مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے یو پی آئی لین دین پر عام صارفین سے فیس وصول کیے جانے کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر مستقبل میں مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ نافذ بھی کیا جاتا ہے تو اس کا اطلاق صرف تاجروں (مرچنٹس) پر ہوگا، صارفین پر نہیں۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 4:06 PM IST | New Delhi
مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے یو پی آئی لین دین پر عام صارفین سے فیس وصول کیے جانے کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر مستقبل میں مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ نافذ بھی کیا جاتا ہے تو اس کا اطلاق صرف تاجروں (مرچنٹس) پر ہوگا، صارفین پر نہیں۔
مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے یو پی آئی (UPI) لین دین پر عام صارفین سے فیس وصول کیے جانے کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر مستقبل میں مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ(ایم ڈی آر) (MDR) نافذ بھی کیا جاتا ہے تو اس کا اطلاق صرف تاجروں (مرچنٹس) پر ہوگا، صارفین پر نہیں۔ یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹیکسیشن اینڈ ادر لاز (ترمیمی) بل ۲۰۲۶ء کے ذریعے یو پی آئی کو فیس سے مستثنیٰ رکھنے والی قانونی ضمانت ختم کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں عام لوگوں کو بھی یو پی آئی ادائیگیوں پر چارج دینا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مچل اسٹارک ۷؍ وکٹیں لیتے ہی کپل دیو اور ڈیل اسٹین سے آگے نکل جائیں گے
وزیرِ خزانہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔ ان کے مطابق ایم ڈی آر صرف مرچنٹس پر لاگو ہوتا ہے، صارفین پر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بینکوں اور فن ٹیک کمپنیوں کو ڈجیٹل ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے، جدت اور سائبر سیکوریٹی میں مزید سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملے گی، جس کا فائدہ بالآخر تمام یو پی آئی صارفین کو ہوگا۔
ابھی کوئی فیصلہ نہیں
نرملا سیتارمن نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت نے ابھی تک یو پی آئی پرایم ڈی آر نافذ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر غور صرف اس وقت کیا جائے گا جب پارلیمنٹ سے مجوزہ بل منظور ہو جائے گا اور اس کے بعد نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) کی سربراہی میں قائم یو پی آئی اینڈ سروسیز اسٹیئرنگ کمیٹی اس پر غور کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ مجوزہ قانون حکومت کو صرف یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ بعد میں نوٹیفکیشن کے ذریعے یہ طے کر سکے کہ کن الیکٹرانک ادائیگیوں یا لین دین پر فیس نہیں ہوگی۔ اس قانون کے ذریعے فی الحال یو پی آئی یا RuPay پر ایم ڈی آر نافذ نہیں کیا جا رہا۔
یہ بھی پڑھئے:دلیپ کمار کو اپنے تبدیل شدہ نام کے بارے میں فلم کا پوسٹر دیکھ کر معلوم ہوا تھا
کانگریس کا مؤقف
اس سے قبل جے رام رمیش نے کہا تھا کہ اگرچہ ایم ڈی آر بظاہر تاجروں سے وصول کیا جائے گا، لیکن وہ بالآخر اس اضافی لاگت کو اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں شامل کر کے صارفین سے ہی وصول کریں گے۔ انہوں نے حکومت کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ یو پی آئی نظام کو مالی طور پر مستحکم رکھنے کے لیے ایم ڈی آر ضروری ہے۔
اپوزیشن پر تنقید
وزیرِ خزانہ نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایوان کی کارروائی بار بار متاثر نہ ہوتی تو اس بل پر تفصیلی بحث ہو سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ایسے اہم قوانین پر کھل کر گفتگو ہو سکے۔ حکومت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ فی الحال عام صارفین کے لیے یو پی آئی ادائیگیاں بدستور مفت ہیں اور صارفین سے کوئی اضافی فیس وصول کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔