Inquilab Logo Happiest Places to Work

بالی ووڈ کے کئی نغمے آج بھی حب الوطنی کے جذبے کو بلند کرتے ہیں

Updated: August 15, 2020, 3:08 AM IST | Mumbai

ہندی فلمی سنیما میں حب الوطنی سے لبریز فلموں اور نغموں کا ایک اہم کردار رہا ہے اور اس کے ذریعے فلمسازعوام میں حب الوطنی کے جذبے کو آج بھی بلند کرتے ہیں۔

Movie leader`s song scene. Photo: INN
فلم لیڈر کے گیت کا منظر ۔ تصویر: آئی این این

 ہندی فلمی سنیما میں حب الوطنی سے لبریز فلموں اور نغموں کا ایک اہم کردار رہا ہے اور اس کے ذریعے فلمسازعوام میں حب الوطنی کے جذبے کو آج بھی بلند کرتے ہیں ۔بالی ووڈ میں حب الوطنی پر مبنی فلموں اور نغموں کا آغاز ۱۹۴۰ء کی دہائی سے ہوا تھا۔ ۱۹۴۰ء میں ہی ڈائریکٹر گیان مکھرجی کی فلم ’بندھن‘ غالباً پہلی فلم تھی جس میں حب الوطنی کے احساس کو سلور ا سکرین پر دکھایا گیا تھا۔ ایسے تو اس فلم میں پردیپ کے لکھے تمام نغمے کافی مقبول ہوئے لیکن’چل چل رے نوجوان‘ نغمہ نے آزادی کے ديوانو ں میں ایک نیا جوش بھر دیا۔ ۱۹۴۳ء میں فلم ’قسمت‘ کا نغمہ ’ آج ہمالیہ کی چوٹی سے پھر ہم نے للکارا ہے دور ہٹو اے دنیا والو ہندوستان ہمارا ہے‘ نے مجاہدین آزادی کو آزادی کی راہ پر آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا ۔ 
 ہندوستانی فلمی دنیا میں بہادروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اب تک نہ جانے کتنے نغمو ں کی تخلیق ہوئی ہے لیکن ’ا ے میرے وطن کے لوگو ذرا آنکھوں میں بھر لو پانی جو شہید ہوئے ‘ جیسے حب الوطنی کے حیرت انگیز احساس سے لبریز رام چندر دویدی عرف پردیپ کے اس نغمہ کی بات ہی کچھ اور ہے۔  ۱۹۵۲ء میں ریلیز فلم’ آنند مٹھ‘ کا لتا منگیشکر کی آواز میں گيتابالي پر فلمایا گیانغمہ ’وندے ماترم ‘ آج بھی سامعین کو محظوظ کر دیتا ہے۔ اسی طرح فلم ’جاگیرتی‘ میں ہیمنت کمار کی موسیقی میں محمد رفیع کا گایا نغمہ ’ ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے‘ سامعین میں حب الوطنی کے جذبے کو بیدار کرتا رہتا ہے۔
 آواز کی دنیا کے بے تاج بادشاہ محمد رفیع نے کئی فلموں میں حب الوطنی کے نغمے گائے ہیں ۔ جن میں ’یہ دیس ہے ویر جوانوں کا، وطن پہ جو فدا ہوگا امر وہ نوجوان ہوگا، اپنی آزادی کو ہم ہرگز مٹا سکتے نہیں ، اس ملک کی سرحد کو کوئی چھو نہیں سکتا جس ملک کی سرحد کی نگہباں ہیں آنکھیں ، آج گا لو مسکرا لو محفلیں سجالو، ہندوستان کی قسم نہ جھکیں گے سر وطن کے نوجوان کی قسم، میرے دیش پریمیو آپس میں پریم کرودیش پریمیو جیسے اہم نغمے شامل ہیں ۔
 نغمہ نگار پردیپ کی طرح ہی پریم دھون کو بھی ایسے نغمہ نگار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جن کے’ اے میرے پیارے وطن، میرا رنگ دے بسنتی چولا، اے وطن اے وطن‘ جیسے حب الوطنی کے احساس سے پرٗ نغمات آج بھی سامعین کے دل و دماغ پر حب الوطنی کے جذبہ کو بلند کرتے ہیں ۔
  فلم کابلی  والا میں گلوکار منا ڈے کی آواز میں پریم دھون کا یہ نغمہ’ اے میرے پیارے وطن اے میرے بچھڑے چمن‘ آج بھی سامعین کی آنکھوں کو نم کر دیتا ہے۔اسی کے ساتھ ۱۹۶۱ء میں ان ہی کی ایک اور سپر ہٹ فلم ہم ہندوستانی منظر عام پر آئی جس کا نغمہ ’ چھوڑو کل کی باتیں کل کی بات پرانی‘ سپر ہٹ رہا۔ ۱۹۶۵ء میں پروڈیوسر ، ڈائرکٹر منوج کمار کی فلم شہید کے سبھی نغمے سپر ہٹ رہے لیکن ’ اے وطن اے وطن‘ اور میرا رنگ دے بستي چولا‘ آج بھی سامعین کے درمیان شدت کے ساتھ سنے جاتے ہیں ۔۱۹۶۵ء میں ہند۔ چین جنگ پر مبنی چیتن آنند کی فلم ’حقیقت ‘ بھی حب الوطنی پرمعمور فلم تھی۔محمد رفیع کی آواز میں کیفی اعظمی کا لکھا یہ نغمہ ’کر چلے ہم فدا جانوں تن ساتھیوں اب تمہارے حوالے وطن ساتھیوں ‘ آج بھی سامعین میں حب الوطنی کے جذبے کو بلند کرتا ہے۔حب الوطنی پر مبنی فلمیں بنانے میں منوج کمار کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ شہید، اپکار، پورب اور پچھم، کرانتی، جے ہند دا پرائیڈ‘ جیسی فلموں کے نغمے سن کر سامعین کی آنکھیں پر نم ہو جاتی ہیں ۔ جے پی دتہ اور انل شرما نے بھی حب الوطنی کے جذبے سے لبریزکئی فلمیں بنائی ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK