ادبی نشستوں کے ذریعہ سنجیدہ ادب کی ترویج ہوتی ہے

Updated: February 09, 2020, 3:17 PM IST | Shamsur Rehman Farooqui

ان کی افادیت اس وقت بہت مستحکم ہوجاتی ہے جب ان میں شرکاء اعلیٰ معیار کے ہوں اور اعلیٰ ظرف بھی رکھتے ہوں یعنی ان میں تنقید اور نکتہ چینی برداشت کرنے کی صلاحیت ہو۔ نوجوانوں میں وہ اخلاقی جرأت ہونا چاہئے کہ بڑے بڑے لکھنے والوں پر بھی مدلل نکتہ چینی کرسکیں اور بڑے بڑے لکھنے والوں میں وہ ظرف ہونا چاہئے کہ نوجوانوں کو انگیز کرسکیں اور اس خوف کو ترک کریں کہ اگر ان کی ہمت افزائی ہوئی تو وہ بزرگوں کو تخت سے اتار دیں گے۔

ادبی نشستوں کے ذریعہ سنجیدہ ادب کی ترویج ہوتی ہے
ادبی نشست کی ایک پینٹنگ ۔ تصویر : آئی این این

 ادبی نشستوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ خاص کر ان ملکو ںمیں جہاں مشاعرہ یا مشاعرہ نما صحبتوں کا رواج نہیں ہے، وہاں ان کی ضرورت اور اہمیت ہمیشہ تسلیم کی جاتی رہی ہے۔ ہندوستان، روس اور ایران میں مشاعروں، مشاعرہ نما محفلوں کا رواج عرصے سے ہے لیکن اب ان ملکوں میں بھی ادبی نشستیں، ادبی صورت ِ حال کا ایک اہم حصہ بن گئی ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ایسی تمام تر مجالس کسی ادارے یا کمیٹی کے زیراہتمام ہی قائم کی جائیں یا ان میں کوئی باقاعدہ صدر یا سکریٹری ہو، بلکہ اکثر تو انہیں نشستوں کا سلسلہ تادیر قائم رہا ہے جس کے انتظام میں کسی ادارے یا کمیٹی یا تنظیم کو دخل نہ تھا۔
 پرانی نشستوں کا ذکر کیجئے تو ڈاکٹر جانسن اور اس کے حلقے کا خیال آنا لازمی ہے۔ اس حلقے میں مشہور ایکٹر گرک، مشہور مصور جوشوا رینالڈس، معروف نقاد اور حاضر جواب آرتھ ناٹ  کے علاوہ سوئفٹ کبھی کبھی اور گولڈ اسمتھ اکثر موجود رہا کرتے تھے۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ حلقے کی مجلسیں باقاعدہ کسی پروگرام کے تحت ہوتی تھیں یا ان میں مضمون یا شعرخوانی کا بھی طریقہ تھا، لیکن تازہ ادبی تخلیقات، ادبی افواہوں اور اخبار اور قدمائے کلام پر بحث اکثر ہوجایا کرتی تھی۔ گولڈ اسمتھ جو شکل و صورت کا بہت معمولی اور بول چال میں نہایت کمزور تھا، کبھی کبھی دوستوں کے طنز و مزاح کا ہدف بھی بنتا۔ اس کے نتیجے میں اس نے اپنی لاجواب طنزیہ نظم ’’جوابی کارروائی‘‘ (Retaliation)  لکھی جس میں اس نے نام بہ نام بیان کیا کہ اس کی موت کے بعددوست کس کس طرح اس کا ماتم کریں گے۔ ادبی نشستوں کے ذریعہ شاعر کی تخلیقی قوتوں کو کچھ نہ کچھ تحریک ضرور ملتی ہے، اس کے ثبوت میں گولڈ اسمتھ کی یہ نظم ہی کافی ہوگی۔
 غیررسمی قسم کی نشستوں کے سلسلے اگرچہ دیرپا ہوتے ہیں لیکن وہ اکثر ایک دو لوگوں سے اس طرح   پیوستہ ہوتے ہیں کہ ان کے بعد ہر سلسلہ ختم ہی ہوجاتا ہے۔ پھر بھی یہ درست ہے کہ جب تک یہ سلسلہ قائم رہے اور نشستوں میں حصہ لینے والے لوگ معیاری ہوں تو شاعر اور سامع دونوں کی تخلیقی اور تنقیدی قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ وہاں بھی ممکن ہے جہاں کسی تخلیق پر باقاعدہ بحث اور گفتگو نہ ہو، جیسا کہ ڈاکٹر جانسن کے یہاں کا رواج تھا۔ عرصہ ہوا جب ہم لوگوں نے (ہم لوگوں سے میری مراد ہے اعجاز صاحب، احتشام صاحب، حبیب احمد صدیقی اور خود میں۔ افسوس کہ ان میں سے تین  اب اس دنیا میں نہیں ہیں )  الہ آباد میں ماہانہ شعری نشستوں کا سلسلہ شروع کیا تو تھوڑے ہی عرصے میں تازہ گویوں کی ایک قابل لحاظ جماعت سامنے آگئی۔ ان میں سے بعض ایسے بھی تھے جو پہلے شعر کہتے ہی نہیں تھے اور ایسے بھی جو محض تفریحاً یا روایتی قسم کی مصرعے بندی والی شاعری کرتے تھے۔ حبیب صاحب کے اور پھر میرے چلے آنے کے بعد میں نشستوں کا یہ سلسلہ بند ہوگیا اور ہزار کوشش کے باوجود دوبارہ اس طرح قائم نہ ہوسکا۔ ایسی ہی مثال بلکہ اس سے زیادہ نمایاں مثال لکھنؤ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی نشستوں کی ہے جن کے روح رواں سرور صاحب اور احتشام صاحب تھے۔ ان لوگوں نے شہر چھوڑا تو وہ جلسے ہی اپنی آب و تاب کھوبیٹھے اور تخلیقی سرگرمی کا ایک عظیم سرچشمہ خشک ہوگیا۔
 روس میں مایاکافسکی اور السینیسن گھنٹوں  اپنا کلام مجمع کثیر کے سامنے سنایا کرتے اور لوگ مبہوت سنتے رہتے ۔ ہندوستان میں میرانیس اور بعد میں جگر صاحب کا بھی یہی عالم تھا۔ انگلستان اور امریکہ میں بھی ایسی محفلیں عام تھیں جن میں دو یا تین شاعر اپنا کلام بڑے مجمع میں سناتے تھے۔ سوا سو برس پہلے ڈکنس امریکہ کے شہر شہر میں اپنے ناول سناتے پھرتے، اور تیس چالیس برس پہلے ڈین ٹامس انگلستان سے امریکہ تک کی بڑی بڑی محفلوں میں اپنا اور دوسروں کا کام سناتے تھے۔ ہندوستان میں ہمارے عہد سے قریب تر زمانے میں نذرالاسلام کی بھی مثال ایسی ہے۔ یہ سب کارروائیاں ادبی نشست کے زمرے میں آتیں لیکن ادبی نشستیں نہ ہوتیں تو  ایسے اجتماعات کا بھی تصور نہ ہوتا۔ اس صدی میں شروع میں لندن میں ایزراپاؤنڈ اور لاہور میں پچھلی صدی کے اواخر میں محمد حسین  آزاد اور حالیؔ باقاعدہ ادبی نشستیں کرتے تھے جن میں شاعری پر بحث اور شعر خوانی ہوتی تھی۔ ایزرا پاؤنڈ کی محفلوں سے ٹی ایس ایلیٹ جیسا جوہر چمکا اور حالیؔ و آزادؔ کی مجلسوں نے اردو میں جدید شاعری کی طرح ڈالی۔
 ادبی نشستوں کی افادیت اس وقت بہت مستحکم ہوجاتی ہے جب ان میں شرکاء اعلیٰ معیار کے ہوں اور اعلیٰ ظرف بھی رکھتے ہوں یعنی ان میں تنقید اور نکتہ چینی برداشت کرنے کی صلاحیت ہو۔ انگلستان کے نئے  دستخط والے چند شعراء ہفتے میں ایک دن مقررہ وقت اور جگہ پر ملتے۔ محفل میں صرف کافی پینے کو ملتی تھی۔ ایک شاعر نظم یا نظمیں پڑھتا اور حاضرین اس پر نقدوتبصرہ کرتے۔ سخت سے سخت نکتہ چینی کو بھی خندہ جبینی سے برداشت کرنا اور اپنے کام کا سنجیدہ دفاع کرنا پڑتا تھا۔ اس کی سب سے اچھی مثال ملارمےؔ کی محفلیں ہیں جو سالہا سال تک منگل کے منگل اس کے پیرس والے مکان پر منعقد ہوتی تھیں۔ مشروبات میں صرف کافی یا ہلکی شراب کی اجازت تھی۔ ملارمےؔ اپنی مسحورکن آواز میں گفتگو کرتا اور والیریؔ جیسے نقاد اور شاعر  اور دیگاؔ جیسے مصور دم بخود سنتے رہتے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ والیریؔ کے بہت سے خیالات کا سرچشمہ ایسی ہی محفلیں تھیں۔ ان لوگوں سے پہلے جرمنی میں گوئٹے کے یہاں ایسی ہی مجلسیں گرم ہوتی تھیں۔ گوئٹے بولتا تھا اور حاضرین سنتے تھے۔
 کولرج، جو گفتگو کا دلدادہ اور اعلیٰ درجے کی طویل گفتگو پر قادر تھا، اس طرح کی محفلوں کا بانی کہا جاسکتا ہے۔ ہمارے ملک میں مولانا مناظر احسن گیلانی کی شخصیت بھی کچھ ایسی تھی۔ مولانا ابوالحسن ندوی لکھتے ہیں کہ مولانا مناظراحسن گھنٹوں سرجھکائے بولتے رہتے۔ کبھی کبھی وہ (علی میاں) کسی ضرورت سے اٹھ بھی جاتے لیکن ان کو خبر نہ ہوتی۔ اچانک چونکتے تو دیکھتے کہ واحد سامع بھی غائب ہے۔ ایسا ہی واقعہ ایک بار کولرج کے ساتھ پیش آیا تھا جب چارلس لیم اسے سڑک پر بولتا چھوڑ کر دفتر چلا گیا تھا۔ (کولرج بولتے وقت آنکھیں بدن کرلیتا تھا) شام کو واپسی میں لیم نے کولرج کو اسی جگہ، اسی عالم میں بولتا ہوا پایا!
 مرحوم اعجاز صاحب کے تھرس ڈے کلب نے الہ ٰ آباد میں ادبی ذوق اور علمی ماحول کی تربیت  میں بڑا حصہ لیا تھا۔ اعجاز صاحب اس کے باقاعدہ صدر نہ تھے (صدر کوئی نہ تھا) لیکن کلب کی نشستیں انہی کے دولت کدے پر ہوتی تھیں۔ جس زمانے سے میں باقاعدہ حاضر ہونے لگا اس وقت احتشام صاحب الہ آباد آچکے تھے اور محفلوں کا رنگ ہی اور تھا۔ باہر سے آنے والا تقریباً ہر اہم ادیب اعجاز صاحب کے یہاں ٹھہرتا اور ہم لوگ کلب کی وساطت سے  اس سے بحث مباحثہ کرتے۔
 موجودہ زمانے میں گلی گلی  انجمنیں قائم ہیں۔ ان کی نشستیں اکثر پابندی اور کبھی کبھی دھوم دھام سے ہوتی ہیں لیکن مجھے ان جلسوں میں کوئی لطف نہیں آتا کیونکہ سارا سامانِ تکلف ہوتا ہے۔ واہ واہ کے ڈونگرے برستے ہیں اور سطحی سے سطحی کلام یا پست سے پست مضمون یا لغو سے لغو افسانے سن کر بھی حاضرین احتجاج نہیں کرتے۔ ایک زمانہ وہ تھا جب لوگ شاعر کو سرِ مشاعرہ ٹوک دیا کرتے تھے اور لفظ یا ترکیب یا  محاورے کی سند طلب کرتے تھے۔ ایک زمانہ یہ ہے کہ سخن شناس مفقود ہیں اور ناشناس خود کو بحر ادب کا شناور اور دریائے معانی کا غواص سمجھتے ہیں۔ ایک نکتہ یہ بھی قابل غور ہے کہ اگر بحث و تنقید کھل کر ہو بھی لیکن اس میں شریک ہونے والے لوگ پست معیار کے ہوں تو ایسی بحث و تنقید فائدہ مند کے بجائے مضر ہوتی ہے۔ نوجوانوں میں وہ اخلاقی جرأت ہونا چاہئے کہ بڑے بڑے لکھنے والوں پر بھی مدلل نکتہ چینی کرسکیں اور بڑے بڑے لکھنے والوں میں وہ ظرف ہونا چاہئے کہ نوجوانوں کو انگیز کرسکیں اور اس خوف کو ترک کریں کہ اگر ان کی ہمت افزائی ہوئی تو وہ بزرگوں کو تخت سے اتار دیں گے۔ ادبی نشستوں کا چلن بڑھنا چاہئے۔
 ادبی نشستوں کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ ان کے ذریعہ سنجیدہ ادب کی ترویج ہوتی ہے اور گمنام لیکن قابل قدر شعراء کی شہرتیں بنتی ہیں۔ ٹیگور کا کلام اگر لندن کے ادبی حلقوں کی توجہ کا مرکز نہ بنتا اور ادبی مجالس میں ان کا ذکر مسلسل نہ ہوتا رہتا تو انہیں نوبیل انعام شاید ہی ملتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK