صنعتی شہر کے طور پر مشہور اس شہر میںکئی تاریخی،ثقافتی اور سیاحتی مقامات بھی موجود ہیں۔
ایگریکلچرل میوزیم کے اندر-تصویر:آئی این این
پنجاب کا نام آتے ہی ذہن میں سرسبز کھیت، خوشحال دیہات، پنجابی ثقافت، بھنگڑا، لذیذکھانے اور گرم جوش مہمان نوازی کا تصور ابھرتاہے۔ اسی پنجاب کا ایک اہم اور تاریخی شہر لدھیانہ ہے، جو نہ صرف ریاست کا سب سے بڑا شہر سمجھا جاتا ہے بلکہ ہندوستان کے اہم صنعتی مراکزمیں بھی اس کا شمار ہوتا ہے۔ عام طور پر لوگ لدھیانہ کو سائیکلوں، اونی ملبوسات اور صنعتوں کے شہر کے طور پر جانتے ہیں، لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ شہر سیاحت کے اعتبار سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔
ستلج ندی کے کنارے آباد لدھیانہ تاریخ، مذہب، ثقافت اور جدید طرز زندگی کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ یہاں آنے والے سیاح قدیم قلعوں، مذہبی مقامات، عجائب گھروں، باغات اور ثقافتی مراکز کی سیر کرکے پنجاب کی حقیقی روح کو قریب سے محسوس کرسکتے ہیں۔
تاریخی حیثیت
لدھیانہ کی بنیاد سولہویں صدی کے اواخر میں مغل دورمیںرکھی گئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ اس شہر کا نام لودھی خاندان کے نام پر پڑا، جنہوںنے یہاں ایک اہم فوجی چوکی قائم کی تھی۔ وقت کے ساتھ یہ علاقہ تجارت اور صنعت کا بڑا مرکز بنتا چلا گیا۔آج لدھیانہ کو ہندوستان کا’مانچسٹر آف پنجاب‘بھی کہا جاتا ہےکیونکہ یہاں ٹیکسٹائل، سائیکل، آٹو پارٹس اور اونی مصنوعات کی صنعتیں بڑے پیمانے پر قائم ہیں۔
پنجاب ایگریکلچرل میوزیم
لدھیانہ آنے والے سیاحوں کیلئےپنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی میوزیم ایک دلچسپ مقام ہے۔ اس میوزیم میں پنجاب کی قدیم دیہی زندگی کی جھلک پیش کی گئی ہے۔یہاں روایتی پنجابی گھروں، زرعی آلات، گھریلو اشیاء، دستکاریوں اور ماضی کی ثقافتی روایات کو محفوظ کیا گیا ہے۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ جدیدیت سے قبل پنجاب کے دیہات کس طرح زندگی گزارتے تھے تو یہ مقام ضرور دیکھنا چاہیے۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ وار میوزیم
لدھیانہ کا مہاراجہ رنجیت سنگھ وار میوزیم تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئےایک بہترین جگہ ہے۔یہ عجائب گھر لدھیانہ کے تاریخی کالا محل میں قائم ہے۔ یہاں سکھ سلطنت، مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فتوحات، قدیم ہتھیاروں، تاریخی دستاویزات اور جنگی سازوسامان کی نمائش کی گئی ہے۔اس میوزیم کی سیرکے دوران پنجاب کی شاندار عسکری تاریخ سے واقفیت ملتی ہے۔
رورل میوزیم
پنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی کے احاطے میں واقع رورل میوزیم دیہی پنجاب کی زندگی کا آئینہ دار ہے۔یہاں مٹی کے برتن، روایتی لباس، زرعی اوزار، لوک موسیقی کے آلات اور دیہی گھروں کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس میوزیم کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پنجاب کی تہذیب کو انتہائی خوبصورتی سے محفوظ کیا گیا ہے۔
نہرو روز گارڈن
قدرتی مناظراور سکون پسند کرنے والوں کے لیے نہرو روز گارڈن لدھیانہ کی بہترین تفریحی جگہوں میں شمار ہوتا ہے۔یہ باغ تقریباً ۳۰؍ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور یہاں گلاب کی ہزاروں اقسام موجود ہیں۔ بہار کے موسم میں جب مختلف رنگوں کے گلاب کھلتےہیں تو پورا باغ خوشبو اور رنگوں سے مہک اٹھتا ہے۔صبح کی سیر، خاندانی تفریح اور فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے یہ مقام نہایت موزوں ہے۔
درگاہ سخی سرور
لدھیانہ کے نواح میں واقع درگاہ سخی سرور عقیدت مندوں کیلئے ایک اہم زیارت گاہ ہے۔یہ مقام مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان یکساں مقبول ہے۔ سال بھر یہاں زائرین کی آمد جاری رہتی ہے اور خاص مواقع پر بڑی تعداد میں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔
فلّور قلعہ
لدھیانہ سے تقریباً ۲۰؍کلومیٹردور واقع فلّور قلعہ تاریخ کے شائقین کے لیے ایک دلچسپ مقام ہے۔یہ قلعہ سکھ دور حکومت میں تعمیرکیاگیاتھا۔ بعد میں برطانوی حکومت نے بھی اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ قلعے کی مضبوط دیواریں اور تاریخی تعمیرات آج بھی ماضی کی داستان سناتی ہیں۔
ریکھی سنیما چوک اور شہر کا بازار
لدھیانہ صرف تاریخی مقامات ہی نہیں بلکہ خریداری کے لیے بھی مشہورہے۔گھومر منڈی، چورا بازار، اکال گڑھ مارکیٹ اور سرو بازار شہر کے معروف تجارتی مراکز ہیں۔ یہاں اونی کپڑے، شالیں، جیکٹس، پنجابی جوتیاں اور دستکاری کی مختلف اشیاء مناسب قیمتوں پر دستیاب ہوتی ہیں۔سردیوں میں پورے ہندوستان سے لوگ لدھیانہ کے تیار کردہ اونی ملبوسات خریدنے آتے ہیں۔