ممی، پاپا اور میں... بس 

Updated: June 14, 2020, 11:35 AM IST | Prof Syed Iqbal

اب تو ہمارے یہاں بھی اچھے خاصے لوگ ایک بچہ والی پالیسی (چاہے لڑکا ہویا لڑکی) قبول کرنے لگے ہیں۔۲۰۱۱ء میں نیشنل کونسل آف ایمپلائمنٹ اکنامک ریسرچ کی ایک تحقیق نے پہلی بار یہ انکشاف کیا ( جس پر اکثر لوگوں کی نظر نہیں گئی) کہ ملک کے ۱۰؍ فیصد خاندانوں نے ایک اولادپر اکتفا کرلیا ہے اور وہ دوسرا بچہ نہیں چاہتے۔ یہ تحقیق بڑی چونکا دینے والی تھی

Parents with Childrens - Pic : INN
والدین بچوں کے ساتھ ۔ تصویر : آئی این این

 لاک ڈاؤن میں بیٹھے بیٹھے ڈھیر ساری باتیں یاد آتی ہیں۔ اپنی چھوٹی چھوٹی خطائیں یاد آتی ہیں، وہ نیکیاں بھی جو نہ جانے ہم ایسے گناہ گار سے کیسے سرزد ہوگئیں؟ گناہوں کے لئے اللہ میاں سے معافی مانگ لیتے ہیں اور نیکیوں پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں.... مگر خیر وشر کے ان معاملات کے ساتھ جو اوٹ پٹانگ  باتیں یاد آتی ہیں ان پر حیرت بھی ہوتی ہے  اور غصہ بھی آتا ہے۔ آج اپنے بچوں کو آس پاس شرارتیں کرتے دیکھا تو دل ممنونیت سے بھر گیا کہ ہم واقعی خوش نصیب ہیں جو اولاد کی نعمت حاصل ہے۔ اس پر یادآیا کہ چینی حکومت کتنی ظالم تھی جس نے بچوں کی تعداد پر پابندی لگادی تھی۔ یہ قدرت کے نظام سے کھلواڑ کرنا تھا جس کی آج وہ بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔ حکومت کے اس ظالمانہ قانون سے بچنے کیلئے لوگوں نے اپنے دوسرے بچے کو گاؤں میں رشتہ داروں کے ہاں بھجوانا شروع کردیا تھا اور حکومت کو اس کی خبر تک نہیں لگی۔ ہر خاندان کو ایک عدد لڑکا بھی چاہئے تھا، اسلئے چین آبادی میں مردوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ اب حال یہ ہے کہ مرد بوڑھے ہونے لگے ہیں اور جب کام کرنے کیلئے مرد نہ ہوں تو معاشی نقصان ہونے لگتا ہے۔ ٹیکس کی آمدنی میں کمی آجاتی ہے اور معمر افراد کیلئے نظام صحت بھی ناکافی ہوتا ہے۔ انہی حالات کے مدنظر چینی حکومت کو ۲۰۱۵ء میں مجبوراً  اپنی پالیسی منسوخ کرنی پڑی۔
 دیگر ممالک کے مقابلے میں چینی حکومت کی کثیر آبادی پر روک لگانے والی صرف ایک بچہ کی پالیسی سمجھ میں آتی ہے کہ کمیونسٹ حکومت اس کے علاوہ کچھ سوچ بھی نہیں سکتی مگر یورپی ممالک نے تو بیس پچیس برس پہلے ہی بچوں کی تعداد کم کرنی شروع کردی تھی ۔ جیسے ہی خواتین کو آزادی ملی ، وہ اپنے گھروں سے نکلیں اور ملازمت میں جٹ گئیں۔ تعلیم عام ہونے کی وجہ سے لڑکیوں نے بھی اپنی تعلیمی لیاقت کو مارکیٹ میں بھنوانا شروع کر دیا۔ملازمت کے دباؤ میں انہیں محسوس ہوا کہ کام کرنے کے ساتھ وہ بچوں کی پرورش کا بوجھ نہیں اٹھاسکتیں۔ اسلئے میاں بیوی نے اپنے طورپر طے کرلیا کہ یا تو سرے سے  بچے پیدا ہی نہ کریں یا پھر ایک بچے پر اکتفا کرلیں۔ جس تیزی  سے مغرب کے اس تصور نے ہمارے ہاں قدم جمائے، اس کا  ذکر ہی فضول ہے۔ ہم تو ویسے بھی مغربی معاشرےکی ساری اداؤں کو ہنسی خوشی قبول کرکے اپنی ساری روایتیں بھلانے میں طاق ہوچکے ہیں لہٰذا اس معاملے میں بھی ہم نے وہی کیا جو مغرب میں رواج پاچکا تھا۔ ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہماری لڑکیاں بھی  بچوں کی تعداد پر روک لگائیں گی لیکن یہ ’کارخیر‘بھی اس خاموشی سے کیا گیا کہ کسی کو اس کا احساس بھی نہیں ہوا بلکہ برسہا برس تک لوگ یہی سمجھتے رہے کہ شاید قدرت کو یہی منظور تھا۔ البتہ بعض کم پڑھی لکھی لڑکیاں اور گاؤں کی ناخواندہ بچیاں اپنی برسوں پر انی روایت پر کاربند رہیں اوراپنے خاندان میں بچوں کا اضافہ کرتی رہیں۔ 
 نّوے کی دہائی میں ملک کی معاشی حالت بہتر ہوئی تو تعلیم کے فروغ اور روزگار کی کثرت نے عورتوں کو’جاب‘ کی طرف مائل کرنا شروع کیا۔ اب ایک ایسی مڈل کلاس وجود میں آئی جہاں پڑھے لکھے ، مرد وعورت  اپنے کریئر کیلئے وہ سارے اقدامات کرنے لگے جس سے وہ ترقی کرسکیں۔ معاشی حالت کی بہتری کے ساتھ ساتھ ایک نئے طرز کی سرمایہ داری نے ہماری زندگی میں داخل ہونے لگی۔ تنخواہیں بڑھیں، لائف اسٹائل بدلا اور ہر کوئی ایک فلیٹ اور گاڑی کا مالک بننے لگا۔ لوگ بہتر مستقبل کیلئے انویسمنٹ کے نئے راستے ڈھونڈھنے لگے جو بلا شبہ معاشی ترقی کی علامت ہے۔ اب  لوگ خرچ کرتے تھے مگر انہی جگہوں پر جہاں سے انہیں مالی فائدہ ہو۔ عزیزوں اور رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا رجحان کم سے کمتر ہونے لگا۔ یہاں تک کہ بوڑھے والدین پر خرچ کرنا بھی بوجھ بن گیا۔ اب ورلڈ ٹور کی پلاننگ کرنا تھی، سمر ہوم کا منصوبہ بنانا تھا، ریٹائرمنٹ کے بعد کی کمائی کی اسکیم بنانی تھی، ایسے میں ایک سے زائد بچے پر خرچ کرنے کا خیال ہی حماقت تھی۔نتیجتاً اچھے خاصے لوگ بھی ایک بچہ والی پالیسی (چاہے لڑکا ہویا لڑکی) قبول کرنے لگے۔
 ۲۰۱۱ء میں نیشنل کونسل آف ایمپلائمنٹ اکنامک ریسرچ کی ایک تحقیق نے پہلی بار یہ انکشاف کیا ( جس پر اکثر لوگوں کی نظر نہیں گئی) کہ ملک کے۱۰؍ فیصد خاندانوں نے ایک اولادپر اکتفا کرلیا ہے اور وہ دوسرا بچہ نہیں چاہتے۔ یہ تحقیق بڑی چونکا دینے والی تھی۔ پھر بھی ہم نہیں چونکے کیونکہ درون خانہ کیا کچھ ہوتا ہے اس سے اکثر ہمیں غرض نہیں ہوتی۔ حکومت نے بھی اس کی تشہیر نہیں کی کیوں کہ یہ اس کی خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی کی فتح تھی اوراس فتح کیلئے اسے کچھ بھی نہیں کرنا پڑا تھا۔ اب آپ بھی اپنے آس پاس دیکھ لیجئے۔ آپ کے پڑوسیوں اوردوستوں کے کچھ گھروں میں ایک ہی بچہ ہوگا اور اس کی پس پشت وجوہات پر آپ نے کبھی غور ہی نہیں کیا ہوگا۔
  کبھی ہمت کرکے ان والدین سے پوچھیں کہ آخر آپ نےایک ہی بچے پر کیوں اکتفا کرلیا۔ تو ان کے پاس کئی دلیلیں ہوں گی اور ان دلیلوں کو سن کر آپ حیران ہوجائیں گے۔ کوئی صاحب کہیں گے کہ مہنگائی کے اس دور میں گھر چلانا یوں بھی مشکل ہوتا ہے، اس پر بچوں کا اضافی خرچ برداشت کرنے سے بہتر ہے گھر میں ایک ہی بچہ ہو۔ دوسرے صاحب کہیں گے، ایک بچہ ہوتواس پرمکمل توجہ دی جاسکتی ہے، بہتر تعلیم اور دیگر ضروریات  بہم پہنچائی جاسکتی ہیں، اس طرح ایک اچھا کریئر پلان کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس دوران آپ کے منہ سے نکل جائے کہ اپنے بھائی بہن کی غیر موجودگی میں وہ خوش قسمت بچہ اکیلا نہیں ہوجائے گا، تو ان کا جواب ہوگا، ہم جو موجود ہیں، اس کے کزن ہیں، دوست ہوں گے اس لئے اکیلے پن کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ یہ سن کر آپ کو خاموشی ہی میں عافیت نظرآئے گی۔ اب ایسے ہی خاندان میں ایک عد دبچی کو اکیلے اکیلے کھیلتے ہوئے کسی نے پوچھ لیا کہ یہ بچی خود کو تنہا نہیں محسوس کرتی ہوگی تو والد محترم کا جواب تھا، اپنی  بیٹی کو مصروف رکھنے کیلئے ہم نے مناسب انتظامات کر رکھے ہیں، یہ رقص اور موسیقی کی تربیت حاصل کررہی ہے، یوگا کرتی ہے ، شام کو مارشل آرٹس کی کلاس اٹینڈ کرتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹی اتنی قابل ہوجائے کہ وہ آگے جاکر خودکفیل ہوسکے۔’’ اور بڑھاپے میں آپ کا خیال کون رکھے گا؟‘‘ ویسے تو ہم نے بڑھاپے کی  پلاننگ کررکھی ہے اورامید ہے بیٹی بھی ہمارا  خیال رکھے گی۔  ’’ایک بچی پر بوجھ نہیں بڑھ جائے گا؟‘‘ یہ سن کر موصوف بولے ’’آپ کی سوچ بڑی روایتی ہے ، آج زمانہ بہت بدل چکا ہے بالفاظ دیگر ، زمانہ بدل گیا مگر ہم نہیں بدلے۔
 ٹھیک ہے صاحب ، زمانہ بدل گیا ، ہم نہیں بدلے ۔ لیکن اس خالق کائنات پر ہمارا آج بھی ایمان ہے جو انسانوں کو پیدا کرتا ہے، انہیں رزق دیتا ہے اور جیسے کہ بے شمار سامان عطا کرتا ہے ۔ یہ ہماری خودپسندی ہے جو اپنے منصوبوں کو ہم سب کچھ سمجھ بیٹھے۔ ورنہ منصوبہ بنانے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔ افسوس ہے تو اس بات پر ہے کہ آپ نے اس کے  نظام میں دخل اندازی کرنے کی جرأت کی ہے۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ جس اکلوتے بچے سے آپ نے اتنی ساری امیدیں لگا رکھی ہیں وہ آپ کی امید پر پورا اترے گا؟کیا آپ کے بڑھاپے میں اس کی اپنی مصروفیات آپ سے تعاون کرپائیں گی؟ تھوڑی دیر کیلئے ان باتوں کو جانے دیجئے۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اتنا بتادیجئے ، کیا واقعی آپ ایک بچے سےمطمئن ہیں؟ کیا  آپ کو دوسرے بچے کی خواہش کبھی نہیں ہوئی؟ ذرا یادکیجئے، آپ کے والدین اوران کے والدین نے تو کبھی اپنی اولاد کی تعداد پر روک نہیں لگائی بلکہ ہمارے گھروں میں بچوں کی وجہ سے ہمیشہ زندگی کا احساس باقی رہا، چہل پہل اور رونق رہی  ۔ اسلئے ہمیں آپ کے اس اقدام پر حیرت ہوتی ہے۔ ویسے کبھی غریبوں کی بستی میں بھی جاکر دیکھئے گا جن کے پاس وسائل بھی نہیں ہوتے مگر وہ کثیرالعیال ہیں اور بچوں کے ساتھ بڑے مزے سے جی رہے ہیں۔ آخر وہ کس ذات کے بھروسے ایک سے زائد بچے پیدا کررہے ہیں؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK