میڈیا سرکس: یہ کہاں آ گئے ہم؟

Updated: September 16, 2020, 9:04 AM IST | Parvez Hafiz

ریا کی گرفتاری کے بعد جب لگا کہ ڈراما ختم ہوجائے گا تواس میں کنگنا رناوت کی اینٹری کر وادی گئی۔ نریندرمودی حکومت کے ذریعہ کنگنا کو وائی پلس سیکوریٹی کی فراہمی اور بہار کی انتخابی مہم میں بی جے پی کے پوسٹر پرسوشانت کی تصویر کی موجودگی سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ اس سارے تماشے کا اسکرپٹ کس کا تحریر کردہ ہے۔

Kangana Ranaut - Pic : INN
کنگنا رناوت ۔ تصویر : آئی این این

  گزشتہ تین ماہ سے ہندوستان میں ایک میڈیا سرکس جاری ہے۔ یہ تماشہ شروع ہوا تھا اداکار سوشانت سنگھ کی غیر فطری موت کی سی بی آئی کے ذریعہ جانچ کا مطالبہ منوانے کی خاطر اور جب سپریم کورٹ نے ایک ماہ قبل تحقیقات کا حکم دے دیا تو یہ تماشہ فطری طور پر بند ہوجانا چاہئے تھا۔ لیکن پکچر تو ابھی باقی تھی۔دراصل گودی میڈیا نے ’’جسٹس فار سوشانت ‘‘ کے نام پر ایک خطرناک ڈراما کیاہے۔اس کا حکم کو ان کے سیاسی آقاؤں نے دیا ضرورتھا لیکن اس سے اس کا ان اپنا بھی فائدہ ہوا کیونکہ ٹی آر پی کافی بڑھ گئی۔تاہم اس گھناؤنے کھیل میں گودی میڈیا خود ا اتنا گر گیا کہ اب اس کے رپورٹر یا اینکر کو صحافی کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔  
  کیمبرج ڈکشنری کے مطابق captive audience ناظرین کی اس جماعت کو کہتے ہیں جسے صرف اس لئے مجبوراً کسی لیڈر کی بکواس سننا پڑتی یا کوئی واہیات پروگرام دیکھنا پڑتا ہے کیونکہ اس کے لئے وہ جگہ چھوڑ کر جانا ممکن نہیں ہے۔ کورونا اور لاک ڈاؤن کے سبب ہندوستان میں کروڑوں عوام اس طرح کے’’قید ی تماش بین‘‘ میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ بھوک، غریبی، بے روز گاری، بیماری اور بوریت سے پید ا ہونے والے ان کے اپنے فرسٹریشن سے کروڑوں لوگوں کی توجہ ہٹانے کی خاطر ٹیلی ویژن کے اسکرین پر نیوز کے نام پر تین ماہ سے ایک ایسے سوپ آپیرا کی نمائش جاری ہے جس میں ایک فلمی ہیرو کی پراسرار موت بھی ہے اورایک قاتل ادا حسینہ بھی، ڈرگس بھی ہے اور سیکس بھی، جادو ٹونا بھی ہے اور آتما کا انٹرویو بھی، فلمی دنیا کی رنگینی بھی اور سیاست کی سنگینی بھی۔ اب ایسی مصالحہ دار چاٹ کی لت لگ جانے کے بعد بھلا کسے بھوک پیاس لگے گی؟ اور کسے غم روزگار ستائے گا؟
  ان تین ماہ میں ہندوستان میں کیسی کیسی قیامتیں آگئیں تاہم اگر آپ قومی ٹی وی دیکھیں گے تو آپ کو لگے گا کہ پورے ملک کا واحد مسئلہ ایک اداکار کی موت ہے اور اس کی واحد وجہ ریا چکرورتی نام کی اس کی گرل فرینڈ ہے۔ ریا کو بنا ثبوت سوشانت کی قاتلہ قرار دے دیا گیا اور اس پر مرنے والے کے پندرہ کروڑ سے چالیس کروڑ رتک ہڑپ لینے کا الزام لگا دیا گیا۔ میڈیا نے عوام کا لگاتار برین واش کرکے اسے ایک خون آشام ہجوم میں تبدیل کردیا ہے۔ رہائی کے بعد ریا کے لئے گھر سے باہر نکلنا مشکل ہوجائے گا۔
 ملک کی تین بڑی تحقیقاتی ایجنسیاں سی بی آئی، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی ) اور منشیات کنٹرول بیورو (این سی بی ) نے اتنی جانفشانی سے بینکوں کو چونا لگانے والوں کے خلاف جانچ کی ہوتی جتنی سوشانت کیس کی کررہے ہیں، تو وجے مالیہ، نیرو مودی اور میہول چوکسی جیسے ڈیفالٹر زقوم کے ہزار کروڑ لے کر فرار نہ ہوپاتے۔ دراصل سوشانت کی خودکشی کو میڈیا کے ذریعہ زبردستی مرڈر ثابت کرنے کی ایک سازش ر چی گئی،اس سازش میں صرف سچ کا قتل نہیں ہوا بلکہ ریا بھی قربان کر دی گئی۔مجھے لگتا ہے کہ پہلے دن ہی سی بی آئی اور ای ڈی کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک فرضی مرڈر اور جعلی غبن کا کیس حل کرنے کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی ہے۔اس کے باوجود دونوں ایجنسیوں نے میڈیا اور تماشہ کی طلبگار پبلک کے زبردست دباؤ کی وجہ سے اس کیس پر دن رات مشقت کی۔ پھر بھی کچھ ہاتھ نہ آیا۔ پچھلے ہفتے ریا کی گرفتاری پر جشن منانے والے میڈیا اور تماش بین جس اہم حقیقت سے چشم پوشی کررہے ہیں وہ یہ ہے کہ سی بی آئی یا ای ڈی کو قتل یا کروڑ وں کے غبن کا کوئی سراغ نہیں مل پایا ہے۔ ریا کو سوشانت کیلئے محض چٹکی بھر چرس لانے کے جرم میں جیل بھیجا گیا ہے۔  
 ریا کی گرفتاری کے بعد جب لگا کہ ڈراما ختم ہوجائے گا تواس میں کنگنا رناوت کی اینٹری کر وادی گئی۔ نریندرمودی حکومت کے ذریعہ کنگنا کو وائی پلس سیکوریٹی کی فراہمی اور بہار کی انتخابی مہم میں بی جے پی کے پوسٹر پرسوشانت کی تصویر کی موجودگی سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ اس سارے تماشے کا اسکرپٹ کس کا تحریر کردہ ہے۔ جو میڈیا ممبئی کارپوریشن کے ذریعہ کنگنا کے دفتر کی کھڑکیوں کے چند شیشوں کی توڑ پھوڑ کو’’جمہوریت کا قتل‘‘ بتارہا تھا اس نے دہلی میں غریبوں  کی ۴۸۰۰۰؍ جھونپڑیوں پر بلڈوزر چلانے کے پلان پر زبان تک نہیں کھولی۔ مودی جی نے’’ جہاں جھگی وہیں مکان‘‘یوجنا کے تحت دہلی کے ہر جھگی باسی کو پکا مکان فراہم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی میڈیا کو یاد نہیں آیا۔ بی جے پی کے لئے کنگنا تو ایک بہانہ ہے، شیوسینا اور اُدھو ٹھاکرے پر اصل نشانہ ہے۔ابھی دس ماہ قبل تک شوسینا بی جے پی کی سب سے دیرینہ اور قابل اعتماد حلیف تھی۔ لیکن اب اُدھو ’’بابر‘‘ اور ممبئی ’’پاک مقبوضہ کشمیر‘‘ بن گئے ہیں کیونکہ شوسینا نے بی جے پی کو مہاراشٹر کے تخت سے محروم کردیا تھا۔ کنگنا اور ارنب کو مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ سے گستاخانہ انداز تخاطب کی کبھی جرأت نہ ہوتی اگر ان کے سروں پر اقتدار اعلیٰ کا ہاتھ نہ ہوتا۔   
  اس وقت ملک کو تین بہت بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک، معیشت کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے، جی ڈی  پی ۲۴؍فیصد سکڑ گئی ہے اورکروڑ وں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ دو، کورونا جس پر مودی جی نے اکیس دن میں قابو کرلینے کا دعویٰ کیا تھا، اکیس ہفتوں بعد پہلے سے زیادہ بے قابو ہوگیا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ یومیہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے اورکورونا کے متاثرین کی مجموعی تعداد بہت جلد نصف کروڑ ہو جائے گی۔
  تین،ممبئی کے فلیٹ میں پنکھے سے جھولتی سوشانت کی لاش ۱۴؍ جون کو ملی اور ایک دن بعد پندرہ جون کی رات میں ہزاروں کلو میٹر دور لداخ کے گلوان وادی میں چینی فوج نے ایک کرنل سمیت بیس ہندوستانی فوجیوں کو شہید کردیا۔ ۴۵؍ برسوں کے بعد پہلی بار ہندوستان ۔چین سرحد لہولہان ہوئی۔ پچھلے ہفتے چینی فوج نے ۱۹۷۵ء  کے بعد سے سر حدوں پر جاری نو فائرنگ معاہدہ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے پہلی بار فائرنگ کرکے اپنے جارحانہ عزائم کا اعلان کر دیا۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سمجھوتہ تو ہوا ہے تاہم مشترکہ اعلامیہ میں نہ تو ایل اے سی کا نام لیا گیا ہے اور نہ ہی چین کے ذریعہ حال میں غاصبانہ قبضہ کئے گئے ہندوستانی علاقے کو خالی کرانے کاکوئی ذکر ہے۔ ایک طرف زمین بوس ہوتی ہماری اکانومی، دوسری جانب آسمان چھوتا کووڈ۔۱۹؍ اور تیسری طرف ایل اے سی پر چین کے ناپاک عزائم کی وجہ سے ملک کی سلامتی کو لاحق خطرہ۔ اسوقت ملک کو ان تین گمبھیر مسائل بلکہ بحرانوں کا سامنا ہے۔  تاہم تین ماہ سے یہ سنگین قومی بحران جن کا ہندوستانی عوام کی زندگی سے گہرا تعلق ہے ٹی وی کے پردوں سے غائب ہیں۔ امید ہے اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میڈیا سرکس کا پورا گیم پلان کیا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK