اب تو آدھا بنگلہ دیش خالی نہیں ہوگا!۔

Updated: October 21, 2020, 11:24 AM IST | Parvez Hafiz

سماجی ترقی کے زیادہ تر جدول پر وطن عزیز بنگلہ دیش سے پیچھے رہ گیا ہے۔ بچوں کی شرح اموات ہو یا صحت عامہ، خاندانی منصوبہ بندی ہو یا ٹوائیلٹ کی تعمیر، تعلیم نسواں ہو یا زرعی اور صنعتی ترقی میں خواتین کی حصہ داری، ہر شعبے میں بنگلہ دیش کا ریکارڈ ہم سے بہتر ہے۔

Bangladesh Economy
بنگلہ دیش معیشت

 چند ماہ قبل جونئیر وزیر داخلہ جی کشن ریڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر متنازع شہریت قانون سی اے اے کے تحت پڑوسی ممالک کے مسلمانوں کو بھی ہندوستانی  شہریت دے دی جائے تو آدھا بنگلہ دیش خالی ہوجائے گا۔منتری جی کا اندیشہ بالکل بے بنیاد تھا۔ آثار تو پچھلے سال ہی نظر آگئے تھے جب بنگلہ دیش کی معاشی ترقی کو دیکھتے ہوئے ورلڈ بینک، ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور آئی ایم ایف جیسے عالمی اداروں نے اسے دنیا کی پانچ سب سے تیز گام معیشتوں میں شامل کر لیا تھا۔ورلڈ بینک نے پچھلے سال ہی پیشین گوئی کردی تھی کہ ۲۰۲۰ء تک بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی ہندوستان کی فی کس آمدنی سے آگے نکل جائے گی۔پچھلے ہفتے عالمی مالیاتی فنڈ(IMF) کے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک نے اس پر صرف صداقت کی مہر لگادی ہے۔
 ریڈی کے اس بیان کے پیچھے جو بنگلہ دیش کی قومی اہانت کے مترادف تھا،وہ تعصب اور تکبرکارفرما تھا جوہندوتوا نظریات کی دین ہے اور جس تعصب اور تکبر کے سبب امیت شاہ نے بنگلہ دیشیوںکو ’’دیمک‘‘قرار دیا تھا۔ جب پچھلے ہفتے سوشل میڈیا پر یہ خبر ٹرینڈ کرنے لگی اور مودی سرکار کو ہندوستان کی اس درگت کے لئے نشانہ بنایا جانے لگا تو صحافت کے نام پر سرکاری ڈگڈگی بجانے والے مداری آئی ایم ایف کو ہی جھٹلانے لگے۔ لیکن وہ کیا کیا جھٹلائیں گے؟آئی ایم ا یف کی رپورٹ نے یہ اندوہناک حقیقت بھی آشکارا کردی ہے کہ ہندوستان کی اکانومی دس فی صد سے زیادہ سکڑ جائے گی جبکہ بنگلہ دیش کی اکانومی میں چار فی صد سے زیادہ ترقی ہوگی۔ اور کچھ ہو یا نہ ہو عالمی مالیاتی ادارے کی رپورٹ نے بنگلہ دیش کے گھس پیٹھوں کی دراندازی کے بی جے پی کے انتخابی غبارے کی ہوا ضرور نکال دی ہے۔ ابھی بنگلہ دیش کی معاشی ترقی اور ہندوستان کے انحطاط پر ہمارے آنسو خشک بھی نہ ہوپائے تھے کہ ایک اور عالمی ادارے نے ہماری قومی حمیت پر ایک اور کراری ضرب لگادی۔ گلوبل ہنگر انڈیکس کی تازہ رپورٹ میں ہندوستان کو دنیا بھرکے ۱۰۷؍ بھوکے ممالک کی فہرست  میں ۹۴؍ ویں مقام پر رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ روانڈا، چاڈ، نائیجیریا جیسے صرف تیرہ ممالک ہی بچے ہیں جہاں ہندوستان سے زیادہ بھکمری ہے۔ وشو گرو بننے کا دعویٰ کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کیلئے بے شک یہ بے حد شرم کی بات ہے۔ ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لئے گلوبل ہنگر انڈیکس نے یہ بھی بتادیا کہ بنگلہ دیش کا اس فہرست میں ۷۵؍ واں نمبر ہے اور وہ ہم سے بہت بہتر پوزیشن میں ہے۔
 میری ناقص رائے میں فی کس جی ڈی پی میں بنگلہ دیش سے پچھڑ جانے سے بھی زیادہ شرمناک بات ہمارے لئے گلوبل ہنگر انڈیکس کا یہ مشاہدہ ہے کہ ہندوستان وہ ملک ہے جہاں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی حالت ساری دنیا میں سب سے زیادہ خستہ ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں پیٹ بھر کھانا نصیب نہیں ہوتا ہے۔
 جس ملک میں ایک مجسمہ پر تین ہزار کروڑ اورایک صنعت کار کی بیٹی کی شادی کے ایک دعوتی کارڈ پر تین لاکھ خرچ کردیئے جاتے ہیں، اسی ملک میں آج بھی لاکھوں معصوم بچے بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ سرکاری گوداموں میں لاکھوں ٹن اناج سڑ جاتے ہیں لیکن سرکار بھوکے بچوں کو دو مٹھی چاول فراہم کرنے میں ناکام ہے۔سماجی ترقی کے زیادہ تر جدول پر وطن عزیز بنگلہ دیش سے پیچھے رہ گیا ہے۔ بچوں کی شرح اموات ہو یا صحت عامہ، خاندانی منصوبہ بندی ہو یا ٹوائیلٹ کی تعمیر، تعلیم نسواں ہو یا زرعی اور صنعتی ترقی میں خواتین کی حصہ داری، ہر شعبے میں بنگلہ دیش کا ریکارڈ ہم سے بہتر ہے۔ بنگلہ دیش میں ایک مرد کی اوسط عمر ۷۱؍  سال اور ایک عورت کی اوسط عمر ۷۴؍سال ہے جبکہ ہندوستان میں یہ بالترتیب  ۶۷؍اور ۷۰؍ سال ہے۔
 شیخ حسینہ کے گیارہ سالہ دور اقتدار میں بنگلہ دیش نے ہر محاذ پر ترقی کی ہے۔ حسینہ کا طرز قیادت نیم آمرانہ ہوسکتا ہے لیکن عوام خوش ہیں کیونکہ ملک کی اکانومی اس عرصے  میں ۱۸۸؍ فی صد بڑھ گئی ہے۔ بنگلہ دیش اگلے مارچ میں اپنی آزادی کی پچاسویں سالگرہ منائے گا اور حسینہ پوری لگن سے اپنے ملک کو  ’’ سونار بانگلہ ‘‘بنانے میں مصروف ہیں۔آئی ایم ایف کی رپورٹ پر ایک بنگلہ دیشی کا یہ کمنٹ دلچسپ بھی ہے اور عبرت آمیز بھی: ’’ ہمیں ہندوستان کو ہرانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے: ہمارا ٹارگیٹ سنگاپور ہے۔‘‘ اور حسینہ کا ٹارگیٹ ہے: اگلے بیس برسوں میں بنگلہ دیش کو ترقی پذیر ملکوں کی فہرست سے نکال کر ترقی یافتہ ممالک کی صف کھڑا کردیں۔
 میں ماہر اقتصادیات نہیں ہوں تاہم اپنے مطالعے اور مشاہدات کی بنیاد پر اتنا کہ سکتا ہوں کہ کسی بھی ملک کی معیشت کی اچھی صحت کے لئے معاشرے کا صحت مند ہونا لازمی ہے۔ جس معاشرے میں سیاسی استحکام، امن و سکون، سماجی ہم آہنگی اور قانون کی حکمرانی ہو گی وہاں خوشحالی اور دولت کی فراوانی ہوگی۔ راہل گاندھی نے پتے کی بات کہی:’’مودی جی کی سربراہی میں پچھلے چھ برسوں میں کی گئی نفرت انگیز قوم پرستی کی زبردست کامیابی کا نتیجہ: بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل گیا۔‘‘
 ہمارے حکمراں’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس‘‘ کے نعرے تو لگاتے ہیں لیکن ایسے قانون بناتے ہیں جن کی رو سے ملک کے کروڑوں عوام کو دوسرے درجہ کا شہری بنادیا جائے گا۔ جب تک سماج سے ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ نہیں ہوتا ہے تب تک بے روزگاری، افلاس اور فاقہ کشی کا خاتمہ بھی ممکن نہیں ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے وہاں مساوات، انصاف اور قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے۔ جس معاشرے میں قانون جنونی بھیڑ کے ہاتھوں کا کھلونا بن جائے،’’گولی مارو سالوں کو‘‘  کے نعرے لگانے والے کو وائی پلس سیکوریٹی فراہم کی جائے، صوبائی حکومت غریب دہقان کی بیٹی کی اجتماعی آبرو ریزی اور قتل کرنے والوں کو بچانےکیلئے  اس کی لاش کو جلانے لگے اور میڈیا اپنے فرائض کے انجام دہی کے بجائے دنگے بھڑکانے لگے،اس ملک میں معاشی ترقی بھلا کیسے ممکن ہے؟ آج عدم رواداری اور نفرت اس درجہ بڑھ گئی ہے کہ اشتہار لوگوں کو ناقابل قبول ہے اور وہ بھی صرف اس لئے کہ اس میں قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ اتحاد کا پیغام دیا گیا تھا۔
  کورونا وائرس کو آئے تو ابھی سال بھی نہیں لگا ہے۔ امید ہے کہ ویکسین کی دریافت کے ساتھ ہی اس وبا ءسے ہمیں نجات مل جائے گی۔ لیکن مذہبی منافرت اور عدم روادار ی کا جو وائرس ملک میں کئی برسوں سے پھیل رہا ہے اس کا تدارک کیسے ہوگا؟ آپ چاہیں تو ورلڈ بینک کے ماہرین کی خدمات حاصل کرلیں لیکن ملک کی معیشت اس وقت تک پٹری پر نہیں آئے گی جب تک معاشرہ پٹری پر نہیں آئے گا۔

bangladesh Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK