• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

اب رسم ِ ستم حکمت ِ خاصان زمیں ہے

Updated: November 03, 2023, 12:57 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

کسی مملکت پر حملہ کیا جانا یقیناً دہشت گردی ہے بشرطیکہ اس مملکت کی سرحدیں معلوم ہوں۔ اسرائیلی مملکت تو ان سرحدوں میں ہے ہی نہیں جنہیں اقوام متحدہ تسلیم کرتا ہے.... تو بار بار اسرائیل سے مقبوضہ علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کرچکا ہے۔

Demonstrations against the Israeli government were taking place in Israel itself. Photo: INN
اسرائیلی حکومت کے خلاف خود اسرائیل میں مظاہرے ہو رہے تھے۔تصویر:آئی این این

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں  فوری اور مستقل جنگ بندی کی قرار داد پاس کی جاچکی ہے مگر غزہ میں  اسرائیل کی نہ صرف وحشیانہ بمباری جاری ہے بلکہ گلی کوچوں  میں  بھی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل خدمات کے معطل کر دیئے جانے کے سبب صرف وہی اطلاعات دنیا تک پہنچ رہی ہیں  جو اسرائیل میں  قیام پذیر صحافی دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں ۔ اس کے باوجود یہ تسلیم کرنے میں  کوئی مضائقہ نہیں  کہ اسرائیل اور غزہ کے عوام یا حماس کی جنگی طاقت میں  کوئی توازن نہیں  ہے۔ ایک طرف بھوک، افلاس، محرومی اور دربدری ہے اور دوسری طرف جدید ترین جنگی ساز و سامان اور جارحانہ ہٹ دھرمی.... مگر یہ بھی تو صحیح ہے کہ یہ سطور لکھے جانے (۲۴؍ ویں  دن) تک غزہ کے عوام نے شکست قبول کی تھی نہ غزہ کو نیست و نابود کر دینے یا مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل دینے کے اسرائیلی دعووں  کے ثبوت و شواہد میسر ہوئے تھے۔ یہ خبر البتہ موصول ہو رہی تھی کہ اسرائیلی بمباری اور حملوں  میں  وہ لوگ بھی مارے جا رہے ہیں  حماس نے جنہیں  یرغمال بنا رکھا تھا کچھ کو حماس نے رہا کر دیا تھا۔ ہمیں  غزہ کے عوام کی جان کی طرح یر غمال بنائے جانے والوں  کی جان بھی عزیز ہے۔ مگر انسانی جانیں  بچائی کیسے جائیں ؟
 جنگ بندی کی قرار داد اردن نے پیش کی تھی جو بار بار فلسطینیوں  کا قتل عام کرچکا ہے مگر یہ تنہا اردن کی پیش کی ہوئی قرار داد نہیں  تھی بلکہ اس کو ۲۲؍ عرب ملکوں  نے مل کر یا باہمی مشورہ سے تیار کیا تھا اور روس، جنوبی افریقہ، پاکستان، بنگلہ دیش اور مالدیپ کے تعاون سے پیش کیا تھا۔ مذکورہ قرار داد میں  ۷؍ اکتوبر کے حماس کے حملے کا ذکر نہیں  تھا اس لئے کنیڈا نے ایک ترمیم پیش کی جو کامیاب نہیں  ہوئی۔ اردن کی پیش کی ہوئی قرار داد کی ۱۲۰؍ ملکوں  نے حمایت اور ۱۴؍ ملکوں  نے مخالفت کی۔ ۴۵؍ ملکوں  نے ووٹنگ میں  حصہ ہی نہیں  لیا۔ ووٹنگ میں  حصہ نہ لینے والے ملکوں  میں  ہمارا ملک ہندوستان بھی تھا جس کی نمائندہ نے دوسری باتوں  کے علاوہ یہ بھی کہا کہ ہمارے ملک نے ہمیشہ اس دو ریاستی حل کی تائید کی ہے جو باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم سے نکالا گیا ہو۔ انہوں  نے مزید وضاحت کی کہ دو ریاستی حل اسرائیل کے ساتھ امن قائم رکھتے ہوئے محفوظ اور آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کی پہچانی جانے والی سرحدوں  پر مبنی ہو۔ ہندوستانی نمائندہ نے غزہ میں  انسانی زندگی کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان کی انسانی ہمدردی کی بنیادی پر بھیجی گئی امداد کا بھی ذکر کیا۔ ان کا یہ کہنا بھی برحق تھا کہ سیاسی مقصد کے حصول کیلئے تشدد کا استعمال نہایت تباہ کن ثابت ہوتا ہے یا یرغمالوں  کو فوراً اور بلاشرط رہا کیا جائے۔ ان کی کہی ہوئی اس بات سے بھی اختلاف نہیں  کہ دہشت گردی وہ بیماری ہے جو کسی سرحد، قومیت اور نسل تک محدود نہیں  رہتی۔ ایک اور بات کی وضاحت ہو جاتی تو اچھا تھا کہ کیا اس خطے میں  جہاں  آج اسرائیل قائم ہے دہشت گردی کی ابتدا ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے ہوئی؟ یہاں  تو اسرائیل کا قیام ہی دہشت گردی کی بنیاد پر ہوا ہے اور وہ دہشت گردی کا مظاہرہ کرکے ہی نہ صرف اپنی سرحدوں  کو وسیع کرتا رہا ہے بلکہ اختیارات کو وسیع کرتے ہوئے اسرائیل کی عدالتوں  یا عدالت عالیہ کے پر بھی کتر چکا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے خلاف خود اسرائیل میں  مظاہرے ہو رہے تھے اور اب تو جبکہ غزہ پر وحشیانہ بمباری اور زمینی حملے ہو رہے ہیں  دنیا کے بیشتر ملکوں  میں  حتیٰ کہ ان ملکوں  میں  بھی عوامی مظاہرے ہو رہے ہیں  جہاں  کی حکومتوں  نے اسرائیل کے حق میں  ویٹو استعمال کئے تھے۔ ۷؍ اکتوبر کے حملے تو اس دہشت گردی کے خلاف ردعمل تھے جو اسرائیل کے قیام سے پہلے ہی شروع ہوگئی تھی اور ابھی تک تھمی نہیں  ہے۔ دو ریاستی حل کے تحت فلسطینی مملکت کے قیام اور بیت المقدس میں  مسلمانوں  کے نماز پڑھنے کی راہ میں  کون رکاوٹ ڈال رہا ہے اس کا اندازہ ان تمام لوگوں  کو ہے جو نہتے فلسطینی نمازیوں  پر مسلح اسرائیلی فوجیوں  کو طاقت استعمال کرتے ہوئے دیکھتے رہتے ہیں ۔ کسی مملکت پر حملہ کیا جانا یقیناً دہشت گردی ہے بشرطیکہ اس مملکت کی سرحدیں  معلوم ہوں ۔ اسرائیلی مملکت تو ان سرحدوں  میں  ہے ہی نہیں  جنہیں  اقوام متحدہ تسلیم کرتا ہے.... تو بار بار اسرائیل سے مقبوضہ علاقوں  کو خالی کرنے کا مطالبہ کرچکا ہے۔ ۲۷؍ اکتوبر کو بھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے اس بیان کو دہرایا کہ اسرائیل غزہ میں  جو کچھ کر رہا ہے وہ جنگی جرائم کے زمرے میں  آتا ہے۔ اس نے عالمی قوانین کی واضح خلاف ورزیاں  کی ہیں ۔ حماس کے حملے کے بارے میں  بھی انہوں  نے یہ حقیقت پسندانہ بات کہی کہ اس کے پیچھے کئی دہائیوں  کی تاریخ ہے۔ یہ یونہی نہیں  ہوا ہے۔ غطریس کے بیان کے ایک ایک حرف میں  صداقت ہے اور شاید اسی لئے بوکھلا کر اسرائیل نے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کی صداقت کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ غزہ میں  اسپتال تک بمباری میں  تباہ کر دیئے گئے ہیں  اور یہاں  کے عوام یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں  کہ لاشیں  ڈھونڈیں  یا زندگیاں  تلاش کریں ؟ مگر ہر طرف پھیلی ہوئی تاریکیوں  میں  روشنی کی ایک کرن بھی ہے۔ وہ یہ کہ غزہ کو پینے کا پانی سپلائی کرنے والی تین پائپ لائنوں  میں  سے ایک بحال کر دی گئی ہے اور دنیا بھر میں  اسرائیل کے خلاف مظاہرے تیز ہوگئے ہیں ۔ حیرت ہے کہ اس کرن سے ان میں  سے بعض لوگوں  نے کوئی سبق نہیں  لیا ہے جو اردو ادب اور ملت دونوں  کا بوجھ اٹھائے پھر رہے ہیں  یا کم از کم بوجھ اٹھانے کا دعویٰ کر رہے ہیں ۔ ہمارے وزیراعظم نریندر مودی نے بغیر کسی لاگ لپیٹ کے اعلان کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ہیں  ان کو اسی حیثیت سے دیکھا جانا چاہئے لیکن ایک ادبی انجمن کے جنرل سیکریٹری نے ان سے اخباری بیان کے ذریعے گزارش کی ہے کہ وہ حماس یا فلسطین اور اسرائیل میں  صلح کرا دیں ۔ اس انجمن کے صدر ایک مذہبی شخصیت ہیں  جو منتظر رہتے ہیں  کہ کوئی تقریر کروالے، کوئی صدارت کروالے انہوں  نے خود بیان دینے کے بجائے جنرل سیکریٹری سے بیان دلوایا ہے۔ یہ بیان پڑھ کر فیض کا ایک شعر یاد آیا جس کا صرف ایک مصرع نقل کر رہا ہے ہوں  کہ نام اور وضع قطع میں  مشابہت رکھنے والوں  کی دل آزاری نہ ہو۔ مصرع ہے: اب رسم ِ ستم حکمت ِ خاصانِ زمیں  ہے
 غزہ میں  جو ہو رہا ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے، بس ایک ہی پہلو اچھا ہے کہ ظالم اور عالم کی حمایت کرنے والے بے نقاب ہو رہے ہیں ۔ بے نقاب ہونے والوں  میں  کھلی حمایت کرنے والے بھی ہیں  اور وہ بھی جن کے بارے میں  کہا جاسکتا تھا کہ ’’صاف چھپتے بھی نہیں  سامنے آتے بھی نہیں ‘‘۔ راقم الحروف حق مارنے والوں  کے ساتھ نہیں  حق کے لئے مرنے والوں  کے ساتھ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK