Inquilab Logo Happiest Places to Work

قرآنی تمثیلات کا سبق

Updated: October 15, 2021, 3:58 PM IST | Saifullah Asghar

تمثیلات کے ذریعے قرآن مجید فہمِ دین اور روحِ دین اپنے مخاطبین کے دلوں میں اتارنا چاہتا ہے تا کہ وہ حقیقت سے اچھی طرح واقف ہو جائیں اور دین پر عمل کرنا آسان ہو جائے

Only those who understand this book with translation can understand the meaning of the parables of the Qur`an.Picture:INN
قرآن مجید کی تمثیلات کا مفہوم وہی سمجھ سکے گا جو اللہ کی اس کتاب کو ترجمہ کے ساتھ سمجھ کر پڑھے گا۔ تصویر: آئی این این

 قرآن مجید تعلیماتِ الٰہی اور احکام کی تفہیم کے لئے مختلف اسلوب اختیار کرتا ہے ۔ کبھی قصے کا اسلوبِ بیان اختیار کرتا ہے، کبھی ترغیب وترہیب کا پیرایۂ بیان ، تو کبھی تشبیہ وتمثیل کا انداز۔ اس تبدیلیٔ پیرایۂ بیان کا مقصد یہ ہے کہ حقائق ومعانی  اور  احکام وفرامین، ذہنوں اور دلوں میں پورے طریقے سے بیٹھ جائیں۔تمثیل (allegory) کا اسلوب بھی اسی مقصد کے لئےہے، تاکہ اعلیٰ حقائق دل کی گہرائیوں میں اتر جائیں، دل  ودما غ کے دریچوں میں اچھی طرح رچ بس جائیں۔ تمثیل ادب کی ایک دل نواز قسم ہے، جو بات کو سمجھانے کے لئےتیر بہ ہدف کا اثر رکھتی ہے۔ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ہر پیغمبر ، حکیم ، خطیب ، مصنف اور ہر استاد تمثیلات وتشبیہات کو بھی اختیار کرتا ہے۔ اسی وجہ سے انبیاء وحکما ءکے کلام میں اس کی بڑی کثرت پائی جاتی ہے۔
سیدنا مسیح علیہ السلام ایسی ایسی تمثیل دیتے ہیں کہ بڑے سے بڑا عقلی استدلال بھی وہاں پھیکا معلوم ہوتا ہے ۔ حکماء وصوفیاء میں تمثیلات کے امام مولانا رومی ؒ کو مانا جاتا ہے۔ احادیث میں بھی جابجا تمثیلات ملتی  ہیں کیوں کہ اعلیٰ حقائق اور روحانی نکات کو جب تک تمثیل کی شکل میں نہ بیان کیا جائے، اس وقت تک وہ عام عقل کی گرفت میں نہیں آتے۔تمثیل کی اسی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اہل قلم حضرات نے قرآنی تمثیلات کے مختلف موضوعات کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر مولانا مودودی ؒ کی تحریروں سے مرتب کردہ تمثیلات قرآنی، خالد محمود کی امثال القرآن اور عربی میں الامثال فی القرآن  محمود بن شریف کی تالیف ہے۔ اس کے علاوہ عربی زبان میں علوم القرآن کے موضوع پر موجود تقریباً تمام کتابوں میں اس عنوان کے تحت بحث ملتی ہے۔ مثال کے طور پر: مناہل العرفان فی علوم القرآن، مباحث فی علوم القرآن اور الاتقان فی علوم القرآن  وغیرہ۔
تمثیلاتِ قرآنی کی اقسام
تمثیلات قرآنی کی دو قسمیں ہیں:
۱- ایک تمثیل کی وہ صورت ہے، جس میں لفظ ’مثل‘ کی صراحت ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ایسی بہت سی آیات ہیں جن میں لفظ ’مثل‘ مذکورہ ہے۔ مثلاً :
مَثَلُ الَّذِيْنَ سے ختم آیت عَلِيْمٌ (تک) (البقرہ:۲۶۱) ’’جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیںان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔ اس طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے افزونی عطا فرماتا ہے۔ وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی۔‘‘
اس آیت میں لفظ ’مثل ‘ کا استعمال کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں خرچ کی گئی   مال و دولت کا اجر وثواب بتا رہا ہے۔ فرمایا کہ  جو مال اللہ تعالیٰ کی خوش نودی کی خاطر لوگوں میں خرچ کیا جائے گا اس کا اجر وثواب کیسے دو گنا، تین گنا سےلے کر سات سو گنا تک ہو جائے گا ۔ تم اسے ایک دانے کی مثال سے سمجھو۔یہ بات سب کے مشاہدے میں ہے کہ ایک دانہ بویا جاتا ہے اس سے کئی بالیاں اور شاخیں نکلتی ہیں۔ پھر ان شاخوںاور بالیوں سے بے شمار دانے اور غلّہ پیدا ہوتا ہے۔
ایک دانے کی مثال دے کر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سمجھا رہا ہے کہ جس ربّ کی یہ شان اور قدرت ہے کہ مناسب موسم اور صحیح طریقے سے بوئے گئے ایک دانے سے وہ کئی سو دا نے پیدا کرسکتا ہے، تو کیا اس ربّ کی یہ شان نہ ہو گی کہ صحیح جگہ اور درست نیت سے خرچ کیا ہوا مال کا اجر وثواب بھی کئی سو گنا بڑھا کر دے؟
اس کے بالکل بر عکس جو لوگ مال ودولت لوگوں پر احسان جتانے کے لئےیا اانہیں بُرا بھلا کہہ کر خرچ کرتے ہیں، انہیں اس خرچ کا ذرہ بھر بھی اجر و  ثواب ملنے والا نہیں ہے۔ اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے کتنے دل نشین انداز میں مثال سے سمجھایا ہے کہ ہر خاص وعام کی سمجھ میں فوراً اور آسانی سے آ جائے ۔
فرمایا : ’’ریا کارانہ خرچ اور احسان جتا کر ، دلوں کو دُکھا کر کیا گیا خرچ ایسے ہی برباد اور    نیست ونابود ہو جائے گا جیسے ایک صاف شفاف چٹان ہو اور اس پر مٹی پڑی ہوئی ہو۔ جب اس مٹی پر بارش کی ایک ہلکی سی پھوار پڑتی ہے تو وہ چٹان بالکل صاف اور چکنی ہو جاتی ہے جیسے اس پر مٹی تھی ہی نہیں ۔ بالکل اسی طرح اس خرچ پر کوئی اجر وثواب نہیںملنے والا ہے جو لوگوں کو دکھانے کیلئے اور احسان جتا کر کیا گیا ہو گا۔‘‘  (البقرہ:۲۶۵)۲- دوسری وہ تمثیل ہے، جس میں لفظ ’مثل‘ کی صراحت نہ ہو، لیکن معنوی طورپر تمثیل کا انداز پایا جاتا ہے، جیسے غیبت کی کراہت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ،تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے ۔‘‘  (الحجرات :۱۲)اس آیت میں لفظ ’مثل‘ کا ذکر نہیںہے، لیکن معنوی مثال دے کر غیبت کی شناعت ، حرمت اور اس کے گھنائونے پن کو واضح کر دیا ہے۔ آدمی کا کسی کی غیبت کرنا کتنا گھنائونا اور بدمزہ کام ہے کہ اسے مثال دے کر بتایا گیا کہ اگر کوئی مسلمان اپنے بھائی کی پیٹھ پیچھے برائی کرتا ہے تو گویا وہ اپنے ہی مُردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہے۔ اس مثال میں دو باتیں قابل غور ہیں۔ ایک تویہ کہ مُردہ گوشت کھانے سے طبیعت کو گھن آتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کے گھنائونے پن میں اور اضافہ ہو جائے گا جب وہ مردہ گوشت خود اپنے بھائی کا ہو۔ گویا جب ہر آدمی اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانے سے گھن کھاتا ہے تو اس سے یہ لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہر شخص کو اپنے بھائی کی غیبت سے بھی گھن آنی چاہئے اور اس سے بچنا چاہئے۔
تمثیلات کے فوائد
    عقلی چیز کو حسی چیز میں پیش کرنا کیوں کہ کبھی کبھی عقلی باتیں اس وقت تک دل و دماغ میں پیوست نہیں ہو پاتیں جب تک انھیں حسی قالب میں نہ ڈھالا جائے جیسے اللہ تعالیٰ نے نمود و نمائش کے لئےخرچ کرنے والوں کا حال بیان کیاہے کہ انہیں ان کے انفاق کا کوئی اجرو ثواب نہیں ملے گا۔ دکھا وا اور ریا کی غرض سے خرچ کئے ہوئے مال پر اجر و ثواب کا نہ ملنا ایک عقلی بات ہے۔ اسے حسی صورت میں یوں بیان کیا کہ اس ریا کارانہ صدقے کی حالت ایسی ہے جیسے پتھر کی چکنی چٹان جس پر خاک پڑی ہو اور موٹے قطروں کی بارش اس پر برسے اور اسے صاف چکنا کر کے چھوڑ دے۔
    اصل حقیقت سے پردہ اُٹھانا ، پردئہ خفا سے معرض وجود میں لانا ، جیسے سورئہ بقرہ میں سود کھانے والوں کی حالت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اصل حقیقت سے پردہ اُٹھایا ہے: ’’جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ کھڑے نہ ہوں گے مگر اس طرح کہ جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے۔‘‘(البقرہ:۲۷۵)
اس آیت میں سود خوروں کی اصل حقیقت بے نقاب کی گئی ہے۔ اس لئےکہ ان لوگوں نے حلال وحرام کو برابر کر دیا، سوداور بیع کو یکساں سمجھا۔ ظاہر ہے کہ حلال وحرام کو برابر سمجھنا حواس باختہ انسان کا ہی کام ہے۔ اسی لئےان لوگوں کی سزا یہ قرار دی گئی ہے کہ قیامت کے دن وہ اپنی قبروں سے دیوانوں کی طرح مخبوط الحواس اُٹھیں گے۔ 
تمثیل کا پیرایۂ بیان ترغیب وترہیب کے لئےبہت موزوں ہوتا ہے۔دنیا میں بے شمار انسان ایسے ہیں جو باتوں کو بڑی دیر میں یا مشکل سے سمجھ پاتے ہیں۔ ان کے لئےتمثیلی انداز بیان زیادہ موزوں ہوتا ہے اور وہ مثالوں کو جلدی سمجھ جاتے ہیں ۔
تمثیلا ت کے مقاصد
تمثیلات کے ذریعے قرآن مجید فہمِ دین اور روحِ دین اپنے مخاطبین کے دلوں میں اتارنا چاہتا ہے تا کہ وہ حقیقت سے اچھی طرح واقف ہو جائیں اور دین پر عمل کرنا آسان ہو جائے۔
 قرآن مجید نے خود ان تمثیلا ت کے دو مقاصد بتائے ہیں:
 (۱)تذکرہ اور یاد دہانی کے طور پر، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا :’’ ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تا کہ لوگ یاددہانی حاصل کریں۔‘‘ (الزمر :۲۷)شیخ عزالدین ؒ فرماتے ہیں کہ ’اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں امثال اس لئےبیان کی ہیں تاکہ اس سے بندوں کو یاد دہانی اور نصیحت کا فائدہ حاصل ہو۔
(۲) تفکر، یعنی غور وفکر کرنے کے لیے، جیسا کہ اس آیت میں ہے :
’’اور ہم  یہ مثالیں لوگوں کے لئےاس لئے بیان کرتے ہیں کہ وہ غور وفکر کریں۔‘‘(الحشر : ۲۱)
 انہی اغراض ومقاصد کیلئےدیگر آسمانی کتابوں میں بھی ضرب الامثال کا کثرت سے استعمال ہوا ہے۔قارئین کو معلوم ہونا چاہئے کہ  انجیل کے ایک باب کا نام ہی سورۃ الامثال ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK