نظم پر انحصار کے دورِ ترقی پسندی میں غزل پر اصرار کرنے والے اس محترم شاعر کا تین دن بعد یوم ِولادت ہے (تاریخ پیدائش یکم اکتوبر ۱۹۱۹ء )۔ اسی مناسبت سے اُن کے معاصرین کی آراء کے اقتباسات۔
EPAPER
Updated: September 27, 2026, 12:58 PM IST | Inquilab Desk | Mumbai
نظم پر انحصار کے دورِ ترقی پسندی میں غزل پر اصرار کرنے والے اس محترم شاعر کا تین دن بعد یوم ِولادت ہے (تاریخ پیدائش یکم اکتوبر ۱۹۱۹ء )۔ اسی مناسبت سے اُن کے معاصرین کی آراء کے اقتباسات۔
بزم کو رز م سے ملانے والا شاعر
مجروح اپنے افکار میں بزم کو رزم سے ملا دیتے ہیں اور تقلید سے بچ کر اپنی محفل الگ آراستہ کرتے ہیں۔
شمع بھی اجالا بھی میں ہی اپنی محفل کا
میں ہی اپنی منزل کا راہبر بھی راہی بھی
یہ انفرادیت مجروح کے مقام کو بلند کرتی ہے لیکن اس انفرادیت کا نتیجہ یہ نہیں ہوتا کہ ان کا رشتہ زندگی کے حقائق سے قائم نہ رہے۔ وہ قائم رہتا ہے صرف انداز بیان بدلا ہوا ہوتا ہے۔ اس انفرادیت کے اکثر دلچسپ پہلو مجروح کی شخصیت میں نمایاں ہیں لیکن ان کے کلام کا حسن یہ ہے کہ جب ان کی انفرادیت کوئی دعویٰ کرتی ہے تو وہ شیخی اور گھمنڈ کی آلودگی سے پاک ہوتا ہے مثلا:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ اتے گئے اور کارواں بنتا گیا
یہ خود ستائی نہیں ہے بلکہ خود اعتمادی ہے۔ مجروح کے کلام کا یہی حسن ہے جو مجھے اپنی طرف کھینچتا ہے۔
قاضی عبدالغفار
مجروحؔ نے سنجیدہ شاعری کی ادبی آبرو کو بچائے رکھا
مجروح صاحب سے باقاعدہ تعارف اور طویل ملاقات پہلی بار ایوان غالب نئی دہلی میں ہوئی۔ وہ یہاں غالب ایوارڈ برائے اردو شاعری حاصل کرنے کیلئے تشریف لائے تھے۔ اندازہ کیا تجربہ ہوا کہ نہایت مخلص، شفیق اور نستعلیق قسم کے آدمی ہیں۔ انہیں شہرت ِعام تو فلمی نغموں سے ملی مگر انہوں نے اپنی سنجیدہ شاعری کی ادبی آبرو کو ہمیشہ بچائے رکھا، فلم زدہ نہیں ہونے دیا۔ اس کے برعکس ان کے فلمی گانوں میں غزل کی چاشنی ضرور مل جاتی ہے۔ اس کے بعد بہت سے مشاعروں میں مجروح صاحب کو سننے کا موقع ملا۔ جب وہ مدھیہ پردیش کا اقبال سمان حاصل کرنے کیلئے بھوپال آئے اس وقت سنسکرتی بھون میں ایک مشاعرہ بھی ہوا جو اتفاق سے میری صدارت میں تھا۔ مجروح صاحب ڈائس پر میرے پاس ہی بیٹھے تھے اور اپنی پانوں کی ڈبیا بار بار میری طرف بڑھاتے رہتے تھے۔ اس رات کو مجروح صاحب کو بہت قریب سے دیکھا اور سنا بھی۔ مجروح صاحب اپنے معاصرین کی تحریریں بھی پڑھتے تھے۔ اردو اور فارسی کے کلاسیکی ادب خصوصاً شاعری میں غزل کا مطالعہ بہت اچھا تھا۔ انہوں نے اپنی لائبریری کی کتابوں پر بہت سے حواشی اور ملاحظات بھی لکھ رکھے تھے۔ چند برسوں سے وہ کسی موضوع پر اپنی کوئی تحریر مراسلہ کی شکل میں رسالوں کو بھیجنے لگے تھے۔ ماہنامہ انشاء کلکتہ میں ان کے کئی انتقادی مراسلے شائع ہوئے۔ اسی زمانے میں ایک بار انہوں نے میر تقی میر سے متعلق بعض غلطیوں کی نشاندہی کی اور اس میں میری کتاب ’’تلاش میر‘‘ کا حوالہ دیا۔ یہ خط انشاء میں غالباً ۱۹۹۷ء کے آغاز میں شائع ہوا تھا۔
نثار احمد فاروقی
ایک رجحان ساز غزل گو
جدید اردو غزل کی تاریخ میں مجروح سلطانپوری کی حیثیت ایک رجحان ساز غزل گو کی ہے۔ انہوں نے غزل کے کلاسیکی مزاج کو برقرار رکھتے ہوئے اسے جس طرح اپنے عہد کے مسائل کا آئینہ دار بنایا وہ کچھ انہی کا حصہ ہے۔ پرانی اور نئی غزل کے درمیان امتیاز کرنے کیلئے اگر کسی ایک مجموعہ ٔ غزل کی نشاندہی کی جائے تو وہ مجروح کے مجموعۂ کلام غزل کے سوا کوئی اور مجموعہ نہیں ہو سکتا۔ ـ جدید اردو غزل مجروح کے سائے میں سرسبز و شاداب ہوتی ہے اور اسی لئے ان کا یہ دعویٰ سچا ہے کہ:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ اتے گئے اور کارواں بنتا گیا
اور اب تو ان کی حیثیت تنہا مسافر کی نہیں، امیر کارواں کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انتقال کے ۲۰۰؍ سال بعد بھی میر، میر ہیں تو کیوں ہیں؟
مشفق خواجہ
غزل اُن کی رگ رگ میں رچ گئی تھی
مجروح شاعر خوش گو تھے اور خوش گلو بھی، خوش پوش تھے اور خوش رو بھی۔ مقبول گیت کار تھے اور محبوب نغمہ نگار بھی، ترقی پسند روایت کے پاسدار بھی تاہم غزل ہی ان کا فن رہی، ان کی شاعری کا بانکپن رہی۔ غزل انہیں اس قدر جچ گئی تھی کہ ان کی رگ رگ میں رچ گئی تھی۔ اسی لئے انہوں نے غزل کا جادو جگایا، اس کے امکانات کو جگمگایا۔ انہیں اس کی نزاکتوں کا ادراک تھا، ذہن آلودگی سے پاک تھا۔ اسی لئے انہوں نے اسے عصری شعور بخشا، حیات انسانی کا نور بخشا۔ اس کے گیسوؤں کو سنوارا، اس کے حسن کو نکھارا۔ اسے نئی لفظیات عطا کیں، نئی نئی کیفیات عطا کیں۔ پرانی علامتوں کو نیا پن دیا، قدیم پیکروں کو نیا پیرہن دیا۔ محبوب کو رفیق سفر بنایا، ظلمت شب کو رشک ِسحر بنایا۔ اسے موسیقی کی لَے سے نوازا، فکر و فن کی مَے سے نوازا۔ اشعار کے دروبست کو مستحکم کیا، غزل کو نئی تراکیب کا سنگم کیا۔ ان کی ’’غزل‘‘ میں زمانے کا دل دھڑکتا ہے، ’’ مشعل جاں ‘‘ میں شعلہ ٔ زندگی بھڑکتا ہے۔
مجروح ادب میں سیاسی اور سماجی مقاصد کے قائل تھے، ان کا موضوع زندگی کے مسائل تھے۔ حکومت کی نظروں میں باغی ٹھہرائے گئے، آزاد ہندوستان میں بھی قیدی بنائے گئے۔ ہوا یوں کہ وہ گیت گا رہے تھے، مزدوروں کے مجمع میں اپنی نظم سنا رہے تھے۔ ارباب ِ اختیار کو اُن کا یہ عمل ناگوار گزرا، ان کے حاکمانہ مزاج پر بار گزرا۔ انہو ں نے معافی نامہ طلب کیا، انکار کرکے مجروح صاحب نے غضب کیا۔ نتیجتاً نقصان اُٹھانا پڑا، ڈیڑھ برس کیلئے آرتھر روڈ جیل جانا پڑا۔ اس طرح جب انہیں مہاراشٹر نے ولی دکنی ایوارڈ دیا تو انہوں نے اسے فرقہ پرست وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں سے نہیں لیا۔ عمر بھر وہ اپنے نظریات پر قائم رہے۔ سدا اپنے اُصولوں پر ثابت قدم رہے۔ ویسے قیدوبند نے ان کی شاعری پر دھار رکھا، سرخ پھول پر بنیادِ بہار رکھا۔
پروفیسر ظفر احمد نظامی
مشاعرے کیلئے آئے اور چھا گئے
مجروحؔ ۱۹۴۵ء میں اپنے استاد جگرمرادآبادی کے ہمراہ ایک مشاعرے میں حصہ لینے بمبئی آئے اور آتے ہی پورے شہر پر چھا گئے۔ خوش شکل اور نوجوان شاعر نے سامعین کو اپنا بنا لیا۔ اس کے سحرانگیز ترنم اور پرکشش شاعری نے لوگوں کو مسخر کرلیا۔ اردو شاعری کی بزرگ شخصیت مولانا حسرت موہانیؔ نے دل کھول کر ستائش کی اور مشہور پروڈیوسر اے آرکاردار نے مجروح کو اپنی آنے والی فلم ’’شاہجہاں ‘‘ کے گیت لکھنے کے لئے میوزک ڈائریکٹر نوشاد کے ساتھ منتخب کرلیا۔
فلمی دنیا میں مجروحؔ کی آمد بڑے شاندار طریقے سے ہوئی اور وہ ایک کامیاب نغمہ نگار کی حیثیت سے سربلند ہوئے۔ مجروحؔ کی اس زمانے کی شاعری کسی حد تک مجازؔ کی مترنم اور رسیلی شاعری سے ہم آہنگ تھی۔ مجروحؔ کی شاعری ان تمام محاوروں، علامتوں اور محاسن ِشعری سے آراستہ تھی جو کلاسیکی شاعری کے اجزائے ترکیبی ہیں۔
علی سردار جعفری