Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشاعرہ اور رضائی

Updated: July 06, 2026, 5:28 PM IST | Shakeel Ejaz | Mumbai

مشاعروں سے بیزاری کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اب مشاعروں میں شاعری کم اور اداکاری، گلوکاری کی قدر کی جانے لگی ہے۔ ایک اچھی غزل سننے کے لیے چار پانچ ہلکی غزلیں سننی پڑتی ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

۱۹۶۰ء سے ۱۹۸۰ءکا درمیانی عرصہ ہر شعبۂ زندگی میں اہم اور کسی حد تک خوشگوار مانا جاتا ہے۔ اہم اور یادگار فلمیں بنیں، اچھے اداکاروں، ہدایتکاروں کا کام دیکھنے کا موقع ملا، اچھا سنگیت اچھی شاعری ہوئی۔ اس زمانے کے مشاعرے بھی دلچسپ ہوا کرتے تھے۔ ان مشاعروں اورکچھ آج کے مشاعروں میں میٹھے آم اور کھٹے آم جیسا فرق ہے۔ ادب کے طالبان علم اور مشاعروں کے اچھے سامعین ضروری کام چھوڑ چھاڑ کر مشاعرہ گاہ آتے تھے۔ اب یہی لوگ گھر کے قریب ہونے والے مشاعرہ میں بھی مجھ جیسے شاعروں کو سننے کےبجائےبیوی کی شکایتیں سننا بہتر سمجھتے ہیں۔ 
مشاعروں سے بیزاری کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اب مشاعروں میں شاعری کم اور اداکاری، گلوکاری کی قدر کی جانے لگی ہے۔ ایک اچھی غزل سننے کے لیے چار پانچ ہلکی غزلیں سننی پڑتی ہیں۔ باذوق حضرات، ادبی رسائل میں پسند کی غزلیں پڑھ لیتے ہیں۔ اس میں سہولت ہے کہ مطلع پسند نہ آئے تو صفحہ پلٹ سکتے ہیں جبکہ شاعر کو مائک سے ہٹانا اتنا مشکل ہے جتنا فلسطین سے اسرائیل کو۔ مشاعرہ ٹی وی پر بھی ریلے ہوتے ہیں جن میں بھاری شاعروں کا ہلکا کلام اور نئےشاعروں کا پرانے جیسا کلاسک کلام آپ گھر بیٹھے سن سکتے ہیں۔ 
سردی کا موسم ہو تو رضائی میں ہو جا ئیے۔ مشاعرے اکثر سردی کے موسم میں ہی ہوتے ہیں۔ رضائی اوڑھ کر مشاعرہ سننے کی سہولت مشاعرہ گاہ میں کہاں میسر ہے۔ مشاعروں میں رضائی اوڑھ کر آنے کا رواج پڑنے کے آثار ابھی نظر نہیں آتے۔ گھر کا ٹیلی ویژن مشاعرہ اگر خواب آور قسم کا ہو تو ٹی وی کے سامنے ہی بستر لگا ہے۔ گہری، میٹھی نیند سو جائیے۔ 
ہم تصور میں دیکھ رہے ہیں۔ ایک عظیم الشان مشاعرہ شروع ہونے کو ہے۔ ڈائس پر صاحب صدر کو میزبانوں کی طرف سے مخمل کی خصوصی رضائی پیش کی جا رہی ہے۔ دیگر مہمان شعراء کو بھی سستی رضائیاں اوڑھائی جا رہی ہیں۔ شاعر کھڑے ہو کر شکریہ اور آداب بجا لاتے وقت رضائی کے بوجھ سے ادھر ادھر لڑکھڑا رہا ہے۔ جن کا رضائی اوڑھنا باقی ہے وہ اس کو سہارا دے رہے ہیں، جیسے عقدسے پہلے سہرا پہنے ہوئے دلہا کو اور بعد میں کسی اور کو دیتے ہیں۔ انائونسر اپنی رنگ برنگی، دیدہ زیب چمکتی رضائی اوڑھے بیٹھے ہیں جو انہوں نے صرف مشاعروں کے لئے اٹھا رکھی ہے۔ گھر پر ان کی رضائی اس سے مختلف ہے۔ سامعین رضائیاں اوڑھے بیٹھے ہیں۔ ہر طرف رضائیوں کا سیلاب ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مہکتے رشتے

سہرے اور رضائی میں منہ چھپانے میں سہولت ہے اس لئے ادھار لینے والا بھی، ادھار دینے والے سے’’ سٹ‘‘ کر بیٹھا خوشی خوشی مشاعرہ سن رہا ہے۔ بے خوف، بے فکر البتہ برابر بیٹھا ہوا شخص وقفے وقفے سے رضائی میں جھانک کر چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس کی داد کی آواز جانی پہچانی لگتی ہے۔ اسی کشمکش میں اچھے شعروں سے محروم رہ جاتا ہے۔ اگلے روز کسی شرارتی دوست کے پوچھنے پر کہ مشاعرہ کیسا رہا؟ سر کھجاتے ہوئے کہتا ہے ’’ کچھ سمجھ نہیں آیا کیسا تھا؟‘‘ شرارتی دوست نے کہا کہ میں نے کسی کو ادھار دیا نہیں تھا، مجھے تو مشاعرہ بہت اچھا لگا۔ یہ پھر اپنے سر میں ناخنی انگلیاں پھیرتے ہوئےسوچنے لگا اس نے کیا کہا؟ یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا۔ 
پہلا شاعر مائک پر آنے سے پہلے گلپوشی اور تقریریں ختم ہونے تک مشاعرہ گاہ میں منتظر بیٹھے لوگوں کی آپسی گفتگو.... ’’یار کل تم مشاعرہ میں نظر نہیں آئے؟ ‘‘’’کیا کروں، رضائی میلی پڑی تھی۔ غلاف دھلواکر آج ہی بھروایاہے، اسی وجہ سے پچھلے ہفتے ہوئے مشاعرہ میں بھی نہ آسکا۔ ‘‘مچھر پہلوان بھی ان دنوں مشاعروں میں پہلی صف میں نہیں بیٹھتے۔ آخری صفوں میں کسی ایسے کھمبے کے سہارے بیٹھتے ہیں جس پر اسپیکر بندھا ہو۔ ان کی رضائی پھٹ گئی ہے اور رستم تو آہی نہیں سکتا، رضائی چوری ہو گئی۔ کہتا ہے کسی قریبی رشتہ دار کا کام معلوم ہوتا ہے۔ ’’اچھا یہ بتائو کل سمینار کس موضوع پر تھا؟‘‘’’مشاعروں کی ترقی میں رضائی کا حصہ، کچھ نے اچھے مقالات پڑھے۔ عنوان تھے’۹۰ء کی دہائی کا اردو ادب اور رضائی ‘ اور ایک تھا ’غالب اور میر کی رضائیوں کا تقابلی جائزہ وغیرہ‘۔ شاعروں کی غزل سرائی کے دوران، لڑکیاں ایک دوسرے کی رضائیوں کی تعریفیں کر رہی ہیں۔ یا پیٹھ پیچھے کسی کی رضائی کی تحقیر کرکے اتنی اونچی آواز میں ہنس رہی ہیں کہ آس پاس بیٹھی خواتین انہیں گھور رہی ہیں۔ پردہ کے لئے خواتین کا انتظام کیا گیا ہے اور مشاعرہ گاہ سے پرے اسی بڑے میدان میں رات کے سہارے سے وہ اس سے کہہ رہی ہے تم میرے لئے ایک اچھی سی رضائی بنوادو گے نا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK