مولانا آزاد نے اُردو نثرمیں غالبؔ، حالیؔ اورسرسیدؔ کے اُسلوب کو استحکام دیا

Updated: February 23, 2020, 3:16 PM IST | Pro Hamdi Kashmiri

مولانا آزاد نے متعدد موضوعات پر خامہ فرسائی کی ہے۔ ان میں چائے نوشی، قلعۂ احمدنگر، مذہب، موروثی عقائد، سحرخیزی، قیدخانہ، چیتہ خان، خلوت پسندی، خاندان، عادات و خصائل، تعلیم، زندگی، کائنات، خدا، وحدت الوجود، مادہ ، روح، پانچویں صلیبی حملے کے بارے میں، ژو۔این ویل کی یادداشت، چائے کی اقسام اور تاریخ، آتش دان ، انانیتی ادب، حکایت زاغ و بلبل، پھولوں کی اقسام، چڑیاچڑے کی کہانی، قلندر اور فنِ موسیقی وغیرہ شامل ہیں۔

مولانا ابوالکلام آزاد ۔ تصویر : آئی این این
مولانا ابوالکلام آزاد ۔ تصویر : آئی این این

 مولانا آزاد نے متعدد موضوعات پر خامہ فرسائی کی ہے۔ ان میں چائے نوشی، قلعۂ احمدنگر، مذہب، موروثی عقائد، سحرخیزی، قیدخانہ، چیتہ خان، خلوت پسندی، خاندان، عادات و خصائل، تعلیم، زندگی، کائنات، خدا، وحدت الوجود، مادہ ، روح، پانچویں صلیبی حملے کے بارے میں، ژو۔این ویل کی یادداشت، چائے کی اقسام اور تاریخ، آتش دان ، انانیتی ادب، حکایت زاغ و بلبل، پھولوں کی اقسام، چڑیاچڑے کی کہانی، قلندر اور فنِ موسیقی وغیرہ شامل ہیں۔ ان موضوعات کے بارے میں مصنف نے بغیر کسی کدوکاوش کے ، روانی اور برجستگی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور طرز تحریر میں جو بے ساختگی اور شگفتگی ہے ، وہ بھی انشائیہ نگاری کے اصول کی توثیق کرتی ہے۔ مصنف نے غالباً اسی مناسبت سے کتاب کا نام ’’غبار خاطر‘‘ (جو آنند رام مخلص کے ایک رسالے سے مستعار لیا گیا ہے) رکھا ہے۔ مزید برآں، کتاب کے دیباچے میں وہ اپنے مکاتیب کو ’’قلم برداشتہ لکھے ہوئے‘‘ قرار دیتے ہیں اور عنوان کے نیچے یہ شعر درج کیا ہے:
مپرس تاچہ نوشت ست کلک ِ قاصرِما =  خط غبار من ست این غبارِ خاطرِما
 اور اس کا ذکر دیباچے میں بھی کیا ہے، بات سے سے بات نکلنے کی جانب خود بھی اشارہ کیا ہے:
 ’’بارہا ایسا ہوا کہ میں اپنے خیالات میں محو لکھنے میں مشغول ہوں، اتنے میں کوئی دلنشیں بات نوکِ قلم پر آگئی یا عبارت کی مناسبت نے اچانک کوئی پرکیف شعر یاددلادیا اور بے اختیار اس کی کیفیت کی خودرفتگی میں میرا سروشانہ ہلنے لگا یا منہ سے ہا نکل گیا۔‘‘
 مغربی ادب میں انشائیہ نگاری نے اپنی ادبی اہمیت منوا لی ہے ، اردو میں حالیہ برسوں میں انشائیہ نگاری کوفروغ ملا ہے، وزیر آغا جدید دور کے ایک اہم انشائیہ نگار ہیں، انہوں نے ’اوراق‘ کے ذریعے اسے مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، چنانچہ اب کئی مستند ادیب انشائیے لکھے جارہے ہیں وہ ادبی خوبیوں سے معمور ہوتے ہیں۔ انشائیے میں مصنف کی شخصیت کے پرتو ہر جگہ نظر آتے ہیں جو قاری کے دل و دماغ کو منور کرتے ہیں۔ اس میں روزمرہ زندگی کے واقعات، اشخاص، اشیاء اور مناظر سے لے کر زندگی، کائنات اور موت کے اسرار تک ہر موضوع پر خیال آرائی اور خیال افروزی کا انداز نمایاں رہتا ہے۔
 مولانا آزاد کی نگارشات کی ادبیت اس بات میں مضمر ہے کہ انہوں نے موضوعات کے برتاؤ میں شخصی نقطۂ نظر کو برابر قائم رکھا ہے۔ ان کی شخصیت کی تب وتاب سے ان کی تحریر کا ہر فقرہ روشن ہے، چنانچہ ان کی شخصیت کی انفرادیت ہمہ گیری اور ترفع کا احساس گہرا ہوجاتا ہے۔ یہ شخصیت ان کی انانیت، خلوت پسندی، موسیقی سے لگاؤ، تشکیک، تجسس، تعمل، خودضبطی، مذہبیت اور شائستگی کے تابناک عناصر سے جگمگاتی ہے اور ممتاز و منفرد ہوجاتی ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو ان کی نثر کو ادبی وقار عطا کرتی ہے:
 ’’عام حالات میں مذہب انسان کو اس کے خاندانی ورثے کے ساتھ ملتا ہے لیکن میں موروثی عقائد پر قانع نہ رہ سکا۔‘‘
 ’’میں آپ کو بتلادوں، اس راہ میں میری کامرانیوں کا راز کیا ہے؟ میں اپنے دل کو مرنے نہیں دیتا، کوئی حالت ہو، کوئی جگہ ہو، اس کی تڑپ کبھی دھیمی نہیں پڑے گی۔‘‘
 ’’ابتداء ہی سے طبیعت کی افتاد کچھ ایسی واقع ہوئی تھی کہ خلوت کا خواہاں اور جلوت سے گریزاں رہتا تھا۔‘‘
 ’’زندگی کی مشغولیتوں کا وہ تمام سامان جو اپنے وجود سے باہر تھا، اگر چھن گیا ہے تو کیا مضائقہ، وہ تمام جو اپنے اندر تھا اور جسے کوئی چھین نہیں سکتا، سینے میں چھپائے ساتھ لایا ہوں۔‘‘
 مولاناآزاد ایک ہمہ گیر ادبی شخصیت کے مالک ہیں،وہ ادبی روایت کے سرچشموں سے فیض یاب ہونے کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی پیش رفت کے نتیجے میں جدت پسندی کا احترام بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے انتہائی بالیدہ شعری شعور کے باوصف اپنے خیالات کے اظہار کے لئے نثر کا پیرایہ ٔبیان ہی منتخب کیا اور اسے اپنی معجزبیانی سے آسمان پر پہنچا دیا۔ ان کا نثری اسلوب منفعد اور توانا ہے۔ یہ ان کی شخصیت سے گہری مطابقت رکھتا ہے ۔ ان کی شخصیت میں جو نظم و ضبط، تعقل، شائستگی، تمکنت اور شعریت ہے، ان کا اسلوب بھی ان کے خواص سے آراستہ ہے۔ یہ جمال و جلال کے نادر امتزاج کا مکمل نمونہ ہے۔ اس میں نزاکتِ گل بھی ہے صلابت سنگ بھی، تخیل بھی ہے، حقیقت بھی، سنجیدگی بھی ہے، مزاح بھی، غم پسندی بھی ہے اور خوش طبعی بھی ، فلسفہ بھی ہے اور شعریت بھی، اسلوب کے یہ بدلتے رنگ جادوئی کشش رکھتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مولانا آزاد نے مختلف کیفیات کے اظہار کے لئے مختلف اسالیب تراشے ہیں لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ ان کے یہاں ایک ہی بنیادی اسلوب کی گرفت برقرار رہتی ہے۔ یہ اسلوب توازن، استدلال اور ترسیلیت سے قابلِ شناخت ہوجاتا ہے۔ اردو نثر میں غالب، حالی اور سرسید نے اسی نوع کے اسلوب کی ابتداء کی اور مولانا آزاد نے اسے استحکام عطا کیا، مثلاً:
 ’’انسان کی دماغی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی روک اس کےتقلیدی عقائد ہیں۔ اسے کوئی طاقت اس طرح جکڑبند نہیں کرسکتی جس طرح تقلیدی عقائد کی زنجیریں کردیا کرتی ہیں۔ وہ ان زنجیروں کو توڑ نہیں سکتا اس لئے کہ توڑنا چاہتا ہی نہیں۔‘‘
 ’’ہم اس الجھاؤ کو نئے نئے حل نکال کر سلجھانے کی جتنی کوشش کرتے ہیں وہ اور زیادہ الجھتا جاتا ہے، ایک پردہ سامنے دکھائی دیتا ہے، اسے ہٹانے میں نسلوں کی نسلیں گزار دیتے ہیں ، لیکن جب وہ ہٹتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ سوپردے اور اس کے پیچھے پڑے تھے۔‘‘
 ’’عجیب معاملہ ہے۔ میں نے بارہا غور کیا کہ میرے تصور میں آتشدان کی موجودگی کو اتنی اہمیت کیوں مل گئی ہے، لیکن کچھ بتلا نہیں سکتا۔ واقعہ یہ ہے کہ سردی اور آتش دان کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کرسکتے ۔ میں سردی کے موسم کا نقشہ اپنے ذہن میں کھینچ ہی نہیں سکتا اگر آتشدان نہ سلگ رہا ہو۔‘‘
 ’’بعض پھولوں پر رنگ کی بوندیں اس طرح پڑ گئی تھیں کہ خیال ہوتا تھا، صناع قدرت کے مو قلم میں رنگ زیادہ بھرگیا ہوگا، صاف کرنے کے لئے جھٹکنا پڑا اور اس کی چھینٹیں قبائے گل کے دامن پر پڑ گئیں۔‘‘
 مولانا آزاد کے اسلوب کی خوبی یہ ہے کہ تعقلی انداز کے باوجود اس میں شعری لطافت موج ِزیریں کی طرح موجود ہے، نتیجے میں فلسفے کے خشک مباحث بھی دلچسپ ہوگئے ہیں۔ انہوں نے گاہے گاہے فطرت یا اشیاء کی جو تصویر کشی کی ہے وہ لاجواب ہے۔ ان کا لہجہ شعریت آشنا ہے، شعریت زدہ نہیں۔
 ’’اندھیری راتوں میں جب آسمان کی قندیلیں روشن ہوتی ہیں تو وہ صرف قید خانے کے باہر ہی نہیں چمکتیں، اسیران قید و محن کو بھی اپنی جلوہ فروشیوں کا پیام بھیجتی ہیں۔‘‘
 منظرکشی کے علاوہ جو خاص بات ان کی شاعرانہ شخصیت پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جس تھیسس یا دعوے پر زوردیتے ہیں اس سے مماثل کسی شعر کو بھی نقل کرتے ہیں اور قاری کو :
دام ہم رنگ زمیں بود، گرفتار شدم
کے مصداق ان کی دلیل کا قائل ہونا پڑتا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK