Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرنال سین نے بامعنی فلمیں بناکر سماجی شعور بیدار کیا

Updated: May 14, 2026, 9:58 AM IST | Agency | Mumbai

مرنال سین ہندوستان کے ممتاز فلمساز، ہدایتکار اور اسکرین رائٹر تھے، جو خاص طور پر متوازی سنیما کے اہم ستونوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

Mrinal Sen Raised Social Awareness By Making Meaningful Films.Photo:INN
مرنال سین آرٹ فلموں کے ماہر-تصویر:آئی این این
مرنال سین ہندوستان کے ممتاز فلمساز، ہدایتکار اور اسکرین رائٹر تھے، جو خاص طور پر متوازی سنیما کے اہم ستونوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ مرنال سین نےہندوستانی سنیما میں حقیقت پسندانہ اور سماجی شعورپرمبنی فلموں کے ذریعے ایک نئی راہ متعین کی۔ وہ ان فلم سازوں میں شامل تھے جنہوں نے فلم کو محض تفریح نہیں بلکہ سماجی و سیاسی اظہار کا ذریعہ بنایا۔ 
 
 
ہندستانی فلمی دنیا میں مرنال سین کا نام ایسے فلمساز وںمیں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی فلموں کےذریعےہندی سنیما کو بین الاقوامی سطح پر خاص شناخت دلائی۔ مرنال سین کو ستیہ جیت رے اور رتوک گھٹک کے ساتھ ہندستانی آرٹ سنیما کا ’سنہرا سہ رخی‘ یعنی گولڈن ٹرائیو کہا جاتا ہے۔انہوں نے نہ صرف ہندوستانی بلکہ عالمی سنیما پر بھی گہرا اثر ڈالا اور آج بھی ان کی فلمیں سماجی شعور اور فکری گہرائی کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔۱۴؍مئی ۱۹۲۳ءکوفرید آباد (موجودہ بنگلہ دیش) میںپیدا ہوئے مرنال سین نےابتدائی تعلیم فرید آباد سےحاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نےکلکتہ کے مشہور اسکاٹش چرچ کالج سے مزید تعلیم حاصل کی۔ اس دوران وہ کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے منعقد ثقافتی پروگراموں میں شرکت کرنے لگے۔ 
 
 
کالج سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد مرنال سین کی دلچسپی فلموں کےتئیںبڑھنےلگی اور وہ فلم سازی سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کرنے لگے۔ اس دور کے وہ اپنے دوست رتوک گھٹک اور سلیل چودھری سے اکثر کہاکرتےکہ مستقبل میں وہ بامعنی فلمیں بنائیں گے لیکن خاندان کی اقتصادی حالت خراب ہونے کی وجہ سے انہیں اپنا یہ خیال ملتوی کرنا پڑا اور طبی نمائندے کےطور پر کام کرنا پڑا۔طبی نمائندے کے طورپرکچھ دنوںتک کام کرنے کے بعد جب ان کا دل اس کام میںنہیں لگا تو انہوں نے یہ نوکری چھوڑ دی۔مرنال سین فلمی صنعت میں اپنےکریئر کی شروعات کولکتہ فلم اسٹوڈیو میں بطور ’آڈیو ٹیکنیشین‘ کی۔بطور ڈائریکٹرمرنال سین کے کریئرکی پہلی فلم ۱۹۵۵ءمیں ریلیز ہونے فلم ’رات بھور‘تھی جو باکس آفس پر بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔ اس کے بعد ۱۹۵۸ءمیںمرنال سین کی فلم ’نیل اکاشے نیچے‘ ریلیز ہوئی۔جب فلم ریلیز ہوئی تو اس فلم میں بائیں بازو نظریات کے پیش نظر اس پر دو مہینے کے لئے پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد وہ کسی حد تک بطور ڈائریکٹر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہے۔ مرنال سین کو اپنے ۴؍دہائی طویل فلمی کریئرمیں خوب عزت ملی۔۱۹۸۱ءمیںمرنال سین کو پدم بھوش ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ۲۰۰۵ء میںفلمی دنیا کے اعلی ترین اعزازدادا صاحب پھالکے ایوارڈسےبھی انہیںنوازا گیا۔ ان سب کے ساتھ ہی مرنال سین کو ان کی فلموں کیلئےکانز، برلن، شکاگو، وینس جیسے کئی فلم فیسٹول میں خصوصی انعام سے سرفراز کیا گیا۔ فلموں میں اہم شراکت کے ساتھ ہی وہ سماج کی خدمت کیلئے ۱۹۹۸ء سے ۲۰۰۳ء تک راجیہ سبھا رکن بھی رہ چکے ہیں۔ مرنال سین کئی برسوں سے عمر رسیدگی سے متعلق بیماریوں میں مبتلاتھے۔ وہ ۳۰؍ دسمبر ۲۰۱۸ء کو ۹۵؍ سال کی عمر میں کولکاتا کے میں اپنے گھر پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK