مسلم آبادی: حقیقت اور مفروضہ

Updated: May 11, 2022, 11:22 AM IST | Mumbai

 نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کی تازہ ترین رپورٹ نے ہندوتوا عناصر کے جھوٹ کا پردہ فاش اور ان کے ذریعہ پھیلائی جانے والی گمراہی کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کی تازہ ترین رپورٹ نے ہندوتوا عناصر کے جھوٹ کا پردہ فاش اور ان کے ذریعہ پھیلائی جانے والی گمراہی کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔ حال ہی میں منظر عام پر آنے والی رپورٹ نے واضح کردیا ہے کہ مسلم آبادی میں اضافہ کی شرح کم ہوئی ہے نہ کہ بڑھی ہے جیسا کہ باور کرایا جاتا ہے اور اس بنیاد پر غیر ضروری تاویلات پیش کرکے اکثریتی اور اقلیتی طبقات میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ فرقہ پرستوں کا کوئی نیا ہتھکنڈہ نہیں ہے۔ وہ عرصہ ٔ دراز سے سیاسی مفادات کے تحت اکثریتی فرقہ کے ذہن پر یہ بات نقش کردینے پر تُلے رہتے ہیں کہ عنقریب ملک میں مسلمانوں کی آبادی، ہندوؤں کی آبادی سے زیادہ ہوجائیگی، مسلمان اکثریت میں ہوں گے اور حکومت اُن کی ہوگی۔ہرچند کہ ماہرین نے ماضی میں بھی اور اِدھر چند برسوں میں بھی تواتر کے ساتھ اس کی نفی کی ہے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے، جو آبادیات کے ماہر ہیں، اپنی معرکۃ الآرا کتاب ’’دی پاپولیشن متھ‘‘ (آبادی کا مفروضہ) میں کہا تھا کہ اقلیتی آبادی کے غالب آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اُنہوں نے حصول آزادی کے بعد کی سات دہائیوں کے اعدادوشمار کا جائزہ لیتے ہوئے بہت تفصیل سے بتایا تھا کہ مسلم آبادی ہی کی طرح مسلمانوں کی ایک سے زائد شادی بھی مفروضہ ہے۔ کتاب ہذا کے مطابق مسلمانوں میں ملک کی دیگر قوموں کے مقابلے میں تعدد ازواج سب سے کم ہے۔ تعدد ازواج کا رجحان سب سے زیادہ قبائلی آبادی میں (۱۵ء۲۵؍ فیصد)، اس کے بعد بدھشٹ برادری میں (۹ء۷۰؍ فیصد)، اس کے بعد جین برادری میں (۶ء۷۲؍ فیصد)، پھر ہندو برادران میں (۵ء۸؍ فیصد) اور سب سے کم، مسلمانوں میں (۵ء۷؍ فیصد) ہے۔ کتاب میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وطن عزیز میں تعدد ازواج کے تقویت پانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ سات دہائیوں میں کے اعدادوشمار شاہد ہیں کہ خواتین کی آبادی مردوں کی آبادی سے کم ہی رہی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ۱۹۷۴ء میں سوشل ویلفیئر منسٹری کے ذریعہ کرائے گئے ایک سروے کا بھی حوالہ دیا تھا جس سے منکشف تھا کہ تعدد ازواج یا تعدد ازدواج کا رجحان سب سے کم مسلمانوں میں ہے۔ 
 اس کے باوجود فرقہ پرستوں کا پروپیگنڈہ جاری رہا جو من مانے طریقے سے سن عیسوی بھی طے کرتے رہے۔ کبھی کہا کہ ۲۰۲۹ء تک اور کبھی کہا کہ ۲۰۳۵ء تک اقلیتی فرقے کی آبادی اکثریتی فرقے سے زیادہ ہوجائیگی۔ کبھی براہ راست یہ بات نہیں کہی تو دوسرا راگ الاپا کہ ملک کے وسائل کا بڑا حصہ مسلمانوں کے صرف میں رہتا ہے۔ جب سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے وسائل سے محروم طبقات ِ آبادی کی بابت کہا تھا کہ ملک کے وسائل پر پہلا حق اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا ہونا چاہئے تو اتنا طومار باندھا گیا کہ خدا کی پناہ۔ منموہن سنگھ کا بیان کسی وضاحت کا محتاج نہیں تھا۔ اسے سیاق و سباق کے بغیر پھیلایا گیا۔ مقصد اکثریتی طبقے کو ورغلانا تھا جبکہ منموہن سنگھ نے ’’مساوی حق‘‘ اور اسے یقینی بنانے کیلئے ’’ندرت آمیز طریقے‘‘ تلاش کرنے کی بات کہی تھی۔  عجب نہیں کہ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کی زیر بحث رپورٹ کے باوجود ملک کے فرقہ پرست اپنے پروپیگنڈے پر قائم ہی رہیں کیونکہ انہیں حقائق، اعدادوشمار، رپورٹس اور دستاویزات سے کچھ لینا دینا نہیں۔ صرف جھوٹ سے سروکار ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK