یارسولؐ اللہ! کیا آپؐ کو معلوم ہے کہ آپ نے کن لوگوں کو نماز پڑھائی ہے

Updated: September 11, 2020, 11:43 AM IST | Maolana Nadeemul Wajidi

سیرت نبی ٔ کریم ؐ کی اس خصوصی سیریز میں نبی کریمؐ کے سفر معراج کا ذکر جاری ہے۔ آج بھی اسراء کے چند واقعات ملاحظہ کیجئے جو آپؐ کو راستے میں پیش آئے۔ آپؐ کی بیت المقدس میں تشریف آوری کا احوال بھی ملاحظہ کیجئے

Alquds
اہل ایمان کے قبلۂ اول مسجد اقصیٰ کا اندرونی حصہ

راستے میں ایک بڑھیا نظر آئی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی، حضرت جبریلؑ نے کہا: اس کی طرف قطعاً توجہ نہ دیجئے، کچھ آگے بڑھے تو ایک آدمی کھڑا ہوا ملا، اس نے بھی آواز دے کر آپؐ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا، حضرت جبریلؑ نے اس کی طرف بھی التفات نہ کرنے دیا، کچھ دور گئے تھے کہ تین آدمی کھڑے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے آپؐ  کو دیکھ کر سلام کیا، حضرت جبریلؑ نے کہا: آپؐ  ان کے سلام کا جواب دیجئے،  پھر بتلایا کہ وہ بوڑھی عورت جو سر راہ کھڑی ہوئی ملی دنیا تھی، جس نے بوڑھی عورت کا روپ اختیار کر رکھا تھا، اور دنیا کی عمر اتنی ہی رہ گئی ہے جتنی اس عورت کی ہے، اور وہ شخص جو آپؐ کو آواز دے رہا تھا وہ شیطان تھا، دنیا اور شیطان دونوں آپؐ کو اپنی طرف ملتفت کرنا چاہتے تھے، اور وہ تین آدمی جنہوں نے آپؐ  کو سلام کیا تھا حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام تھے۔ (ابن جریر، بیہقی)
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر میں حضرت موسیٰؑ کو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں۔ آپؐ نے دجال کو بھی دیکھا اور جہنم کے خازن کو بھی دیکھا جس کا نام مالک ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہنم کے خازن کو آسمان میں دیکھا ہو، لیکن حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ کی روایت میں جس کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے تینوں کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے۔ (بخاری ومسلم )
اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی قوم کے پاس سے بھی گزرے جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور سینوں کو ان ناخنوں سے کھرچ رہے تھے، آپؐ نے حضرت جبریلؑ امین سے ان کے متعلق دریافت فرمایا، انہوں نے جواب دیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو انسانوں کا گوشت کھاتے ہیں یعنی غیبت اور چغل خوری کے مرض میں مبتلا ہیں۔ (مسند احمد، ابوداؤد)
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نہر میں تیر رہا ہے اور پتھروں کو نوالے بنا کر کھا رہا ہے، معلوم کرنے پر جبریلؑ نے بتلایا کہ یہ شخص سود خور ہے۔ (ابن مردویہ)
راستے میں آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو ایک ہی دن میں زمین کے اندر بیج بھی ڈالتے ہیں اور کھیتی بھی کاٹ لیتے ہیں، کھیتی کاٹنے کے بعد ان کے کھیت پھر ویسے ہی ہرے بھرے ہوجاتے ہیں جیسے تھے، یہ ماجرا دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریلؑ امین سے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں اور ان کی کھیتی کا کیا قصہ ہے، جبریلؑ امین نے جواب دیا یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں، ان کی ایک نیکی کا اجر سات سو گنا سے بھی زیاد ہ ہوتا ہے، یہ لوگ جو کچھ بھی خرچ کرتے ہیں اللہ اس سے بہتر ان کو عطا کرتا ہے۔
 اسی سفر میں کچھ ایسے لوگ بھی نظر آئے جن کے سر پتھروں سے کچلے جارہے تھے، کچلنے کے بعد ان کے سر اپنی سابقہ حالت پر لوٹ جاتے تھے، یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا تھا، یہ وہ لوگ تھے جو فرض نماز کی ادائیگی میں سستی کرتے ہیں، وقت پر ادا نہیں کرتے۔ آگے بڑھے تو کچھ ایسے لوگ بھی ملے جن کے آگے اور پیچھے شرم گاہوں پر چیتھڑے لپٹے ہوئے تھے اور وہ اونٹ اور بیل کی طرح چراگاہوں میں ضریع اور زقوم چرتے پھر رہے تھے۔ یہ دونوں جہنم کے کانٹے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ لوگ کون ہیں، جبریلؑ امین نے جواب دیا یہ لوگ وہ ہیں جو اپنے مال کی زکوۃ ادا نہیں کرتے۔ 
اسی دوران کچھ ایسے لوگ بھی نظر آئے جن کے سامنے دوپتیلے رکھے ہوئے تھے، ایک میں پکا ہوا گوشت تھا اور دوسرے میں کچا اور سڑا ہوا گوشت پڑا ہوا تھا، وہ لوگ کچا اور سڑا ہوا گوشت کھا رہے تھے اور پکے ہوئے بہترین گوشت کو نظر انداز کررہے تھے، حضرت جبریلؑ نے بتلایا کہ یہ امت کے وہ لوگ ہیں جن کے پاس حلال اور پاکیزہ بیویاں موجود ہیں مگر وہ زانیہ اور فاجرہ عورتوں کے ساتھ رات گزارتے ہیں اور صبح تک انہی کے پاس رہتے ہیں، ان میں بہت سی وہ عورتیں بھی ہیں جو حلال اور طیب مردوں کو چھوڑ کر زنا کار اور بدکار مردوں کے ساتھ اپنی راتیں بسر کرتی ہیں۔
اس کے بعد آپ کا گزر ایک مکڑی کے قریب سے ہوا، اس مکڑی کی خاص بات یہ تھی کہ جو شخص بھی اس کے پاس سے گزرتا، یا جو چیز بھی اس کے نزدیک جاتی وہ اس کو پھاڑ ڈالتی، حضرت جبریلؑ نے بتلایا کہ یہ آپؐ کی امت کے ان لوگوں کی مثال ہے جو راستوں میں چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں اور گزرنے والوں کو لوٹتے ہیں۔ آپؐ ایک ایسی قوم پر سے بھی گزرے جس کے افراد لکڑیاں جمع کررہے تھے، اور ان کے ڈھیر پر ڈھیر لگا رہے تھے، حالاں کہ ان میں ان لکڑیوں کو اٹھانے کی طاقت نہ تھی مگر وہ جمع کرتے چلے جارہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریلؑ سے دریافت فرمایا، یہ کون لوگ ہیں اور لکڑیوں کا وزن کیوں بڑھاتے چلے جارہے ہیں، حضرت جبریلؑ امین نے جواب دیا: یارسول اللہ! یہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جن پر لوگوں کی امانتوں کا اور حقوق کا بار گراں موجود ہے، مگرو ہ بددیانتی کرکے اور حقوق مار کر اپنا بوجھ بڑھا تے جارہے ہیں۔ اس کے بعد وہ لوگ ملے جن کے ہونٹ اور جن کی زبانیں لوہے کی قینچیوں سے کاٹی جارہی تھیں، ایک بار کٹ جانے کے بعد وہ  پھر اپنی حالت پر واپس آجاتیں پھر ان کو کاٹا جاتا وہ پھر صحیح ہوجاتیں، یہ سلسلہ لگاتار جاری تھا، حضرت جبریلؑ نے بتلایا کہ یہ آپؐ کی امت کے وہ واعظ اور خطیب ہیں جو لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں اور خود اس پر عمل نہیں کرتے، درحقیقت یہ یقولون مالا یفعلون  کا مصداق ہیں۔(ابن جریر، بزار، ابو یعلی، بیہقی) 
یہ تمام واقعات اس تفصیل کے ساتھ مندرجہ ذیل کتابوں میں بھی موجود ہیں:
 المواہب اللدنیہ: ۶/۳۳، ۵۵، الخصائص الکبری: ۱/۱۵۸،   ۱۶۷، ۱۷۱۔
بیت المقدس میں تشریف آوری:
راستے کے ان زمینی عجائبات کو دیکھتے ہوئے یہ قافلہ بیت المقدس پہنچا، جہاں مسجد اقصیٰ واقع ہے۔ اس مسجد کے تعلق سے حضرت ابوذر غفاریؓ کی یہ روایت ذہن میں رہنی چاہئے، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یارسولؐ اللہ! دنیا کی سب سے پہلی مسجد کون سی ہے؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا: مسجد حرام، میں نے عرض کیا: اس کے بعد کون سی ہے؟ فرمایا: مسجد اقصیٰ، میں نے عرض کیا: ان دونوں کے درمیان کتنی مدت کا فاصلہ ہے، آپ نے فرمایا: چالیس سال۔ (مسلم شریف: ۱/۳۷۰، رقم الحدیث:۵۲۰) ایک حدیث میں ہے کہ اللہ نے بیت اللہ کو زمین کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے بنایا ہے اور اس کی بنیادیں ساتویں زمین کے اندر تک پہنچی ہوئی ہیں، اور مسجد اقصیٰ کی تعمیر حضرت سلیمان علیہ السلام نے کی ہے۔ (سنن النسائی ، تفسیر القرطبی:  ۴/۱۳۷) بیت المقدس ایک شہر کا نام ہے جو فلسطین میں واقع ہے، یہودی اسے یروشلم کہتے ہیں، مسجد اقصیٰ کے تقدس اور اہمیت وعظمت کے لئے قرآن کریم کی یہ آیت کافی ہے جس میں فرمایا گیا: ’وہ مسجد اقصیٰ جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں۔‘‘(بنی اسرائیل:۱)  مفسرین لکھتے ہیں کہ اس سے پوری سرزمین شام مراد ہے، جس میں اردن، شام اور فلسطین کے تمام علاقے شامل ہیں۔ یہ علاقہ دنیوی اعتبار سے بھی زرخیز و شاداب رہا ہے، اس میں دریاؤں، نہروں، چشموں اور باغوں کی فراوانی رہی ہے، اور دینی اعتبار سے بھی اس کی اہمیت ہے کہ اس سرزمین پر بے شمار انبیاء تشریف لائے، جن میں سے بہت سے انبیاء کرام وہیں مدفون بھی ہیں۔ مسجد اقصیٰ تمام انبیاء کا قبلہ رہا ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران اور مدینہ منورہ کے ابتدائی ایام میں اسی کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی ہے، حضرت معاذ بن جبلؓ ایک حدیث قدسی نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ملک شام! تو تمام شہروں میں میرا منتخب شہر ہے، اور میں تیری طرف اپنے منتخب بندوں کو بھیجوں گا۔ (روح المعانی، قرطبی)
ہزاروں سال پر پھیلی ہوئی طویل تاریخ میں اللہ تعالیٰ کے منتخب بندے یہاں آتے رہے اور آج وہ وقت بھی آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انتہائی منتخب بندے، اپنے برگزیدہ ترین رسول اور پیغمبر کو بھی یہاں بھیج دیا اور اس شان کے ساتھ بھیجا کہ ان سے پہلے کوئی نہ اس طرح یہاں آیا اور نہ کبھی آئے گا۔
حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ بیت المقدس پہنچنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براق کو اس حلقے سے باندھ دیا جس سے انبیاء کرام اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے۔ (مسلم شریف)
ان کے بعد آپ ؐحضرت جبریلؑ کی معیت میں مسجد اقصیٰ کے اندر داخل ہوئے اور دوگانہ تحیۃ المسجد ادا کی۔ (مسلم شریف) یہ نفل نماز مسجد میں داخل ہونے کے بعد ادا کی جاتی ہے اور یہ نماز مسجد میں داخل ہونے والے ہر شخص کے حق میں بالاجماع سنت ہے۔ (فتح الباری: ۲/۴۰۷)
عجب نہیں کہ نماز تحیۃ المسجد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ مسجد اقصیٰ ہی میں پڑھی ہو، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ کے ساتھ حضرت جبریلؑ نے بھی تحیۃ المسجد پڑھی۔ (بیہقی) جس وقت آپ مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اس وقت وہاں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام موجود تھے، اور آپؐ کے شوقِ انتظار میں چشم دل فرش راہ کئے ہوئے تھے، ان میں حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام بھی تھے، اس کے بعد مؤذن نے اذان دی، لوگ جوق در جوق اندر آنے لگے، تمام لوگ صفیں بناکر کھڑے ہوگئے اور انتظار کرنے لگے کہ کوئی آگے بڑھے گا اور لوگوں کو نماز پڑھائے گا، مگر کوئی آگے نہیں آیا، یہاں تک کہ حضرت جبریلؑ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر آپ کو مصلّے کی طرف بڑھا دیا۔  آپؐ نے نماز پڑھائی، نماز کے بعد حضرت جبریلؑ نے پوچھا: یارسولؐ اللہ! کیا آپؐ کو معلوم ہے کہ آپ نے کن لوگوں کو نماز پڑھائی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم! حضرت جبریلؑ نے کہا کہ جتنے بھی انبیاء مبعوث ہوئے ہیں ان سب نے آپؐ کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ (ابن أبی حاتم)
نماز باجماعت سے فراغت کے بعد آپؐ نے حضرات انبیاء علیہم السلام سے ملاقات بھی فرمائی، کچھ انبیاء کرام علیہم السلام سے آسمان پر بھی ملاقات ہوئی اور تعارف بھی ہوا، جیسا کہ معراج کے بیان میں آئے گا، ایسا لگتا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء سے صرف ملاقات ہوئی تعارف نہیں ہوا، تعارف اس وقت ہوا جب آپؐ  مختلف آسمانوں پر تشریف لے گئے اور وہاں کچھ انبیاء کرام سے ملاقات ہوئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK