یونیفارم سے متعلق نئی ہدایات جاری کی گئیں، طلبہ کو ’’محدود روایتی اور مذہبی علامات‘‘ پہننے کی اجازت دی گئی۔
کرناٹک میں حجاب کے خلاف شرپسندی کے وقت مسکان خان نامی یہ طالبہ حجاب حامی تحریک کی علامت بن گئی تھی- تصویر:آئی این این
بنگلور(ایجنسی): کرناٹک کی کانگریس حکومتنے بدھ کوتعلیمی اداروں میں یونیفارم سے متعلق سابقہ بی جےپی حکومت کے ۵؍ فروری ۲۰۲۲ء کے اس متنازع حکم کو واپس لے لیا جس کی بنیاد پر اسکولوں میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد ہوگئی تھی۔ یونیفارم کے تعلق سے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جن میں طلبہ کو مقررہ یونیفارم کے ساتھ ’’محدود روایتی اور مذہبی علامات‘‘ پہننے کی اجازت دی گئی ہے۔کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ۱۹۸۴ء کے تحت۱۳؍مئی کو جاری کردہ نئے حکم میں ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ سرکاری، امدادیافتہ اور نجی اسکولوں اور پری یونیورسٹی کالجوں کے طلبہ حجاب/ ہیڈ اسکارف، پگڑی، مذہبی دھاگا، رودراکش اور اسی نوعیت کی روایتی علامات یا لباس پہن سکتے ہیں بشرطیکہ وہ مقررہ یونیفارم کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوں اور نظم و ضبط، سلامتی یا شناخت کے عمل پر اثر انداز نہ ہوں۔پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کے وزیر مدھو بنگارپا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’’کسی بھی طالب علم کو ایسی اجازت یافتہ مذہبی یا روایتی علامات پہننے کی وجہ سے کلاس روم، امتحان ہال یا تعلیمی سرگرمیوں میں داخلے سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘انہوں نے واضح کیا کہ کسی طالب علم کو نہ تو ایسی علامات پہننے پر مجبور کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہٹانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
ایک ووٹ سے جیتنے والے ٹی وی کے رُکن اسمبلی کوراحت
نئی دہلی(ایجنسی): تمل ناڈو میں ڈی ایم کےقدآور لیڈر کے آر پیریاکروپن کو ایک ووٹ سے ہرا کر رکن اسمبلی بننے والے وجے کی پارٹی کے لیڈر آر سینی واسا سیتھو پتی کو بدھ کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ ڈی ایم کے لیڈر پیریاکروپن نے ان کی جیت کو چیلنج کرتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی تھی اور استدعا کی تھی کہ انہیں فی الحال بطور ایم ایل اے کام کرنے سے روک دیا جائے۔ ہائی کورٹ نے ان کی اپیل کےمطابق حکم سنایاتھا جس کےبعد سیتھو پتی نہ بطور ایم ایل اے حلف لے سکے ہیں اور نہ ہی وزیراعلیٰ سی جوزف وجے کی تحریک اعتماد میں ووٹ دے سکے۔ سیتھو پتی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیاتھا جس نے ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگادی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ، سندیپ مہتا اورجسٹس وجے بشنوئی کی بنچ نے ہائی کورٹ کے حکم کوظالمانہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت سرزنش کی۔عدالت نے کہا کہ ’’اس کو کم ازکم ظالمانہ کہا جائے گا۔‘‘عدالت نے کہا کہ ہم نے فریقین کے سینئر وکلاء کو سنا ۔ مدعا علیہ کے وکیل کو دو ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔ اس دوران حکم امتناعی برقرار رہے گا۔ہائی کورٹ کے سامنے مزید کارروائی بھی روک دی گئی ہے۔ ڈی ایم کے امیدوار پیریاکروپن نے نتیجے کو چیلنج کرتے ہوئے گنتی کے عمل میں تضادات کا الزام لگایا ہے۔