نوبیل انعام یافتہ مصنف داریو فو جواحتجاج کی توانا آواز تھے

Updated: March 23, 2020, 12:59 PM IST | Shahid Nadeem

یہ اتفاق ہے کہ جس روز ۲۰۱۰ء کے نوبیل ادبی ایوارڈ کے لئے باب ڈیلن کے نام کا اعلان ہوا ، اسی روز اٹلی کے ممتازطنز و مزاح نگار ، سرگرم سیاسی کارکن اور نوبیل ایوارڈ یافتہ واریوفو دنیا سے رخصت ہوئے۔

Dario Fo - Pic : Wikipedia
داریو فو ۔ تصویر : وکی پیڈیا

  ان کی  عمر نوّے برس تھی۔ اپنے مارکسی عقیدے اور احتجاجی رویے کی وجہ سے فوکو کئی بار تنازعوں اور مقدموں کا سامنا کرنا پڑا۔موت سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے کہا تھا کہ’’ مجھے موت کا خوف نہیں ، لیکن اس کی خواہش بھی نہیں، اگر آپ ایک عمدہ زندگی بسر کریں تویہ زندگی کا بہتر اختتام ہوگا۔‘‘ان کے بیٹے کے مطابق عمر کے آخری دنوں میں وہ اپنے آپ سے لڑتے رہے، اور جب تک اسپتال میں داخل نہیں کئے گئے ، دس دس گھنٹہ مسلسل کام کرتے رہے۔  واریو فو کی زندگی بھی کسی دلچسپ کہانی سے کم نہیں، اپنی بیوی فرینکا رامے سے انہیںنے بے انتہا لگاؤ اور محبت تھی۔ ۱۹۹۷ء میں جب واریو فو کو نوبیل انعام دینے  کا اعلان کیا گیا تو سب کی نگاہیں رامے کو تلاش کررہی تھیں۔ رامے اس وقت میلان کے ایک تھیٹر میں اسٹیج پر اداکاری کررہی تھیں۔ فو  وہاں پہنچ گئے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کا ذکر انہوںنے اپنی نوبیل تقریر میں بڑی تفصیل سے کیا ہے۔ ’’میلان چھوٹا سا شہر  ہے سارے لوگ انہیں جانتے پہچانتے تھے۔ صحافیوں اور فوٹو گرافروں نے انہیں گھیر لیا۔ تھیٹر کے قریب سے گزرنے والی ٹرام رک گئی۔ مسافروں سمیت ڈرائیور مبارکباد دینے اترگئے ، راہ چلتے لوگ بھی اس میں شریک ہوگئے، ہجوم لگ گیا۔ کسی نے سوال کیا فرینکا کہاں ہے؟ سب خاموش ہوگئے۔ ڈراما ختم ہونے کے بعد وہ باہر نکلی ، ایوارڈ کے بارے میں معلوم ہوا تو نم ناک آنکھوں سے فوسے لپٹ گئی۔ اس دوران ٹولی ڈرم بگل بجاتی کہیں سے آنکلی۔ شاید وہ پہلی بار گاتے بجاتے نکلے تھے، بالکل بے سرے۔ اس کے باوجود دونوں کو وہ دنیا کی سب سے عمدہ موسیقی لگ رہی تھی۔ نوبیل کمیٹی نے فوکوایوار ڈ دیتے ہوئے فرینکا کی صلاحیت کا بھی اعتراف کیا تھا۔
  اپنی تقریر کے اختتام پرداریوفونے بتایا کہ اس وقت جب وہ یہاں تقریر کررہے ہیں ، فرینکا ایک ڈراما میں مصروف ہے۔ اور دوسرے روز اس تقریب میں شامل ہوگی۔ اسے لینے وہ ایئر پورٹ جائیں گے اگر سامعین میں سے کوئی ان کے ساتھ آنا چاہے تو آسکتا ہے۔  داریوفو اور فرینکا رائے کی پہلی ملاقات بڑے دلچسپ انداز میں ہوئی تھی، فو کی طرح فرینکا کی پرورش بھی ڈراموں کے درمیان ہوئی تھی۔ اس کے امیدوار کا تھیٹر سے پرانا رشتہ تھا ، یہ خاندان سترہویں صدی سے کبھی خود ڈراما کرتا یا کرواتا رہتا تھا اورکافی مقبول تھا، فرینکا کی پیدائش کے وقت یہ لوگ ایک چلتے پھرتے ڈراما کمپنی کے لئے کام کررہے تھے۔ والد نیکو رائے شاعر اورانقلابی جماعت سوگالسٹ کے پارٹی ممبرتھے اور اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ سماجی کاموں اور مزدوروں کی ہڑتال وغیرہ پر خرچ کردیتے تھے۔ ماں بچوں کی پرورش کے علاوہ ڈراموں کے لئے لباس تیارکرتی تھی۔
  فرینکا اپنی پیدائش سے ہی ڈراموں سے جڑ گئی تھی، محض آٹھ دن کی فرینکا کو گود میں لئے ان کی ماں اسٹیج پر آئی تھی اور پھر  وہ رفتہ رفتہ میلان تھیٹر سے وابستہ ہوگئی۔ ۱۹۴۰ء میں واریوفوبھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میلان پہنچ گئے۔ کارل مارکس گرامچی ، لورکا اور بریخت سے انہیں خاص دلچسپی تھی۔ آرکیٹکچر کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسٹیج ڈیزائنگ اور تھیٹر کی آرائش کا کام بھی دیکھنے لگے۔ یہی وقت تھا جب اسمال تھیٹر شروع ہوا۔ جو بعد میں اسٹیج تھیٹر کے نام سے مشہور ہوا، اس دور میں ان کے پاس ڈراما دیکھنے کے پیسے تک نہیں ہوتے تھے۔
 ایک روز وہ فرینکا کے والد سے ملے اوراپنے مخصوص انداز میں کہانی سنائی، فرینکا کے والد اس سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہیں اپنے گروپ میں شامل کرلیا۔ فواور فرینکا کی پہلی ملاقات یہیں ہوئی۔ رفتہ رفتہ یہ دوستی محبت اور پھر شادی میں بدل گئی، اوریہ رشتہ تقریباً چھ دہائی تک برقرار رہا جو فرینکا  کی موت (۲۹؍ مئی ۲۰۱۳ء)  پر ختم ہوا۔
  اس پورے عرصہ میں دونوں نے بے شمار ڈرامے ، سیاسی جلسے ، احتجاج میں حصہ لیا۔ دونوں چرچ، کارخانوں، جیل اور پارک میں لوگوں کو سماجی برائیوں اور مستقبل کے خطرات سے آگاہ کرتے ۔ دونوں نے پولیس کی مار اور لوگوں کی گالیاں تک کھائیں، ان کے طعنے برداشت کئے۔ اس کے باوجود اپنے مقصد پر ڈٹے رہے۔ دونوں ساتھ ساتھ اسکولوں کالجوں میں جاکرطلبہ کی رہنمائی کرتے۔ خاص طورپر انہیں تعلیم کے گرتے معیار سے تشویش تھی لیکن ان کا تجربہ اکثر وبیشتر مایوس کن ثابت ہوا۔ طلبہ اور اساتذہ کا علم درسی کتابوں تک محدودتھا، لوگ ان کا مذاق اڑاتے اور بےتوجہی برتتے۔ سائنس اور جدید علوم کے نام پر امریکہ جس تہذیبی بے راہ روی کو فروغ دے رہا تھا اس سے وہ خوفزدہ تھے ۔ وہ بے خوف اور بلا جھجھک اس پر تنقید کرتے، اور لوگوں کو اس سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے۔
 آٹھ مارچ ۱۹۷۴ء خواتین کا عالمی دن تھا ، فرینکا رائے اسٹیج پر اپنا کردار ادا کررہی تھی۔ نیوفاشسٹوں کے ایک گروہ نے اسے بندوق کی نوک پر اسٹیج سے اغوا کرلیا اوراسے کافی اذیت پہنچائی، پورے اٹلی میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ لوگوں نے زبردست مخالفت کی۔  جس کے بعد  اسے رہا کردیاگیا۔ دومہینے بعد وہ ایک بار پھر اسٹیج پرتھی۔ اغوا کرنے والوں نے اس کے ساتھ جو سلوک کیا تھا اس کا ذکر اس نے کبھی کسی سے نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اپنے ہمراز، دم ساز داریوفوسے بھی نہیں۔ برسوں بعد ، ایک مونو لاگ کے دوران اس نے بتایا کہ اغوا کے دوران نہ صرف اس کی عصمت دری کی گئی بلکہ بلیڈ سے کاٹا اور سگریٹ سے جلایا بھی گیا تھا۔ ۱۹۹۸ء میں جوڈیشیل انکوائری سے پتہ چلا کہ یہ کام اٹلی پولیس کا تھا۔ زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ تمام مجرم صاف بچ گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK