• Sun, 20 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

انتقال کے ۲۰۰؍ سال بعد بھی میر، میر ہیں تو کیوں ہیں؟

Updated: September 20, 2026, 2:03 PM IST | Mumbai

غزل میں آج تک کوئی مرتب اور منضبط پیغام نہیں دیا جا سکا۔ غزل گو عام طور سے عشق ومحبت کی زبان میں گفتگو کرتا ہے اور اگر کبھی زندگی کے دوسرے موضوع کا ذکر کرتا ہے تو بھی اس کے لہجے میں وہی سنجیدہ نرمی ہوتی ہے جوعشق کی زبان کی ایک نمایاں خصوصیت بتائی گئی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

غزل میں آج تک کوئی مرتب اور منضبط پیغام نہیں دیا جا سکا۔ غزل گو عام طور سے عشق ومحبت کی زبان میں گفتگو کرتا ہے اور اگر کبھی زندگی کے دوسرے موضوع کا ذکر کرتا ہے تو بھی اس کے لہجے میں وہی سنجیدہ نرمی ہوتی ہے جوعشق کی زبان کی ایک نمایاں خصوصیت بتائی گئی ہے۔ اس لئے اگر کسی غزل گو شاعر کو اپنے زمانے سے کوئی شکایت یا بغاوت ہوتی تھی تو اس کا روپ ایسا بدلا ہوا ہوتا ہے کہ ہم صحیح طور پراس کو جان پہچان نہیں سکتے، لیکن اگر کوئی رمز شناس اور نکتہ رس مطالعہ کرنے والا ہو تو اس کو ہر بڑے غزل گو شاعر کے کلام میں ایک مستقل فکری جھکاؤ یا جذباتی میلان ملےگا جس کا تعلق اس کے زمانے اور ماحول سے ہوگا۔ میر کے کلام کو اگر رک رک کر اور کافی غور سے پڑھا جائے تو اس کے اندر ہم کو ان کے زمانے کی ایک عناں گسیختہ فریاد کا احساس ہوتا ہے جو چیخ وپکار کی صورت نہیں اختیار کرنے پاتی۔ میر کے دور کے اور شعرا پر بہ استثناء سودا شاید یاس پرستی کا لفظ صادق آتا ہو۔ اس لئے کہ یہ شعراء بیشتر عشق اور روزگار کی اذیتوں سے عاجز ہوکر خودبے بسی کے عالم میں تڑپتے اور تلملاتے ہیں اور پڑھنے والے پر بھی کچھ ایسا ہی اثر پڑتا ہے۔ میر کے کلام میں تڑپنا تلملانا نہیں ہوتا۔ وہ خودداری اور سنجیدگی کے ساتھ بڑی سے بڑی مصیبت کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔ 
مجنوں گورکھپوری
میرؔ کی شاعری بھی ایک بت ہزار شیوہ کی طرح ہے
میر تقی میر ہمیں جو بصیرت عطا کرتے ہیں اس کی کئی تہیں ہیں۔ سطحی ذہن رکھنے والے میرؔ کے دردناک اشعار سے اس دور کے درد و داغ کا جو اندازہ لگاتے ہیں، اس میں اس نکتہ کو نظرانداز کر دیتے ہیں کہ میرؔ کا مقصد محض ماحول کی عکاسی نہیں، گو اُن کے کلام میں اس ماحول کی روح جلوہ گر ہے۔ میرؔ اس لیے بڑے شاعر نہیں کہ وہ ماحول کے مصور ہیں۔ وہ اس لیے بڑے شاعر ہیں کہ ان کے اشعار اس بھرپور احساس سے لبریز ہیں جو زندگی کی گہری بصیرت سے حاصل ہوتا ہے۔ جو واقعات اور حالات کی نشان دہی نہیں کرتا بلکہ ان کے پیچھے جو ذہنی دنیا ہے اس کا دروازہ ہمارے لیے کھول دیتا ہے۔ میرؔ کے مطالعے میں ہمیں اس نکتے کو ملحوظ رکھنا ہے کہ ان کے ذریعے سے ہم اس دور کے ذہن کی گہرائیوں تک پہنچ سکتے ہیں اور اس محشر جذبات کا اندازہ لگا سکتے ہیں جو ہماری تہذیبی بساط پر رونما ہوا تھا۔ میرؔ اس لیے بڑے شاعر ہیں کہ ان کی کرن نہ صرف ماضی کے دھندلکے کو چیر کر ہمیں ایک جیتی جاگتی تصویر دکھا دیتی ہے بلکہ ان کی یہ تصویر ہمارے حال اور مستقبل دونوں میں رہبری اور رہنمائی کر سکتی ہے۔ میرؔ کی رفاقت سے ہم اسی لیے منہ موڑ کر نہیں بیٹھ سکتے۔

یہ بھی پڑھئے: ادب نیا پرانا نہیں ہوتا، اس میں عجائب خانے نہیں ہوتے!

آل احمد سرور
لکھنؤ میں میرؔ : ہم رہنے والے ہیں اُسی اجڑے دیار کے
سودا کا انتقال ہوا تو آصف الدولہ کو خیال ہوا کہ اگر میر لکھنو آجائیں تو لکھنؤ کی شعری حیثیت نہ صرف برقرار رہے گی بلکہ اس میں اضافہ بھی ہوگا۔ چنانچہ آصف الدولہ کے ایما سے نواب سالار جنگ نے زادِ راہ اور طلبی کا پروانہ بھجوادیا۔ میر لکھنؤ کے لئے روانہ ہوگئے۔ راستے میں فرخ آباد کے نواب نے انہیں صرف چھ دن کے لئے روکنا چاہا مگر میر ہوائے شوق میں اڑ رہے تھے، رکے نہیں۔ حسن افزا منزل کے مشاعرے میں ’’ہستی اپنی حباب کی سی ہے۔ یہ نمائش سراب کی سی ہے‘‘ پڑھ کر آگے بڑھ گئے اور لکھنو پہنچے۔ یہ واقعہ ۱۱۶۹ھ کا ہے۔ میر اس وقت ساٹھ برس کے ہوچکے تھے اور اب یہ راقم آثم کہ اردو ادب کے البیلے انشا پرداز مولوی محمد حسین آزاد کا سوانح نگار بھی ہے اور خوشہ چیں بھی، الفاظ کے رنگ و آہنگ اور تخئیل کی تجسیم کے اس باکمال مصور کے نگار خانے کی ایک تصویر آپ کی نذر کرتا ہے اور سلسلہ سخن کو یوں رونق دیتا ہے کہ‘‘ لکھنو پہنچ کر جیسا کہ مسافروں کا دستور ہے، ایک سرا ئے میں اترے۔ معلوم ہوا کہ آج یہاں ایک جگہ مشاعرہ ہے، رہ نہ سکے۔ اسی وقت غزل کہی اور مشاعرے میں جاکر شامل ہوئے۔ ان کی وضع قدیمانہ، کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے گھیر کا جامہ، ایک پورا تھان پستولیے کا کمر سے بندھا، ایک رومال پٹری دار تہہ کیا ہوا اس میں آویزاں، مشروع کا پاجامہ جس کے عرض کے پائنچے، ناگ پھنی کی انی دار جوتی جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب، غرض جب داخلِ محفل ہوئے تو وہ شہر لکھنو، نئے انداز، نئی تراش، بانکے ٹیڑھے جوان جمع، انہیں دیکھ کر ہنسنے لگے۔ میر صاحب بے چارے غریب الوطن، زمانے کے ہاتھ پہلے ہی دل شکستہ تھے اور بھی دل تنگ ہوئے اور ایک طرف بیٹھ گئے۔ 
 شمع ان کے سامنے آئی تو پھر سب کی نظر پڑی اور بعض اشخاص نے پوچھا، حضور کا وطن کہاں ہے؟ میر صاحب نے یہ قطعہ فی البدیہہ کہہ کر غزل طرحی میں داخل کیا:
کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اس کو فلک نے لوٹ کے ویران کردیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
اسلم فرخی
ہر عہد میں بڑے سے بڑے شاعر نے اپنا سر میر ؔ کی بارگاہ میں جھکا یا ہے
شاعر کو تلمیذ رحمانی بھی کہا گیا ہے اور پیغمبر کا بھی درجہ دیا گیا ہے لیکن میرتقی میر تنہا شاعر ہیں جن کو خدائے سخن کہا جاتا ہے۔ ولی دکنی، سودا، نظیر اکبرآبادی، انیس، غالب اور اقبال کے ہوتے ہوئے میرعظمت کے تنہا مسندنشین نہیں ہیں اور نہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں، پھر بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اردو کے تمام شعرا میں سرفہرست میر ہی کا نام رہےگا۔ حالانکہ آج عام مقبولیت کے اعتبا رسے غالب اور اقبال میر سے کہیں آگے ہیں اور ان کی کتابیں کلیات ِمیر کے مقابلہ میں بہت زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ ان کے اشعار زیادہ زبان زدہیں۔ ان کے اثرات جدید شاعری پر زیادہ نمایاں ہیں۔ پھر بھی غالب اور اقبال کی شاعرانہ عظمت کے منکر موجود ہیں۔ مگر میر کی استادی سے انکار کرنے والا کوئی نہیں۔ ہر عہد میں بڑے سے بڑے شاعر نے اپنا سر میر کی بارگاہ میں جھکایا ہے۔ ان کا مقام شاعری ہی میں نہیں بلکہ زبان کے ارتقا کی تاریخ میں بھی بہت اہم ہے۔ 
زبان کی تشکیل میں کردار
کھڑی بولی جس پر جدید ہندی اور اردو زبان کی بنیاد ہے، اتنے نکھرے ہوئے روپ میں میر کے ہاں نظر آتی ہے کہ اس کے بعد کا ہر روپ میر کی دین معلوم ہوتی ہے۔ اسلوب اور انداز کے اعتبار سے بھی میر کی حیثیت ایک ایسے شاعرانہ سرچشمے کی سی ہے جس سے تمام ندیاں پھوٹتی ہیں۔ وہاں رنگ ِ غالب کے بھی ابتدائی نقوش ملتے ہیں (اور اس سے جدید شاعری کا رنگ پیدا ہوا ہے) اور مومن اور داغ کے رنگ کے ساتھ ساتھ خارجیت کا وہ انداز بھی ملتا ہے جسے لکھنؤ اسکول کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ لطف یہ ہے کہ جس کو آج اقبال کی غزل کا نیا اسلوب سمجھا جاتا ہے اور جس کی روانی میں فکر کی عظمت کی وجہ سے ایک بھاری پن آگیا ہے اور گمبھیر کیفیت پیدا ہو گئی ہے، اس کے نشانات بھی میر کے ہاں موجود ہیں اور بعض مقامات پر علامتوں کے ساتھ خیالات کی حیرت انگیز یکسانیت ہے، حالانکہ فکری اور جذباتی اعتبار سے میر اور اقبال کے درمیان دو صدیوں کا فاصلہ ہے۔ 
علی سردار جعفری

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK