مسک کی تقریباً ۰۵ء۱ کھرب ڈالر کی مجموعی دولت، ہندوستان کی ۱۳ء۴ کھرب ڈالر کی معیشت کے تقریباً ۲۵ فیصد کے برابر ہے یعنی ایک اکیلے شخص کی کاغذی دولت ۱۴۰ کروڑ سے زائد افراد کی مجموعی سالانہ معاشی پیداوار کے چوتھے حصے کے برابر پہنچ گئی ہے۔
EPAPER
Updated: June 13, 2026, 7:34 PM IST | Washington
مسک کی تقریباً ۰۵ء۱ کھرب ڈالر کی مجموعی دولت، ہندوستان کی ۱۳ء۴ کھرب ڈالر کی معیشت کے تقریباً ۲۵ فیصد کے برابر ہے یعنی ایک اکیلے شخص کی کاغذی دولت ۱۴۰ کروڑ سے زائد افراد کی مجموعی سالانہ معاشی پیداوار کے چوتھے حصے کے برابر پہنچ گئی ہے۔
۱۲ جون کو اسپیس ایکس (SpaceX) کے آئی پی او جاری کرنے کے بعد، اسپیس ایکس اور ٹیسلا (Tesla) میں ایلون مسک کے مجموعی شیئرز نے ان کی مجموعی دولت کو تقریباً ۰۵ء۱ کھرب ڈالر (ایک لاکھ پانچ ہزار کروڑ ڈالر) ڈالر تک پہنچا دیا ہے۔ اس کے ساتھ وہ انسانی تاریخ کے پہلے کھرب پتی (Trillionaire) بن گئے ہیں۔ انٹرنیشنل منیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعدادوشمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو مسک کی ذاتی دولت اب دنیا کے تقریباً ۱۶۰ ممالک کی مجموعی سالانہ اقتصادی پیداوار (جی ڈی پی) سے بھی زیادہ ہے۔
بڑی معیشتوں کے ساتھ مسک کی دولت کا موازنہ
آئی ایم ایف (IMF) کے ۲۰۲۵ء کے اعداد و شمار کے مطابق، علامتی جی ڈی پی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں امریکہ ۶ء۳۰ کھرب ڈالر کے ساتھ پہلے، چین ۴ء۱۹ کھرب ڈالر کے ساتھ دوسرے، جرمنی ۰۱ء۵ کھرب ڈالر کے ساتھ تیسرے، جاپان ۲۸ء۴ کھرب ڈالر کے ساتھ چوتھے اور ہندوستان ۱۳ء۴ کھرب ڈالر کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ مسک کے ۰۵ء۱ کھرب ڈالر کے اثاثے امریکی جی ڈی پی کے تقریباً ۴ء۳ فیصد کے برابر، چین کی جی ڈی پی کے ۴ء۵ فیصد کے برابر، جرمنی کی جی ڈی پی کے ۲۱ فیصد، جاپان کی جی ڈی پی کے ۵ء۲۴ فیصد، برطانیہ کی جی ڈی پی کے ۵ء۲۶ فیصد، جبکہ اٹلی اور روس کی جی ڈی پی کے ۴۱ فیصد کے برابر ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسپیس ایکس کا تاریخی کارنامہ، ۷۵؍ارب ڈالر کا سب سے بڑا امریکی آئی پی او
مسک کی دولت ہندوستان کی پوری معیشت کے ایک چوتھائی حصے کے برابر
مسک کی مجموعی مالیت ہندوستان کی ۱۳ء۴ کھرب ڈالر کی معیشت کے تقریباً ۲۵ فیصد کے برابر ہے یعنی ایک اکیلے شخص کی کاغذی دولت ۱۴۰ کروڑ سے زائد افراد کی مجموعی سالانہ معاشی پیداوار کے چوتھے حصے کے برابر پہنچ گئی ہے۔
امریکی کھرب پتی کی دولت سوئٹزرلینڈ اور پولینڈ کی پوری جی ڈی پی کے لگ بھگ برابر ہے، جو دنیا کی ۲۰ سب سے بڑی معیشتوں میں شامل ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی جی ڈی پی تقریباً ایک کھرب ڈالر ہے۔ مسک کی دولت بیلجیم اور ارجنٹائنا جیسے ممالک کی معیشتوں سے بھی زیادہ ہے، جن کی جی ڈی پی تقریباً ۷ء۰ کھرب ڈالر ہے۔
براعظمی سطح پر دیکھا جائے تو مسک کے ۰۵ء۱ ٹریلین ڈالر تمام افریقی ممالک کی مجموعی جی ڈی پی کا تقریباً ۲۵ فیصد ہیں، جو مل کر سالانہ تقریباً ۶ ٹریلین ڈالر کی معاشی پیداوار کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ۲۰۲۶ء کے تخمینے کے مطابق، تقریباً ۱۲۴ ٹریلین ڈالر کی عالمی جی ڈی پی کے مقابلے، مسک کی دولت دنیا بھر میں ہر سال پیدا ہونے والے ہر ۱۲۴ ڈالرز میں سے تقریباً ایک ڈالر کی نمائندگی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دفاعی شعبے میں مقامی ٹیکنالوجی اپنانے سے ۳؍ برس میں روزگار ۵؍ گنا بڑھنے کا امکان
مسک کی دولت کاغذی ہے، نقد رقم نہیں
یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اس موازنے کی ایک حد ہے۔ جی ڈی پی ایک سال میں پوری معیشت کی جانب سے تیار کردہ سامان اور خدمات کی پیمائش کرتی ہے، جبکہ مجموعی مالیت، کسی ایک شخص کی ملکیت میں موجود اثاثوں کی قیمت کو ظاہر کرتی ہے۔ مسک خود بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ان کی تقریباً پوری دولت ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے اسٹاک ہولڈنگز (شیئرز) پر مشتمل ہے، جس کا ۱ء۰ فیصد سے بھی کم حصہ نقد رقم کی شکل میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی دولت بڑے پیمانے پر غیر سیال کاغذی دولت ہے، یہ نقد رقم کی شکل میں نہیں ہیں جسے مسک آزادانہ خرچ کرسکیں۔