کسی ادارے کے لئے کوشش کرنے والا اور اس کا ذمہ دار شخص، جو لوگوں سے ادارے کے لئے رقم جمع کرتا ہے اور ادارے پر خرچ بھی کرتا ہے، تو کیا وہ اپنی ذاتی ضروریات پوری کرنے کے لئے اس رقم میں سے کچھ فیصد اپنے استعمال میں لے سکتا ہے؟
کسی ادارے کے لئے کوشش کرنے والا اور اس کا ذمہ دار شخص، جو لوگوں سے ادارے کے لئے رقم جمع کرتا ہے اور ادارے پر خرچ بھی کرتا ہے، تو کیا وہ اپنی ذاتی ضروریات پوری کرنے کے لئے اس رقم میں سے کچھ فیصد اپنے استعمال میں لے سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو کتنا فیصد؟عبداللہ، ممبئی
باسمہ تعالیٰ ۔ ھوالموفق: بہتر تو یہی ہے کہ ذمے داری سنبھالنے والا (متولی اور نگراں وغیرہ) اپنی ذمے داریاں فی سبیل اللہ نبھائے تاہم اس کام میں جو وقت صرف ہوتا ہے وہ اس کا مناسب معاوضہ لے سکتا ہے مگر اپنی منشا کے مطابق نہیں بلکہ مسجد کمیٹی اس کی خدمات اور وقت کو دیکھتے ہوئے کوئی اجرت مقرر کردے تو اس کے لینے میں حرج نہیں۔ اجرت کے مقرر کرنے میں بھی یہ دیکھاجائےگا کہ اس کام کے لئے کسی کو مقرر کیا جاتا تو اسے کیا معاوضہ دینا پڑتا۔ فیصد کا اس باب میں کوئی تصور نہیں، اصل اجرت مثل ہے یعنی عرف میں ایسے کاموں کی جو اجرت رائج ہو اس کے بقدر دیا جائے۔ کمیٹی نہ ہو تو متدین (دین دار) صاحب ِ بصیرت معزز حضرات کے مشورے سے اجرت طے کرلی جائے ،خود من مانی اجرت بہر حال درست نہیں ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم
طلاق رجعی
ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دی ہے، اب بیوی واپس شوہر کے ساتھ رہنے کیلئے تیار نہیں ہے تاہم شوہر نے رجوع کی نیت سے یہ الفاظ بیوی کو کہے :’’میں اپنی غلطی قبول کر رہا ہوں، میں معافی مانگنے تیار ہوں آئندہ نہیں کہوں گا‘‘ تو ان الفاظ سے رجوع ہو جائے گا؟احمد،ناگپور
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: طلاق کے لئے کچھ صریح الفاظ ہیں جو طلاق کے لئے خاص ہیں جنہیں ہر سننے والا سن کر یہی سمجھتا ہے کہ اس شخص کی مراد طلاق ہے ایک یا دو طلاق کی صورت میں عدت کے ختم ہونے سے پہلے تک شوہر کو رجوع کا اختیار رہتا ہے۔ کچھ الفاظ وہ ہیں جن سے طلاق باین واقع ہوتی ہے۔ باین میں میاں بیوی کی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ طلاق صریح ہو یا باین تین کے بعد نہ رجوع کی کوئی صورت ہوتی ہے نہ دوبارہ نکاح کی ، صریح ایک یادو طلاق میں رجوع کے لئے ضروری ہے کہ ایسا کوئی لفظ استعمال کیا جائے جن سے پتہ چلتا ہو کہ شوہر مطلقہ کو پھر سے بیوی کی حیثیت سے اپنے ساتھ رکھ رہا ہے ۔جن الفاظ میں دو پہلو ہوں جیسے یہ کہنا کہ تو میرے لئے پہلے جیسی ہے، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ تو جیسے پہلے بیوی تھی ویسے ہی اب بھی ہے ،دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جیسے پہلے ناپسند تھی ویسے ہی اب بھی ہے ، اس طرح کے الفاظ میں نیت ہو تب رجوع مانا جائےگا۔ سوال میں جو الفاظ مذکور ہیں وہ اظہار ندا مت وغیرہ تو ظاہر کررہے ہیں مگر رجوع نہیں ثابت کرتے اس لئے جب تک یہ نہ کہے کہ طلاق واپس لیتا ہوں یا بیوی کی حیثیت سے ایک بار پھر ساتھ میں رکھ رہا ہوں محض ان الفاظ سے رجوع متحقق نہیں، عدت باقی ہو تو صراحت کے ساتھ رجوع کرے، عدت گزرچکی ہو تو مطلقہ رجعی کو رضامند کرکے دوبارہ نکاح کرے ۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
نماز کے مسائل
عرض یہ کرنا کہ اگر کسی کی ایک یا دو رکعت نکل گئی تو کیا آخری قعدہ میں تشہد کے بعد درود شریف اور دعا اخیر تک پڑھ سکتا ہے یا پھر تشہد کے بعد خاموش رہے اس کی وضاحت فرمائیں کہ مسبوق کیا کرے ۔شکیل شیخ، وسئی
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: جو نمازی پہلی رکعت ہی سے شریک جماعت ہے اسے مدرک کہاجاتاہے اور جس کی کوئی رکعت چھوٹ گئی ہو اسے مسبوق کہتے ہیں۔ جو ابتدا سے شریک ہے وہ شروع سے آخر تک تمام ارکان میں امام کا متبع ہے۔ سلام بھی وہ امام کے ساتھ ہی پھیرے گا۔ مسبوق امام کے سلام پھیرنے تک تمام حرکات وسکنات میں امام کی پیروی کرے گا مگر امام کے ساتھ سلام پھیرنے کے بجائے امام کی نماز مکمل ہوجانے کے بعد اٹھ کر اپنی مابقیہ نماز مکمل کرکے قعدہ اخیرہ کے بعد سلام پھیردے گا۔ امام کے قعدہ اخیرہ میں بھی اسے امام کے ساتھ بیٹھنا ہوگا لیکن صرف التحیات پڑھے گا اس کے بعد یہ دعائے ماثورہ وغیرہ کا مکلف نہیں اس لئے تشہد پڑھ لینے کے بعد خاموش بیٹھا رہے یا پھر تشہد اس طرح پڑھے کہ امام کے سلام پھیرنے تک اس کی تشہد مکمل ہوسکے تاہم اگر اس نے تشہد کے بعد درود اور دعائے ماثورہ بھی پڑھ لی تو چنداں حرج نہیں ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم
(۲)
ایک مسئلہ یہ معلوم کرنا تھا۔ ظہر کی نماز میں امام صاحب پہلی ۲؍ رکعتوں پر نہیں بیٹھے اور ۳؍ پر بیٹھ گئے پھر کھڑے ہو گئے اور ۴؍ رکعت میں سجدہ سہو کر کے نماز مکمل کی تو اِس طرح نماز مکمل ہو گئی یانہیں؟سلیم اللہ ، مالیگاؤں
باسمہ تعالیٰ۔ھوالموفق: اگر نماز میں سہوا ً کوئی واجب ترک ہوجائے یا کسی رکن کی ادائیگی میں تاخیر لازم آئے تو اس عمل سے پیدا ہوجانے والی کمی کی تلافی سجدہ ٔسہو سے ہی ممکن ہوتی ہے۔ صورت مسئولہ میں امام صاحب دوسری رکعت پر بیٹھنے کے بجائے سیدھا کھڑے ہوگئے جس کی وجہ سے ایک واجب ترک ہوگیا، پھر تیسری رکعت کے بعد چوتھی کے لئے کھڑا ہونا تھا مگر وہ بے محل قعدہ کے لئے بیٹھ گئے جو تاخیر کو مستلزم ہے اوریہ تاخیر بھی سجدۂ سہو کے وجوب کا ایک سبب ہے۔ اس صورتحال میں نقصان کی تلافی کیلئے سجدۂ سہو ضروری تھا۔ اگر امام صاحب آخر میں سجدۂ سہو نہ کرتے تو نماز ناقص رہتی لیکن جب انہوں نے سجدہ ٔ سہو کرلیا ہے تو نماز مکمل ہوگئی۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم