ہجرت کوئی خوشی سے نہیں کرتا

Updated: February 02, 2020, 3:45 PM IST | Prof Syed Iqbal

ہجرت ہر دور میں ہوتی رہی ہے اور مستقبل میں بھی ہوتی رہے گی۔ خدا کی زمین پر سرحدیں بناکر لوگوں کو باہر کردینا یا اپنی سرحدوں میں داخل نہ ہونے دینا صرف دوسو تین سوسال پرانی ’بدعت‘ ہے ۔ اسلئے ہم نے پاسپورٹ بنائے، ویزادینے کاحکم جاری کیا اور شہریت کےقانون بنائے۔

ہجرت کوئی خوشی سے نہیں کرتا ۔ تصویر : آئی این این
ہجرت کوئی خوشی سے نہیں کرتا ۔ تصویر : آئی این این

فی الوقت جو احتجاج ہم اورآپ دیکھ رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ ’ہجرت‘ہے ۔ بی جے پی کی فرقہ پرست قیادت اپنے ووٹ بینک کو یہ قائل کرنے پر لگی ہوئی ہے کہ جو مسلمان باہر سے آئے ہیں، وہ ان کی ملازمتیں ہتھیا رہے ہیں، ان کی تہذیب کو گدلاکررہے ہیں  اور ان کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔ اسلئے انہیں درانداز یا گھس پیٹھیا ہی کہنا چاہئے لہٰذا انہوں نے بڑی چالاکی سے پارلیمنٹ سے شہریت کا ترمیمی بل پاس کروا کر ہندو مسلم منافرت کا ایسا ماحول تیارکرلیا کہ مسلمان اپنی شہریت کا ثبوت نہیں دے سکے تو ان کی شہریت چھین کر انہیں عقو بت خانوں کی نذر کردیا جائے گا جبکہ ساری دنیا جانتی ہے مسلمانوں کی کئی نسلیں اس ملک میں پیدا ہوئیں، آزادی کی جدوجہد میں قربانیاں دیں اورآزادی کے بعد اور وطن کی ترقی میں دوسروں کے ساتھ اپنا یوگ دان بھی دیا۔
  یہ سوچی سمجھی سازش نہیں تو اورکیا ہے کہ انہیں مسلمانوں کو آج’غیر ہندوستانی ‘ ثابت کرنے کیلئے ساری سرکاری مشنری حرکت میں آچکی ہے۔ پولیس اور عدالتیں کھل کر اپنے آقاؤں کا ساتھ دے رہی ہیں اور بے شرمی کی انتہا یہ ہے کہ چہارسمتوں سے اپنے خلاف اٹھنے والی ساری آوازوں پر حکومت اپنے کان بند کرلئے ہیں۔ اپنی ضد میں وہ یہ بھی بھول گئے کہ ہجرت ایک فطری عمل ہے۔ ماضی میں اگر کچھ قومیں ہندوستان آئیں توان کے پاس یہاں آنے کی ٹھوس وجوہات تھیں۔کسی کو دعوت دے کر بلایا گیا تھا اورکچھ کو یہاں کی دولت لوٹنے کی ہوس تھی۔ کچھ افراد علم وسیاحت کی خاطریہاں آئے تھے اورکچھ کو حکمرانی کا جنون تھا۔ ہجرت ہر دور میں ہوتی رہی ہے اور مستقبل میں بھی ہوتی رہے گی لیکن خدا کی زمین  پر سرحدیں بناکر لوگوں کو باہر کردینا یا اپنی سرحدوں میں داخل نہ ہونے دینا صرف دوسو تین سوسال پرانی ’بدعت‘ ہے ۔ اسلئے ہم نے پاسپورٹ بنائے، ویزادینے کاحکم جاری کیا اور شہریت کےقانون بنائے۔  اس کے باوجود  یہ حقیقت بدستور باقی ہے کہ لوگ صرف اسلئے ہجرت کرتے ہیں کہ انہیں یقین ہوتا ہے اس بہانے ان کی زندگی کچھ بہتر ہوجائے گی۔ ہجرت کی خاطر لوگ اپنے بال بچوں، اعزہ واقارب اور دوست واحباب کی جدائی برداشت کرلیتے ہیں، سفر کی صعوبتیں سہتے ہیں، تنہائی کا دکھ جھیلتے  ہیں اور اپنی جڑیں اکھاڑ کر ایک اجنبی زمین میں اسے دوبارہ بونے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیرالا کی معیشت ایسے ہی لاکھوں افراد کے پیسوں سے چلتی ہے جو برسوں سے خلیجی  ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ بڑے شہروں میں چھوٹی موٹی مزدوری کرنے والے افراد بھی ساری ذلتیں اسلئے برداشت کرلیتے ہیں کہ دورکسی گاؤں میں بسنے والے ان کے بوڑھے ماں باپ اور خاندان کے دوسرے افراد ان کے بھیجے ہوئے روپوں کے سہارے زندہ ہیں۔ اوریہ کہانی صرف  بھارت ہی کی نہیں، ہر اُس غریب اور پسماندہ ملک کی ہے جہاں کے پڑھے لکھے اور ہنر مند افراد یا عام مزدور تک ، کبھی قانونی اورکبھی غیر قانونی  راستوں سے گزر کر اپنے لئے بہتر زندگی کے سامان بھی کرنے میں لگے ہیں۔
  ویسے بھی ہجرت کا عمل کوئی آسان کام نہیں۔ اکثر ایسی خبریش شائع  ہوتی ہیں کہ نوجوان کسی جہاز کے کنٹینرمیں گھنٹوں بند رہے اور دم گھٹنے کے باعث جان سے جاتے رہے یا رات کے اندھیرے میں کشتیوں میں سفر کرنے والے مزدور سمندری طوفان کا شکار ہوگئے اورکبھی خار دار جھاڑیوں کو پھلانگتےہوئے بے سہارا غریبوں کو سرحدی پولیس نے گولیوں سے بھون ڈالا ۔ اکثر ان غریبوں کو سبز باغ دکھانے والے وہ دلال بھی جھوٹے وعدوںپر ان سے لاکھوں روپے لوٹ لیتے ہیں، جن کا کہیں ذکر نہیں ہوتا مگر جو شخص اپنی پریشانیوں کا حل ہجرت میں ڈھونڈ لیتا ہے، وہ ہجرت کرکے رہتا ہے۔ مردم شماری ( ۲۰۱۱ء)  کے  اعداد بتاتے ہیں کہ بھارت کی ۳۸؍فیصد آبادی اپنے ہی ملک میں ایک مقام سے دوسرے مقام پر ہجرت کرچکی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ۴۶؍ کروڑ افراد نے اندرون ملک ہجرت کے درد سہے ہیں اور آج بھی اپنی آبائی زینوں کو چھوڑ کر غیر علاقوں میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ یوپی اور بہار اپنی پسماندگی کے سبب سرفہرست ہیں جہاں کی کثیر آبادی آج مہاراشٹر ، گجرات، ہریانہ، کرناٹک اور پنجاب میں مقیم ہے۔ ان مہاجرین کو سورت ایسے صنعتی شہر اور ممبئی ، پونے ، گڑگاؤں، احمدآباد، کلکتہ ، چندی گڑھ ، غازی آباد ، چنئی اور حیدرآباد روزگار کیلئے بے حد پرکشش نظرآتے ہیں۔ ان کیلئے ممبئی میں پہلے جیسی کشش نہیں رہی کیوں کہ مقامی سیاسی پارٹیاں اپنے گروہی تعصبات کے سبب شمال ہند کے باشندوں پر بے وجہ ظلم کرنے لگی ہیں۔ کبھی آٹو رکشا والوں اور ٹیکسی چلانے والوں کو پیٹا جاتا ہے تو کبھی  انہیں ریلوے کے سرکاری امتحان میں شریک ہونے سے جبراً روکا جاتا ہے۔ ان مہاجرین کیلئے بنگلور میں زیادہ کشش ہے کیونکہ اکیسویں صدی کے بنگلور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ہزار ہا نئے روزگار پیدا کئے ہیں۔ تمل ناڈو ایسی ہندی مخالف ریاست بھی شمالی ہند کے مزدوروں کا دل سے استقبال کرتی ہے کیوں کہ اسے بھی اپنی ترقی کیلئے مزدوروں کی ضرورت ہے۔
 ہجرت کی ایک وجہ حصول تعلیم کے مراکز ہیں۔ جن چھوٹے علاقوں میں تعلیم کی سہولتیں نہیں ہوتیں، وہاں نوجوان معیاری تعلیم حاصل کرنے کی  غرض سے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے گاؤں لوٹنے کے بجائے اکثر انہیں شہروں یا کسی دوسرے بڑے شہر میں اپنے لئے مناسب ملازمت ڈھونڈلیتے ہیں۔ خواتین کی ہجرت کا معاملہ مختلف ہے۔ انہیں شادی کے بعد اپنے میکے کے گاؤں یا شہر کو چھوڑکر سسرال  کا گاؤں یا شہر بسانا  پڑتا ہے۔ اس طرح شادی کے بعد وہ بھی ’مہاجر‘ بن جاتی ہیں، لیکن اس آبادی کا فیصد بے حد کم ہوتا ہے۔ ہمارے سیاسی قائدین کو چونکہ صرف اپنے ووٹوں کی فکر رہتی ہے، اسلئے و ہ بھی ’ہجرت‘ کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ۱۹۶۶ء کے ممبئی کے سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو معلو ہوگا کہ جنوبی ہند سے آنے والے افراد اچانک سیاستدانوں کی نظرمیں آگئے اور شیوسینا نے اپنے ’مراٹھی مانوس‘ کو یہ کہہ کر ڈرانا شروع کیا کہ جنوبی ہند کے لوگوں نے ان کی نوکریاں ہتھیالی ہیں، اسلئے جب تک انہیں یہاں سے بھگایا نہیں جاتا، ہمارے حالات بہتر نہیں ہونے والے۔ دیکھتے ہی دیکھتے علاقائیت کے اس جنون نے ایسی شدت اختیارکرلی کہ شہر میں فسادات شروع ہوگئے جس میں پہلے جنوبی ہند کے لوگوں کو پھر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کارپوریشن پر قبضہ ہونے کے بعد ایک سطری نوٹس کے ذریعہ یہ اعلان بھی کردیا گیا کہ مہاراشٹر میں سرکاری  ملازمت کیلئے مراٹھی جاننا لازمی ہوگا۔ اس طرح سرکاری ملازمت کے دروازے غیر مہاراشٹرین کیلئے ہمیشہ کیلئے بند ہوگئے۔
  روزگار کے حصول کے بعد دوسری بڑی وجہ Persecution ہے اوریہ بھی کسی نہ کسی صورت میں ہر  زمانے میں ہوتا ر ہا ہے۔ بنی اسرائیل کو محسوس ہوا کہ وہ مصر میں محفوظ نہیں تو پوری قوم نے ہجرت کرلی۔  نئے زمانے میں انہیں اسرائیلیوں نے فلسطینی عرب پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے تو فلسطینی اپنے پر کھوں کی زمین چھوڑ کر ساری دنیا میں منتشر ہوگئے۔ عیدی امین نے یوگانڈا میں لوگوں کو ستانا شروع کیا تو ایک بڑی آبادی برطانیہ منتقل ہوگئی۔ پاکستان میں قادیانیوں پر ظلم ہونے لگا تو وہ بھی یورپ کی جانب نکل گئے۔ خالصتان سکھوں کوہماری حکومت کی جانب سے پریشان کیاجانے لگا تو انہوںنے کینیڈا بسالیا۔ اسی طرح تبتی آبادی چین کے جبر واستبداد سے تنگ آکر ہمارے ہاں چلی آئی۔ میانمار کے مسلمانوں پر ظلم  ہونے لگا تو انہوںنے بھی اپنا ملک چھوڑ دیا۔ بنگالیوں کی بھی ایک کثیر آبادی مشرق پاکستان کی قیادت سے عاجز آکر ہندوستان میں پناہ لی۔ البتہ ان پناہ گزینوں کو خوش دل سے  قبول کرنے والی سیاسی قیادت موجود نہ ہوتو یہ دربدر پھرتے رہتے ہیں۔ نہرونے دلائی لامہ کو پناہ نہ دی ہوتی توآج وہ اپنے معتقدین کے ساتھ ہمارے ملک میں آرام سے نہ ہوتے۔ کینڈا کی قیادت بھی وسیع القب نہ ہوتی تو آج وہاں سکھوں، قادیانیوں اور عرب مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد مقیم نہ ہوتی۔ ماضی میں امریکہ نے بھی اسپین، میگسیکو اور افریقی ممالک سے آنے والے کروڑ ہا افراد کواپنے میں سمو لیا اور آج وہی آبادی خود کو امریکی کہتی ہے۔ یہ جبر واستبداد صرف معاشی سطح پر نہیں ہوتا بلکہ معاشرتی وجوہات  بھی انسانوں پر کاری ضربیں لگاتی ہیں۔ نسل پرستی، علاقائی عصبیت اور سب سے بڑھ کر مذہبی جنون جو عدم روا داری کی کوکھ سے پیدا ہوکر عفریت بن جاتا ہے... اورجب تک مقامی آبادی کو اپنے درمیان سے ڈھکیل نہ دے یا بالکل ختم نہ کردے، اسے چین نہیں آتا۔ ترقی پسند اور لبرل کہلائے جانے والے یورپی ممالک نے بھی نئے آنے والوں کیلئے اپنے دروازے بند کرنا شروع کردیئے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ سے لے کر ہنگری کے صدر وکٹر اور بن تک سارے صاحبان  اقتدار مہاجرین کو اپنے کلچر کیلئے خطرہ بتاتے ہیں۔ ان کے نزدیک دیگر ممالک سے ہجرت کر کے آنے والوں کو قومی خزانے سے تنخواہیں دینا مقامی آبادی کا حق مارنا ہے۔ وقتاً فوقتاً یہ افواہ بھی پھیلائی جاتی ہے کہ مہاجرین تشدد پسند اور جارح ہوتے ہیں ،اسلئے ان کی موجودگی خطرے کا باعث ہے۔  دائیں بازو کی انتہا  پسند طاقتوں نے اس نفرت آمیز پروپیگنڈہ کو عام کرنے میں بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔ اس وقت وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ مہاجر ین کتنے سستے داموں میں دستیاب ہیں۔ گھر گھر پارسل پہنچانا ہو یا پلمبنگ کا کام کرنا، گھر کی صفائی کے کام ہوں یا ڈرائیونگ کرنا، مہاجرین کم اجرت پر ہر طرح کے کام خوشی خوشی کرلیتے ہیں۔ ان مہاجرین سے مقامی کلچر کو کیا خطرہ درپیش ہے ، یہ توآج تک ثابت نہیں ہوسکا۔ البتہ سڑکوں پر یا بسوں میں جب وہ غیرملکیوں کی گفتگو کان میں پڑتی ہے یا کوئی چرچ مسجد میں تبدیل ہوجاتا ہے، تب مقامی افراد کو تشویش ہونے لگتی ہے۔
  ہاں! مہاجرین  کی آمد پر روک لگانے کیلئے ہر ملک نے اپنی سرحدوں پر پہرے ضرور بڑھا دیئے ہیں۔ کوئی غیرملکی قانونی طورپر اس ملک میں داخل ہونا چاہے تو ویزا کے نا م پر اس سے تگڑی فیس لی جاتی ہے۔ آسٹریلیا اور کینیڈا میں داخل ہونے کیلئے انگریزی جاننا، ان کا اپنا امتحان پاس کرنا اور خود کو اہل ثابت کرنے کیلئے ضروری پوائنٹس حاصل کرنا لازمی قراردیا گیا ہے۔ ویسے یہ اتنا مشکل بھی نہیں۔ چونکہ پڑھے لکھے اور ہنر مند افراد کو غیرملکی حکومتیں اپنے لئے نعمت سمجھتی ہیں اور انہیں باصلاحیت افراد کی ضرورت بھی رہتی ہے، اسلئے وہ شہریت دینے میں تامل نہیں کرتے۔ وہاں یہ تعصب نہیں کہ آپ جنوبی ہند کے ہیں یا شمال ہند کے ، سانولے ہیں یا کالے، قدآور ہیں یا پستہ قد۔ انہیں کام کے آدمی کی ضرورت ہے اگرآپ ان کے معیار پر پورے اترتے ہیں تو آپ اہم ہیں ورنہ انہیں آپ میں کوئی دلچسپی نہیں۔ جرمنی کولیجئے وہاں غیر جرمنی آبادی کی تعداد ۱۲؍ لاکھ ہے جو مقامی آبادی کا ۱۶؍ فیصد ہے جبکہ آسٹریلیا  ۲۹؍ فیصد آبادی غیرملکوں پر مشتمل ہے اور حکومت کو کاروں کی کثرت کے علاوہ ان سے کوئی شکایت نہیں۔ یہ مہاجرین باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں اور وہاں کی معیشت مستحکم کرنے میں ان کا اتنا اہم رول ہے کہ وہاں کوئی مہنگائی کارونا نہیں روتا۔ یہی حال سنگاپور کا ہے جہاں آبادی کا ۴۵؍فیصد حصہ مہاجرین پر مشتمل ہے لیکن وہاں نہ کبھی فساد ہوا، نہ بھیڑ بھاڑ کی شکایت کی گئی بلکہ سنگاپور کی پرامن زندگی اور فارغ البالی کا حال سن کر ہزاروں افراد ہر سال شہریت کیلئے درخواست دیتے ہیں۔ خود کئی ہزار ہندوستانی ارب پتیوں نے اپنے کاروبار وہاں منتقل کرلئے ہیں۔
  ایسا نہیں ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین کو ان ممالک کی خوشحالی کی خبر نہیں۔ ان کے پاس تو ان سارے ہندوستانیوں کی معلومات محفوظ ہیں جو ملک سے باہر کام کرتے ہیں یا وہاں کے باقاعدہ شہری بن چکے ہیں۔ اب تو ہجرت کا سلسلہ اتنا دراز ہوچلا ہے کہ پچھلے سال نوجوان طلبہ کے ایک سروے میں نوجوانوں نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے ملک کی ترجیحات،  بدانتظامی اور منفی سیاست سے اتنے بیزار ہیں کہ ڈگریاں لیتے ہی سب سے پہلے غیرملکی سفارتخانوں کا رخ کریں گے ۔ کیا اس کے بعد بھی ہماری حکمراں پارٹی اپنے ایجنڈے پر قائم رہے گی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK