وقت کے دھارے میں بہہ کر علم دین سے ناواقف دنیا دار قسم کے لوگ اگر متاع دنیا کے ساتھ ملوث ہو جائیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں کہ وہ لوگ دنیا کی حقیقت سے ناواقف ہیں لیکن افسوس علمائے دین پر ہے کہ جب وہ عنداللہ و عندالرسول دنیا اور متاع دنیا کی ناپسندیدگی اور مضرت معلوم کر چکے ہیں تو اس کی طرف کیونکر راغب ہو سکتے ہیں؟
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این
اس وقت غیر اسلامی مغربی تہذیب و تمدن نے تمام دنیا کو گھیرے میں لیا ہوا ہے جس کو ممالکِ اسلامیہ بھی اپنائے جا رہے ہیں، لیکن اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ زندگی کی کشتی کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا جائے اور وہ اس کو جس طرف لے جانا چاہے، لے جانے دیا جائے، کیونکہ اسلام ہر زمانہ میں اپنے غالب رہنے کے اصول دیتا ہے اور ایسی تدبیریں بتلاتا ہے جن کے ذریعہ سے ہر زمانہ میں اصلاح کی جا سکتی ہے اور انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ ارشاد ہے: ’’ اللہ وہ ہے جس نے بھیجا اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو غالب کر دے تمام دینوں پر اور کافی ہے اللہ گواہی کے لئے۔‘‘(الفتح: ۲۸) حدیث میں ارشاد ہے : ’’اسلام اونچا رہتا ہے، پست نہیں ہوتا۔‘‘(سنن دارقطنی، ۳/۲۵۲)ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’ اور اللہ اپنے نور کو پور ا کر کے رہے گا، چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘ (الصف: ۸) ارشاد ہے : ’’ جو لوگ ہمارے حق میں مشقت برداشت کرتے ہیں، ہم ان کو ضرور اپنے راستے بتلا دیتے ہیں اور بے شک اللہ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔‘‘ (العنکبوت: ۶۹)
یہ اور ان کے علاوہ اور بہت سی آیات اور احادیث دلالت کر رہی ہیں کہ دینِ اسلام کو عالم گیر اصلاح کے لئے پیش کیا گیا ہے :
’’ دین حق اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔‘‘(آل عمران:۱۹)
’’ جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کو تلاش و اختیار کرے گا، اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خائب و خاسر ہو گا۔‘‘ (آل عمران: ۸۵) اس قسم کی آیات اور احادیث ہر مسلک کے علمائے ’’ خیر امت‘‘ سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں اور باتوں پر اپنے یقین اور اعتقاد کا عملی ثبوت پیش کریں اور اس غیر اسلامی مغربی تہذیب و تمدن کے بے پناہ سیلاب سے امتِ مسلمہ کو نجات دلانے اور پاک کرنے کا پورا بندوبست کریں۔ آپ ہی اس وقت اس امت کے قائد ہیں اور سب سے پہلے عنداللہ جواب دہ ہیں اور حسبِ فیصلہ و وعدہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت آپ کے لئے وقف ہے ۔ پہلے اس بات پر جزم و یقین ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال ہو گا کہ دنیا میں جب تمہاری موجودگی میں یہ حالات پیش آرہے تھے تو تم نے ان حالات کے درست کرنے کے لئے حسب ِ استطاعت کیا کچھ کیا تھا؟ اس کے جواب میں اعذار اور حیلے مسموع نہیں ہوں گے۔ وقت کے دھارے میں بہہ کر علم دین سے ناواقف دنیا دار اگر متاع دنیا کے ساتھ ملوث ہو جائیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں کہ وہ لوگ دنیا کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔ لیکن افسوس علمائے دین پر ہے کہ جب وہ عنداللہ و عندالرسول دنیا اور متاع دنیا کی ناپسندیدگی اور مضرت معلوم کر چکے ہیں تو اس کی طرف کیونکر راغب ہو سکتے ہیں؟ قرآن مجید کی بہت سی آیات اور احادیث ِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں دنیا کی محبت اور اس کی طرف رغبت سے روکا گیا ہے۔ کہیں پوری دنیا کو ’’متاع قلیل‘‘ کہہ کر اس کی تحقیر کی گئی ہے : ’’اے نبی کہہ دوکہ دنیا کا سامان قلیل ہے اور آخرت متقی لوگوں کے لئے بہترین سامان ہے ۔ ‘‘ (نساء:۷۷)،کہیں اس کو لہو ولعب بتایا گیا ہے: ’’ یاد رکھو دنیا کی زندگی کھیل کود ہے۔‘‘ (حدید:۲۰) اور کہیں اسے اِن الفاظ میں دھوکہ کی ٹٹی فرمایا گیا’’دنیا کی زندگی دھوکہ کی ٹٹی ہے۔ ‘‘ (حدید:۲۰)کہیں آفتوں کی ماری ہوئی کھیتی کہا : ’’ دنیا کی زندگی کی مثال اس پانی جیسی ہے جو آسمانوں سے برس کر زمین کی پیداوار میں شامل ہو گیا جس کو انسان اور حیوان کھاتے ہیں، حتیٰ کہ جب زمین کی پیداوار پورے آب و تاب کو پہنچ گئی اور آراستہ و پیراستہ ہو گئی اور لوگ یہ سمجھنے لگے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھانے پر قادر ہیں ، تو ہمارا حکم (عذاب) رات یا دن کے وقت آ پہنچا، پس وہ تمام پیداوار نیست و نابود ہو گئی، گویا اگلے دن کے لئے ان کے پاس کچھ باقی نہ رہا۔‘‘ (یونس: ۲۴)
کہیں اس کی حاصل صورت ( زن ، زر ، زمین ) کو بے حقیقت نمائش، بے روح نمود، بے بود ظاہری ٹپ ٹاپ اور شہوت پرستوں کا محبوب بتایا: ’’لوگوں کیلئے ان خواہشات کی محبت (خوب) آراستہ کر دی گئی ہے (جن میں) عورتیں اور اولاد اور سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشان کئے ہوئے خوبصورت گھوڑے اور مویشی اور کھیتی (شامل ہیں)، یہ (سب) دنیوی زندگی کا سامان ہے، اور اﷲ کے پاس بہتر ٹھکانا ہے۔آپ فرما دیں: کیا میں تمہیں ان سب سے بہترین چیز کی خبر دوں؟ (ہاں) پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس (ایسی) جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے (ان کے لئے) پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور (سب سے بڑی بات یہ کہ) اﷲ کی طرف سے خوشنودی نصیب ہوگی، اور اﷲ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔ ‘‘ (آل عمران: ۱۴، ۱۵)
اور کہیں اس کی لذتوں میں منہمک ہونے والوں کے جاہل احمق ہونے کا اشارہ کیا ہے : ’’جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر راضی اور مطمئن ہو گئے اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ دوزخ ہے، ان اعمال کی پاداش میں جن کے مرتکب ہوئے ۔‘‘(یونس: ۷، ۸)
’’ ان کو چھوڑ دو ، کھانے پینے دو ، مزے اڑانے دو، باطل آرزوئیں ان کو خدا سے غافل بنائے رکھیں ، مگر وہ ضرور جان جائیں گے۔ ‘‘(الحجر: ۳)
کہیں دنیا کی فراوانی کو گرفتارِ لہو ولعب یا بد انجام مشاغل میں پھنس جانا بتلایا : ’’ غفلت میں رکھا تم کو بہتات کی حرص نے، یہاں تک کہ جا دیکھیں قبریں ۔‘‘(التکاثر:۱ ، ۲)
تو کہیں سرمایہ داری پر عذاب الیم کی وعیددی : ’’ جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کے رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ، اے نبی ! ان لوگوں کو دردناک عذاب کی خبر سنا دیں۔‘‘ (توبہ: ۳۴)
کہیں بے تحاشا کھانے اور عیش میں غرق ہونے کو بہائم سے تشبیہ دے کر انجام جہنم بتایا: ’’یہ لوگ اس طرح کھاتے پیتے ہیں جس طرح جانور کھایا پیا کرتے ہیں ، ان لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔‘‘
(سورۂ محمد: ۱۲)
اور کہیں اپنے پیغمبر کو ہدایت فرمائی کہ اس دنیا کی چند روزہ ٹپ ٹاپ کی طرف کوئی ادنیٰ التفات نہ کریں کہ یہ فتنہ اور بلا ہے، بلکہ صرف طلب اور فکر ِ عاقبت میں منہمک رہیں :
’’اور آپ دنیوی زندگی میں زیب و آرائش کی ان چیزوں کی طرف حیرت و تعجب کی نگاہ نہ فرمائیں جو ہم نے (کافر دنیاداروں کے) بعض طبقات کو (عارضی) لطف اندوزی کے لئے دے رکھی ہیں تاکہ ہم ان میں ان کے لئے فتنہ پیدا کر دیں، اور آپ کے رب کی (اخروی) عطا بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔‘‘ (طہ، ۱۳۱)
اسی طرح دنیا کے اس حصہ کی بھی قرآن نے مذمت کی ہے جس کا تعلق جاہ و نخوت سے ہے ۔ ایسی آیات کو خوفِ طوالت سے نقل نہیں کیا گیا ۔ احادیث میں بھی دنیا کو ملعون اور جیفہ کہا گیا ہے اور اس کے طالبوں کو کلاب کا لقب دیا گیا ہے۔
علمائے اسلام ! دنیا کے راحت و سرور کے نشہ اور اس کے خوش کن منظروں کی دل فریب رغبتوں کے اتمام سے باخبر ہو کر آپ حضرات اپنی آخرت کی کامیابی کے لئے کوشش کریں ۔ آپ کا کام تعلیم و تبلیغ ہے جو عالمِ دین ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آپ کے سپرد کیا گیا ہے اور دنیا کے دیگر کاروبار سے آپ کو سبکدوش کیا گیا ہے۔
ان باتوں میں سے جو پیش کی جارہی ہیں، کوئی بات بھی ایسی نہیں جو آپ حضرات کے علم سے باہر ہو ۔ صرف جذبۂ خیر خواہی سے تاکیداً خامہ فرسائی کی جا رہی ہے۔ تخاطب امت کے اخیار سے ہے۔ آپ علمائے اخیار ہی صحیح معنی میں وارث النبی الخاتم ہیں۔ علمائے اشرار نے متاع دنیا کی وراثت کو پسند کر لیا ہے اور وراثت النبی الخاتم ﷺکی قدر نہ کرنے پر ان کو دنیا میں پہلی سزا یہ دی گئی کہ علمائے اخیار کی جماعت سے ان کو نکال باہر کر دیا گیا ۔
ارشادِ باری ہے : ’’اور جو شخص رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرے اس کے بعد کہ اس پر ہدایت کی راہ واضح ہو چکی اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ کی پیروی کرے تو ہم اسے اسی (گمراہی) کی طرف پھیرے رکھیں گے جدھر وہ (خود) پھر گیا ہے اور (بالآخر) اسے دوزخ میں ڈالیں گے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘(النساء: ۱۱۵)
کیا اس آیت محکمہ کے فیصلہ سے کوئی شخص بحیثیت عالمِ دین ہونے کے مستثنیٰ ہو سکتا ہے؟