابلے میں اس لحاظ سے یقیناً زیادہ ہے کہ یہ رمضان کے مہینہ میں آنے والا جمعہ ہے اور اس کے بعد اس سال رمضان میں کوئی اور جمعہ نہیں آئے گا۔ ویسے تو رمضان میں ہر جمعہ کا دن برکتوں والا ہوتا ہے لیکن اس دن کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے بعد آئندہ رمضان تک برکتوں والا جمعہ نصیب نہیں ہوگا ، اس لحاظ سے اس کی اہمیت محسوس کرنی چاہئے اور جس قدر اس دن ہوسکے ، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہئے، اللہ جل جلالہٗ کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ اب جبکہ رمضان رخصت ہورہا ہےتو دو کام ایسے ہیں جس کا ہر مسلمان کو اہتمام کرنا چاہئے:
lعبادت کی توفیق ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں
ایک کام تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے رمضان کا مہینہ عطا فرمایا اور روزہ رکھنے اور تراویح کی توفیق بھی عطا فرمائی۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، ورنہ بہت سے گھرانے ایسے بھی ہیں کہ جن میں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب رمضان آیا اور کب گزر گیا۔ غفلت کے ساتھ پورا رمضان گزر جاتا ہے، نہ ہی روزوں کی توفیق ہوتی ہے اور نہ ہی تراویح کی اور نہ ہی کسی خاص عبادت کی، اس لئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ایسے لوگوں میں شامل کے بجائے ان لوگوں میں شامل کیا کہ جن کے گھر میں رمضان آتا ہے اور کچھ نہ کچھ عبادات کی توفیق بھی ہوجاتی ہے۔
lعبادت کی ناقدری نہ کریں
بعض لوگ انتہائی انکساری سے کام لیتے ہوئے رمضان میں کی ہوئی عبادات کے بارے میں حد سے گزر جاتے ہیں اور اللہ کی طرف سے دی ہوئی توفیق کی ناقدری کرتے ہیں۔ کہتے ہیںکہ بھئی ہم نے کیا عبادات کیں، یہ تو فاقے ہوگئے، یا ہم نے کیا نمازیں پڑھیں ،یہ نمازیں نہ ہوئیں بلکہ یہ تو ہم نے ٹکریں مار لیں… یہ ناقدری ہے۔
کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے عبادات کی توفیق عطا فرما دیں تو اس پر شکر ادا کرنا چاہئے، اس لئے کہ خواہ عبادت کیسی ہی کیوں نہ ہو لیکن سجدے میں پیشانی تو اسی رب کی بارگاہ میں جا کر ٹکی ہے، سجدہ تو اسی ایک اللہ کے لئے ہوا ہے:
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے =ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
لہٰذا اس مہینے  میں اللہ جل جلالہٗ کی طرف سے عبادت کی توفیق مل جائے تو اس کومعمولی تصور نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس توفیق پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے عبادات کی توفیق دی۔ اوریہ بات بھی اپنی جگہ ایک مسلّم حقیقت ہے کہ ان عبادات میں سے کوئی عبادت بھی ایسی نہیں ہے جس کو ہم نے پورے خشوع و خضوع اور آداب کے ساتھ اس انداز میں ادا کیا ہو جس طرح کہ اس کا حق تھا، اس لئےیہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق شاملِ حال تھی لیکن ہماری طرف سے کوتاہیاں اور غلطیاں بھی تھیں۔
l عبادت میں کوتاہیوں پر استغفار کریں
اس لئے دوسرا کام یہ ہے کہ استغفار کریں کہ یا اللہ! آپ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں عبادت کی توفیق عطا فرمادی تھی لیکن ہم سے اس میں کوتاہیاں ہوئیں اور ہم  عبادت کو صحیح طریقے سے ادا نہیں کرسکے اسلئے ہمیں معاف فرمادیجئے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ بندہ جب بھی کوئی عمل کرکے استغفار کرتا ہے تو اس کے استغفار کی بدولت اس کی غلطیوں کو معاف کرکے اس کو اپنی بارگاہ میں قبولیت کا مقام عطا فرمادیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نیک مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہ ایسے لوگ ہیں جو رات میں کم سوتے ہیں اور سحری کے وقت میں استغفار کرتے ہیں۔‘‘ (الذاریات:۱۷) رات کو کم سونے کا مطلب یہ ہے کہ رات کے اکثر حصہ میں عبادت کرتے ہیں جس کی وجہ سے سونا کم ہوتا ہے ، پھر صبح کو اٹھ کر اللہ کے حضور استغفار کرتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ لوگ تو ساری رات عبادت میں گزارتے ہیں، پھر صبح کے وقت استغفار کیوں کرتے ہیں؟ تو آپؐ نے جواب میں فرمایا کہ ’’رات میں کی جانے والی عبادت میں ان سے جو کوتاہیاں ہوئی ہیں اس کی وجہ سے استغفار کرتے ہیں کہ یا اللہ! ہم آپ کی توفیق سے آپ کی بارگاہ میں عبادت کے لئے کھڑے تو ہوگئے تھے لیکن جس طرح کرنی چاہئے تھی، اس طرح ہم نہیں کر پائے اس لئے آپ کی بارگاہ میں استغفار کرتے ہیں۔‘‘
lرمضان کی ساعتوں کی قدرکریں
رمضان کا آخری وقت چل رہا ہے ، اس وقت کی قدر کرنی چاہئے۔ اس لئے جس کو اس مہینے میں عبادات اور دیگر طاعات میں لگنے کی توفیق نہیں ہوئی اس کے لئے ابھی بھی دروازہ کھلا ہوا ہے۔ رمضان ختم ہونے میں تقریباً دو یا تین دن باقی ہیں اور یہ دو تین دن تو  بہت بڑی بات ہے ، اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو ایک لمحے میں بھی کسی کی کایاپلٹ سکتی ہے، اس لئے جس کو موقع نہیں ملا وہ اس وقت کو غنیمت جان کر اس سے فائدہ اٹھا لے، اب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دروازہ کھلا ہوا ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
’’اے ایمان والو! اللہ کے حضور خالص توبہ کرلو۔‘‘ (التحریم:۸)
 خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکر و استغفار کریں ، سابقہ زندگی سے توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ باقی ماندہ زندگی تیری مرضی کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK