Updated: June 12, 2026, 8:06 PM IST
| Kolkata
راجرہاٹ نیو ٹاؤن اسمبلی حلقے کے بوتھ نمبر ۱۶۴ کی اہمیت محض اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ اس بوتھ کی گنتی سے پہلے ٹی ایم سی کے امیدوار تاپش چٹرجی ۳۱۶ ووٹوں سے آگے چل رہے تھے۔ لیکن بوتھ نمبر ۱۶۴ کے نتائج شامل کرتے ہی پانسہ پلٹ گیا اور بی جے پی کے امیدوار پیوش کنوڈيا ٹھیک ۳۱۶ ووٹوں کے فرق سے جیت گئے۔
مغربی بنگال کے راجرہاٹ نیو ٹاؤن اسمبلی حلقے کے بوتھ نمبر ۱۶۴ کے اسمبلی الیکشن کے نتائج، سنگین سوالات کے گھیرے میں آگئے ہیں۔ فیکٹ چیکنگ ادارے ’آلٹ نیوز‘ (Alt News) کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ’مسلمان پاڑہ‘ نامی مسلم اکثریتی علاقے میں بی جے پی کے امیدوار پیوش کنوڈيا کو کل ڈالے گئے ۶۵۶ ووٹوں میں سے ۶۳۷ ووٹ حاصل ہوئے۔ اسی بوتھ سے ٹی ایم سی کے امیدوار تاپش چٹرجی کو صرف ۵ ووٹ اور سی پی آئی (ایم)-آئی ایس ایف اتحاد کے امیدوار سپترشی دیب کو صرف ایک ووٹ ملا۔
اگر ان نتائج کا موازنہ اسی علاقے میں واقع پڑوسی بوتھ نمبر ۱۶۵ سے کیا جائے، جہاں بہت سے خاندانوں کے ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، تو معاملہ مزید مشکوک ہو جاتا ہے۔ بوتھ نمبر ۱۶۵ پر، دیب کو ۲۹۹ ووٹ، چٹرجی کو ۲۹۰ ووٹ اور کنوڈيا کو صرف ۳۲ ووٹ ملے، جو بوتھ نمبر ۱۶۴ کے بالکل برعکس نتیجہ ہے۔ بوتھ نمبر ۱۶۴ پر رجسٹرڈ ووٹرز میں سے تقریباً ۸۸ فیصد مسلمان ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اتر پردیش کی یونیورسٹیوں میں ’’اینٹی کنورژن سیلز‘‘ قائم کرنے کا حکم، شدید تنقید
بوتھ نمبر ۱۶۴ نے پورے انتخابی نتیجے کو پلٹ کر رکھ دیا
بوتھ نمبر ۱۶۴ کی اہمیت محض اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ اس بوتھ کی گنتی سے پہلے ٹی ایم سی کے امیدوار چٹرجی ۳۱۶ ووٹوں سے آگے چل رہے تھے۔ لیکن بوتھ نمبر ۱۶۴ کے نتائج شامل کرتے ہی پانسہ پلٹ گیا اور بی جے پی کے امیدوار پیوش کنوڈيا ٹھیک ۳۱۶ ووٹوں کے فرق سے جیت گئے۔
متعدد مقامی باشندوں نے آلٹ نیوز کو بتایا کہ ان کے ووٹ نتائج میں نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ۲ مرتبہ سی پی آئی (ایم) کے پنچایت ممبر رہ چکے احمد علی منڈل نے کہا کہ ”انہوں نے اور ان کے خاندان کے ۸ ارکان نے بوتھ نمبر ۱۶۴ پر اتحادی امیدوار کو ووٹ دیا تھا۔ لیکن نتائج بتاتے ہیں کہ اس بوتھ سے انہیں صرف ایک ووٹ ملا ہے۔ ہمارے ووٹ کہاں گئے؟“ مقامی آئی ایس ایف لیڈر اختر علی ملا اور پولنگ ایجنٹ رمضان علی نے بھی اسی طرح کے بیانات دیئے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے خاندانوں کے ہمراہ ذاتی طور پر سی پی آئی (ایم)-آئی ایس ایف کے امیدوار کو ووٹ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی حکومت نے ہندی ادبی ایوارڈز کا نام ساورکر اور واجپئی کے نام پر رکھ دیا
ووٹوں کی گنتی کے عمل پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس حلقے میں متوقع ۱۷ راؤنڈز کے بجائے گنتی کے ۱۸ راؤنڈز ہوئے۔ پولنگ والے دن ہی، متعدد پارٹیوں کے ایجنٹوں نے نوٹ کیا تھا کہ بوتھ نمبر ۱۶۴ پر ای وی ایم میں اصل ڈالے گئے ووٹوں سے ۵۲ ووٹ زیادہ ظاہر ہو رہے تھے اور انہوں نے وی وی پی اے ٹی کی تصدیق کا مطالبہ کیا تھا۔ سی پی آئی (ایم)-آئی ایس ایف کے امیدوار دیب نے کہا کہ امیدواروں کو دوبارہ گنتی کے عمل کے بارے میں مناسب طور پر مطلع نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”گنتی کا پورا عمل مشکوک تھا۔“
بی جے پی کے ایم ایل اے کنوڈيا نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ”لوگوں نے ہمیں ووٹ دیا ہے۔ نتائج خود سب کچھ واضح کر رہے ہیں۔“ آلٹ نیوز نے اس معاملے پر باضابطہ جوابات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کو خط لکھا ہے۔