تاریخ گواہ ہے کہ جب انسان بستیاں بنا کر رہنے لگا تو اس نے اصول وضوابط کی اہمیت کو تسلیم کیا اور اپنے لئے کچھ اصول بنائے۔ آج ہر شعبہ اُصولوں کی بالادستی تسلیم کرتا ہے اور کوئی بھی اس سے مبرا نہیں حتیٰ کہ شعبۂ سیاست بھی نہیں مگر اب ایسا لگتا ہے کہ بے اُصولی کی جانب ہمارا جھکاؤ زیادہ ہیں۔
کچھ ہفتوں قبل، میں نے اپنے ایک مضمون میں `قانون کی حکمرانی اور `قانون کے ذریعہ حکمرانی کے فرق کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ اول الذکر میں ، سماج میں قانون کی بالادستی ہوتی ہے اور حکمراں بھی قانون کے زیرِ دست ہوتے ہیں جبکہ آخر الذکر میں قانون، حکمراں کا غلام ہوتا ہے اور مختلف حالات میں قانون میں تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں ۔ انسانی تاریخ کے مطابق بستیاں بنا کر رہنے والے انسان نے سماج کو فروغ دیا، تب سے انسان نے کچھ اصول و ضوابط وضع کئے، اُنہیں اپنایا اور اپنی زندگی کا حصہ بنالیا۔
ان اصول و ضوابط میں جنگ کے قوانین خاصی اہمیت کے حامل ہیں ۔ دو عالمی جنگوں کے بعد جنیوا کانفرنسیں چار مرتبہ منعقد ہوئیں جن میں تیار کئے گئے عہد ناموں کو دنیا کے ۱۹۶؍ ملکوں نے قبول کیا۔ ان عہد ناموں کو یکجا کرکے بین الاقوامی قوانین برائے انسانیت ترتیب دیے گئے جن میں چار اہم قوانین اس طرح ہیں :
( الف) جنگ کے دوران بیمار، زخمی، طبی اہلکاروں اور مذہبی افراد کی حفاظت کی جائے گی۔ (ب) بحری جنگ کے دوران زخمی، بیمار اور تباہ شدہ جہازوں کا خیال رکھا جائے گا۔ (ج) جنگی قیدیوں کے ساتھ انسانیت پر مبنی برتاؤ کیاجائے گا۔ (د) مقبوضہ یا مفتوحہ علاقوں میں تمام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔
لیکن قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ ویتنام، عراق اور لیبیا کی جنگوں کے دوران ان قوانین کی کس طرح دھجیاں اڑائی گئیں ۔ تاحال جاری روس۔یوکرین اور اسرائیل۔ حماس جنگوں میں بھی ان اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیاگیا ہے۔ جنگ کے دوران عصمت دری اور غارتگری کے واقعات عام ہوگئے ہیں ۔ روس نے کھلے عام، یوکرین کے اسپتالوں ، اسکولوں اور رہائشی علاقوں پر بمباری کی اور میزائل حملے کئے۔ یوکرین نے ۲۴؍ جنوری ۲۰۲۴ءکو ایک روسی جہاز پر حملہ کرکے اسے مار گرایا جس میں جہاز پر سوار تمام افراد بشمول ۶۵؍ جنگی قیدیوں اور ۹؍ افراد پر مشتمل عملہ، ہلاک ہوگئے۔ روس نے یوکرینی حملے کو دہشت گردانہ قرار دیا جبکہ یوکرین نے اسے جھٹلا دییا۔ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس نے اسرائیل۔حماس جنگ کی شروعات کی۔ اِس فلسطینی مسلح گروپ نے غزہ کی سرحدیں پار کرکے جنوبی اسرائیل پر اچانک ہلہ بول دیا جس میں تقرباً ۱۲؍ سو افراد موت کے گھاٹ اتر گئے اور ۲۴۰؍ افراد کو حماس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس کے جواب میں اسرائیل کی چار ماہ سے جاری کارروائیاں حد سے تجاوز کرگئی ہیں اور سفاکیت کے نئے ریکارڈ قائم کررہی ہیں ۔ اسرائیل کی کارروائیوں میں ۲۵؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور دیگر پر غزہ کی سرحدیں تنگ ہوگئی ہیں ۔ ان دونوں جنگوں میں چاروں فریقین نے جنگ کے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ اگر جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہو تو ذمہ دار افراد اور حکومتوں کو اقوام متحدہ کی عالمی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکتا ہے جس طرح جنوبی افریقہ نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب ہونے پر اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت برائے انصاف میں گھسیٹا ہے۔
مجھے اس موقع پر تقریباً ۲۳۰۰؍ سال قبل لکھے گئے سنگم ادب کی ایک نظم یاد آتی ہے۔’’گائے، نرم دل برہمن، عورتیں ، بیمار اور لاولد افراد/محفوظ مقامات کی طرف روانہ ہو جائیں / یہاں جنگ ہونی ہے/ جس میں میرے تیر پرواز کرینگے/بادشاہ نے دھرم کا راستہ چنا/اور وہ اس جنگ میں حصہ لے گا۔‘‘ اسی طرح، بارہویں صدی عیسوی کے تمل شاعر کامبن کی رامائن میں رام اور راون کے درمیان آخری جنگ کا حال پڑھ کر مجھے خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ رام نے راون سے کہا، ’’آج تمہارے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے اور تم اپنے دفاع میں کمزور پڑ رہے ہو/ یہ میرا دھرم نہیں ہے کہ اس حالت میں میں تم سے لڑوں / آج تم جاسکتے ہو، اور کل جنگ کے لیے لوٹ آنا/ کل میں تمہارے ساتھ لڑوں گا۔‘‘
جنگ کی طرح محبت کے بھی اصول ہوتے ہیں جن پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ محبت کے اصولوں کی تعداد، اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں اور محبت میں گرفتار افراد کی تعداد سے زیادہ ہے۔ ان کتابوں کو اکثر ’’محبت کے اصول‘‘ عنوان دیا جاتا ہے،مثلاً محبت کے آسان اصول، محبت کے ۸؍ اُصول اور محبت کے۴۰؍ اصول۔ مَیں نے ان میں سے کوئی کتاب نہیں پڑھی، لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کتابوں کے قارئین کی تعداد لاکھوں میں ہوگی۔ تلاش کرنے پر محبت کے چند اصول دستیاب ہوئی۔ ولیم شیکسپیئر لکھتے ہیں کہ اس شخص پر اپنی محبت برباد نہ کرو جسے اس کی قدر نہیں ۔ آسکر وائلڈ کا کہنا تھا کہ انسان نے ہمیشہ کسی کی محبت میں الجھا رہنا چاہیے تاکہ شادی نہ کر پائے۔ برنارڈ شا نے کہا تھا کہ اگر آپ محبت کرنیوالوں کے کارنامے جانا چاہینگے تو کشت وخون کے واقعات پر آپ کی تلاش مکمل ہوگی۔ یہ اقوال شاید ظرافت کے نقطۂ نظر سے کہے گئے مگر ان سے محبت کے کچھ اصولوں کو کشید کرنا ممکن ہے۔
میرے پسندیدہ شاعر و فلسفی تھیروالور نے پانچویں صدی عیسوی میں ایک نظم `’’تیروکّرل‘‘ کہی تھی جس کا ایک حصہ محبت کے موضوع پر تھا۔ اس میں محبت پر ۲۵؍ ابواب اور ۲۵۰؍ اشعار شامل ہیں ۔ قارئین کے لیے میں دو اشعار کا مفہوم رقم کررہا ہوں جن میں محبت کے اصول پنہاں ہیں : (الف) دو محبت کرنے والوں کے درمیان جب آنکھوں سے آنکھیں ملتی ہیں تو الفاظ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ (ب) بُرا برتاؤ پیار کو یوں ختم کردیتا ہے جیسے آگ میں تیل انڈیلنے سے وہ بھڑک اٹھتی ہے۔
سیاست کے بھی کچھ اصول ہیں ، بلکہ اس میدان کیلئے قوانین بھی موجود ہیں ۔ دونوں ہی مختلف ہیں ۔ اصولوں سے ہمیں سیاست کے آداب سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہےکہ سیاست میں رائج شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کرکے انہیں نیچا دکھایا جاتا ہے اور خودساختہ اصول گھڑ لیے جاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر، سیاسی پارٹی تبدیل کرنے پر قانون کی پکڑ سے بچنے کیلئے ایسے مذموم ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں جن سے اس رجحان میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ سیاست کے اس کھیل میں امپائر بھی یک طرفہ فیصلہ کرسکتا ہے۔ ایسے کئی واقعات ہیں جن میں اسپیکر بذات خود کھیل میں شریک تھے۔ سیاست کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ آسان مسئلہ کو مشکل زبان کا سہارا لے کر سمجھایا جاتا ہے۔ اس اصول کے بارے میں مزید جاننے کیلئے اور سیاست کے دیگر اصولوں کو گہرائی سے سمجھنے کیلئے صرف ایک شخص آپ کی مدد کرسکتا ہے، اور وہ ہے نتیش کمار۔