قرآن مجید میں غور و فکر اور تدبر و تفکر کی طرف راغب کرنے والی ایک عمدہ تحریر۔
EPAPER
Updated: July 03, 2026, 3:08 PM IST | Syeda Abu`l-Hasan Ali Nadvi | Mumbai
قرآن مجید میں غور و فکر اور تدبر و تفکر کی طرف راغب کرنے والی ایک عمدہ تحریر۔
احنف بن قیس ایک بڑے عرب سردار تھے۔ مشہور تھا کہ: اگر احنف کو غصّہ آتا ہے تو ایک لاکھ تلواروں کو غصّہ آجاتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی زیارت تو انہوں نے نہیں کی، مگر آپؐ کی زیارت کرنے والوں کی زیارت کی اور ان کے ساتھ رہے۔ خاص طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بڑے معتقد اور مخلص تھے۔ ایک دن کسی قاری نے یہ آیت تلاوت کی:
’’ ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ہی تذکرہ موجود ہے۔ تم غوروفکر سے کام نہیں لیتے؟ ‘‘(الانبیاء :۱۰)
عربی اُن کی زبان تھی، یہ سن کر چونک پڑے۔گویا نئی بات سنی، کہنے لگے:
’’ہمارا تذکرہ! ذرا قرآن تو لائو، دیکھوں میرا کیا تذکرہ ہے اور میں کن لوگوں کے ساتھ ہوں؟‘‘ قرآن مجید دیکھا تو لوگوں کی صورتیں ان کے سامنے سے گزرنے لگیں۔
ایک گروہ آیا جس کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
’’ وہ لوگ رات کو بہت کم سوتے تھے اور آخر شب میں استغفار کیا کرتے تھے اور ان کے مال میں سائل اور محروم کا حق تھا۔‘‘ (الذاریات :۱۷-۱۹)۔ پھر کچھ ایسے لوگ آئے جن کا حال یہ تھا کہ ’’ ان کے پہلو خواب گاہوں سے علاحدہ ہوتے ہیں۔ وہ لوگ اپنے رب کو اُمید سے اور خوف سے پکارتے ہیں اور ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (السجدہ :۱۶)۔ پھر کچھ ایسے لوگ آئے کہ: ’’اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو راتوں کو اپنے رب کے آگے سجدے اور قیام میں لگے رہتے ہیں۔‘‘ (سورہ الفرقان :۶۴)
پھر ایک قافلہ گزرا جس کی شان یہ تھی کہ:
’’یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔‘‘ (آل عمران:۱۳۴)
ابھی نظر بھر کر ان کو دیکھ نہیں سکے تھے کہ کچھ ایسے جوان مرد سامنے آگئے جن کا عالم یہ تھا: ’’ دوسروں کو اپنے اُوپر ترجیح دیتے ہیں۔ اگرچہ ان کو تنگی و فاقہ ہو، اور (واقعی) وہ، جو اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا جائے بڑا کامیاب ہے۔‘‘ (سورہ الحشر :۹)
ابھی ہٹے ہی تھے کہ ایک دوسرا نمونہ سامنے آیا:
’’جو بڑے بڑے گناہوں سے اور بے حیائی کی باتوں سے بچتے ہیں اور جب ان کو غصّہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں اور جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور و ہ نماز کے پابند ہیں اور ان کا کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے اور ہم نے جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (الشوریٰ:۳۷-۳۸)
حضرت احنف اپنے کو پہچانتے تھے۔ کہنے لگے: ’’خدایا! میں تو ان میں کہیں نظر نہیں آتا۔‘‘ اب انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ اس میں ان کو اور طرح طرح کے آدمی نظر آنے لگے۔
ایک بھیڑ ملی، جس کا حال یہ تھا:
’’جب ان سے کہا جاتا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں تو تکبر کیا کرتے اور کہتے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک شاعرِ دیوانہ کی وجہ سے چھوڑ دیں گے؟‘‘ (سورہ الصّٰفّٰت : ۳۵-۳۶)
اور آگے بڑھے تو کچھ ایسے لوگ ملے کہ:
’’جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں، اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھِل اُٹھتے ہیں۔‘‘ (الزمر :۴۵)
کچھ ایسے بدقسمت بھی (سامنے آئے) کہ جب ان سے کہا گیا:
’’تم کو دوزخ میں کس بات نے داخل کیا؟‘‘ (سورہ المدثر : ۴۲) تو وہ جواب دیں گے: ’’ہم نہ تو نماز پڑھا کرتے تھے اور نہ غریب کو کھانا کھلایا کرتے تھے اور ہم باتیں بنانے والوں کے ساتھ خود بھی مشغول ہوجاتے تھے اور ہم آخرت کا انکار کرتے تھے، یہاں تک کہ ہم کو موت آگئی۔‘‘ (المدثر : ۴۳-۴۴)
حضرت احنف یہ صورتیں دیکھ کر گھبرا گئے۔ کہنے لگے کہ خدایا! ایسے لوگوں سے تیری پناہ! مَیں ان سے بے زار ہوں، اورمجھے ان سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ اپنے متعلق نہ تو دھوکے میں تھے اور نہ ایسے بدگمان کہ اپنے کو مشرکوں اور باغیوں میں سمجھ لیں۔ وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی دولت دی ہے اور ان کا مقام بہت بلند نہ سہی مگر ان کی جگہ مسلمانوں ہی میں ہے۔ ان کو ایسی صورت کی تلاش تھی جس کو وہ اپنی کہہ سکیں۔ ان کو اپنے ایمان کا یقین بھی تھا اور اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا علم بھی۔ اور اللہ کی رحمت اور مغفرت پر بھروسا بھی تھا۔ نہ ان کو اعمال پر غرہ اور غرور تھا اور نہ خدا کی رحمت سے مایوسی۔ ان کو اس ملی جلی صورت کی تلاش تھی اور اس کا یقین تھا کہ وہ صورت اس جامع و مکمل، اس زندہ و تازہ کتاب میں ضرور ملے گی۔
انہوں نے سوچا: کیا ایسے خدا کے بندے نہیں ہیں جو ایمان کی دولت بھی رکھتے ہیں ، اپنے گناہوں اور تقصیروں پر شرمندہ بھی ہیں؟ کیا خدا کی رحمت ان کو محروم رکھے گی؟ کیا اس کتاب میں جو سارے انسانوں کیلئے ہے، ان کی صورت اور ان کا تذکرہ نہیں ملے گا؟ ایسا نہیں ہوسکتا۔
حضرت احنف بن قیس کو بالآخر اپنی تلاش میں کامیابی ہوئی اور اللہ کی اس پاک کتاب میں (انہوں نے) اپنے کو ڈھونڈ نکالا:
’’اور کچھ اور لوگ ہیں جن کو اپنی خطائوں کا اقرار ہے۔ انہوں نے ملے جلے عمل کئے تھے، کچھ بھلے کچھ بُرے۔ اللہ سے اُمید ہے کہ ان کے حال پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائے۔ بلاشبہ اللہ بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے۔‘‘ (سورہ التوبۃ :۱۰۲)
انہوں نے کہا: بس بس مَیں مل گیا (یعنی مَیں جو چاہتا تھا اور جس کی تلاش میں تھا وہ مجھے مل گیا)۔ میں نے اپنے کو پالیا۔ مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے۔ مجھے خدا کی توفیق سے جو کچھ نیک اعمال ہوئے ان کا انکار نہیں۔ ان کی ناقدری نہیں، ناشکری نہیں۔ مجھے خدا کی رحمت سے نااُمیدی نہیں: ’’اللہ کی رحمت سے وہی مایوس ہوسکتے ہیں جو گمراہ ہیں۔‘‘ (سورہ الحجر :۵۶) ان سب سے مل جل کر جو صورت تیار ہوئی وہ میری صورت ہے۔ اس آیت میں میرا اور میرے جیسے بندوں کا حال بیان کیا گیا ہے اور ان کا نقشہ کھینچا گیا ہے، قربان اپنے رب کے جس نے اپنے گناہ گار بندوں کو فراموش نہیں فرمایا۔
حضرت احنف بن قیس کی تلاش کا یہ قصہ ختم ہوگیا۔ وہ اپنے پیدا کرنے والے کے پاس پہنچ گئے، مگر یہ کتاب (قرآن مجید) موجود ہے اور قیامت تک رہے گی۔ قومیں اگر اپنے کو اس میں تلاش کریں گی تو پالیں گی۔ جماعتیں اور مختلف طبقے اگر اپنے کو اس آئینے میں دیکھنا چاہیں تو دیکھ لیںگے۔ افراد ، ہم اور آپ، اگر اپنے کو تلاش کرنے نکلیں گے تو ان شاء اللہ ناکام واپس نہیں ہوں گے۔ حضرت احنف نے ہم کو سچی تلاش کا ایک نمونہ دکھلایا اور قرآن پڑھنے اور اس پر غور کرنے کا صحیح طریقہ سکھا گئے۔ ہمیں اس نمونے اور تعلیم سے فائدہ اُٹھا کر قرآنِ مجید کا مطالعہ شروع کرنا چاہئے۔