Inquilab Logo Happiest Places to Work

تقدیر کا سوال کم اور تعلق کی مضبوطی کی دُعا زیادہ کیجئے

Updated: July 03, 2026, 3:13 PM IST | Muhammad Tauqeer Rahmani | Mumbai

انسان نے اپنی زندگی کو سہولتوں سے اس حد تک بھر دیا ہے کہ اب اس کے پاس وقت بچنے کے بجائے کم پڑنے لگا ہے۔ صبح کی دوڑ شام کے تعاقب میں گزرتی ہے، اور شام اگلے دن کی تیاری میں۔ گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر کا سفر محض راستوں کا سفر نہیں رہا، بلکہ ایک مسلسل ذہنی دوڑ بن چکا ہے جس میں انسان اپنی توانائی، توجہ اور احساسات خرچ کرتا رہتا ہے۔

Relation.Photo:INN
رشتہ۔ تصویر:آئی این این

انسان نے اپنی زندگی کو سہولتوں سے اس حد تک بھر دیا ہے کہ اب اس کے پاس وقت بچنے کے بجائے کم پڑنے لگا ہے۔ صبح کی دوڑ شام کے تعاقب میں گزرتی ہے، اور شام اگلے دن کی تیاری میں۔ گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر کا سفر محض راستوں کا سفر نہیں رہا، بلکہ ایک مسلسل ذہنی دوڑ بن چکا ہے جس میں انسان اپنی توانائی، توجہ اور احساسات خرچ کرتا رہتا ہے۔
انسان نے اپنی زندگی کو سہولتوں سے اس حد تک بھر دیا ہے کہ اب اس کے پاس وقت بچنے کے بجائے کم پڑنے لگا ہے۔ صبح کی دوڑ شام کے تعاقب میں گزرتی ہے، اور شام اگلے دن کی تیاری میں۔ گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر کا سفر محض راستوں کا سفر نہیں رہا، بلکہ ایک مسلسل ذہنی دوڑ بن چکا ہے جس میں انسان اپنی توانائی، توجہ اور احساسات خرچ کرتا رہتا ہے۔ دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدل جاتے ہیں، مگر انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے ابھی زندگی شروع ہی کی۔ دن رات کی اس مصروفیت کا سب سے بڑا نقصان یہ نہیں کہ آدمی تھک جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ آہستہ آہستہ اپنی اصل ضرورتوں اور بنیادی تعلقات سے دور ہونے لگتا ہے۔ کبھی اپنے لوگوں کیلئے وقت نہیں نکلتا، کبھی اپنے وجود کیلئے نہیں  اور بعض اوقات اس ہستی کیلئے بھی نہیں جس کے ہاتھ میں وجود کا سارا  نظام ہے۔
یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ انسان جتنا زیادہ طاقتور محسوس کرتا ہے، اتنا ہی زیادہ اندر سے کمزور ہوتا جاتا ہے۔ اس کے پاس ذرائع بڑھتے ہیں مگر سکون کم ہوجاتا ہے، رابطے بڑھتے ہیں مگر تعلق کمزور ہوجاتے ہیں۔ وہ سیکڑوں لوگوں سے بات کرتا ہے لیکن اپنے دل کی بات کہنے کیلئے کوئی جگہ نہیں پاتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو محسوس ہونا چاہیے کہ اس کی زندگی صرف مادی گردش کا نام نہیں، بلکہ اس کے وجود کے اندر ایک ایسی ضرورت بھی ہے جو روٹی، آرام اور کامیابی سے آگے کی چیز مانگتی ہے۔ وہ ضرورت تعلق کی ہے؛ اور تمام تعلقات میں سب سے بنیادی تعلق اپنے خالق سے تعلق ہے۔
دنیا کے ہر رشتے میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ دوست دور ہوسکتے ہیں، تعلقات بدل سکتے ہیں، لوگ حالات کے ساتھ تبدیل ہوسکتے ہیں، لیکن ایک تعلق ایسا ہے جو انسان کی طرف سے کمزور ہوتا ہے، دوسری طرف سے نہیں۔ انسان کبھی غفلت اختیار کرتا ہے، کبھی دور ہوجاتا ہے، کبھی اپنے مسئلوں میں اتنا الجھ جاتا ہے کہ اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ جس سے وہ دور ہورہا ہے، وہ اس سے دور نہیں ہوا۔ خالق کا معاملہ بندوں کے معاملات جیسا نہیں۔ انسان ناراض ہو تو دروازے بند کردیتا ہے، لیکن رب بار بار دروازہ کھولتا ہے؛ انسان بار بار ناکامیوں کے بعد مایوس ہوجاتا ہے، مگر وہ بار بار پکار اور فریاد سننے کیلئے آمادہ رہتا ہے۔
یہ سوچنا بھی قابلِ غور ہے کہ آخر انسان اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں دوسروں سے مشورہ لیتا ہے، اپنے مسائل دوسروں کے سامنے رکھتا ہے، اپنی امیدیں مختلف سہاروں سے وابستہ کرتا ہے، مگر جب معاملہ اپنے رب کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کا آتا ہے تو کیوں تردد محسوس کرتا ہے؟ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انسان نتائج کو دیکھتا ہے، تعلق کو نہیں۔ وہ دعا کو ایک فوری حل سمجھتا ہے، حالانکہ دعا سب سے پہلے ایک تعلق ہے، پھر ایک عبادت، پھر ایک سہارا، اور اس کے بعد ایک قبولیت کا دروازہ۔
اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا: ”سب سے بڑا عاجز وہ ہے جو دعا کرنے میں عاجز ہو۔“ 
ترمذی کی یہ حدیث محض دعا کی ترغیب نہیں دیتی بلکہ انسان کے تصورِ قوت کو بدل دیتی ہے۔ دنیا سمجھتی ہے کہ کمزور وہ ہے جس کے پاس وسائل نہیں، لیکن یہاں بتایا گیا کہ اصل کمزوری یہ ہے کہ انسان کے پاس دروازہ موجود ہو اور وہ دستک نہ دے، خزانہ موجود ہو اور وہ سوال نہ کرے، راستہ کھلا ہو اور وہ چلنے سے انکار کردے۔
ایک اور حدیث میں فرمایا گیا: ”اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ عزت والی کوئی چیز نہیں۔“ 
اس ارشاد میں ایک عجیب پیغام پوشیدہ ہے۔ دنیا میں مانگنے والا اکثر چھوٹا سمجھا جاتا ہے، لیکن یہاں مانگنا عزت بن گیا۔ کیوں؟ اس لئے کہ بندہ جب اپنے رب کے سامنے جھکتا ہے تو دراصل وہ دنیا کے سامنے جھکنے سے بچ جاتا ہے۔ جو ہاتھ خالق کے سامنے اٹھتے ہیں، وہ مخلوق کے سامنے کم پھیلتے ہیں۔
اسی طرح ارشاد فرمایا گیا: ”جو شخص اللہ سے دعا نہیں کرتا، اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے۔“ 
یہ بات عام انسانی تجربے کے برعکس ہے۔ انسان بار بار سوال کرنے والے سے تنگ ہوجاتا ہے، لیکن رب بار بار سوال نہ کرنے والے سے ناراض ہوتا ہے۔ اس لئے کہ انسان کی دعا صرف مطالبہ نہیں، بلکہ بندگی کا اعلان ہے۔ دعا میں انسان کہتا ہے کہ میں کافی نہیں ہوں، مجھے تیری ضرورت ہے، اور یہی احساس بندگی کی روح ہے۔
مومن کی شان یہ نہیں کہ وہ صرف مصیبت میں آسمان کی طرف دیکھے؛ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ راحت میں بھی نگاہ اوپر رکھے، اپنے رب کی طرف۔ تنگی میں بھی دعا کرے اور فراخی میں بھی، آنسو میں بھی اور مسکراہٹ میں بھی۔ کیونکہ اس کے لئے دعا محض الفاظ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا طریقہ ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر دعا کا جواب ایک جیسا نہیں ہوتا؛ کبھی مطلوب چیز مل جاتی ہے، کبھی بہتر چیز ملتی ہے، کبھی وقت بدل دیا جاتا ہے، اور کبھی انسان خود بدل دیا جاتا ہے۔اسی لئے دعا کرتے وقت یہ سوال کم ہونا چاہئے کہ تقدیر بدلے گی یا نہیں، اور یہ احساس زیادہ ہونا چاہئے کہ تعلق مضبوط ہورہا ہے یا نہیں۔ تقدیر کا علم انسان کے پاس نہیں، مگر دعا کا اختیار انسان کے پاس ہے۔ قبولیت کا فیصلہ رب کے ہاتھ میں ہے، مگر جھکنے کا فیصلہ بندے کے ہاتھ میں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK