• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

واچن شکتی اور طلبہ کی پاچن شکتی

Updated: October 18, 2026, 2:43 PM IST | Mumbai

سرکاری حکم کی ہر قیمت پر تعمیل کرنے والوں نے بھی یہ جاننے کی فکر نہیں کی کہ ترغیب ’’دی‘‘ جا رہی ہے تو ترغیب ’’لی‘‘ بھی جارہی ہے یا نہیں۔ اگر مطالعہ کا رجحان پیدا ہوا ہے تو اس کا اشارہ کتابوں کی فروخت سے مل سکتا تھا مگر نہیں ملتا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

’’واچن پریرنا دِوس‘‘ یعنی یوم ترغیب مطالعہ۔ سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے یوم ولادت پر یہ دن ۲۰۱۵ء سے ہر سال منایا جا رہا ہے۔ تب سے اب تک کے گیارہ برسوں میں، طلبہ کو مطالعہ کی کتنی ترغیب ملی، اس کا جواب شاید ہی کسی کے پاس ہو۔ اس لئے کہ پریرنا دِوس منانے کی پریرنا دینے والوں نے کسی سروے کے ذریعہ خود بھی اس کا جواب حاصل نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سلسلے کے اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں۔ 
سرکاری حکم کی ہر قیمت پر تعمیل کرنے والوں نے بھی یہ جاننے کی فکر نہیں کی کہ ترغیب ’’دی‘‘ جا رہی ہے تو ترغیب ’’لی‘‘ بھی جارہی ہے یا نہیں۔ اگر مطالعہ کا رجحان پیدا ہوا ہے تو اس کا اشارہ کتابوں کی فروخت سے مل سکتا تھا مگر نہیں ملتا۔ اس کے برخلاف بے شمار کتب خانے بند ہو چکے ہیں اور نئے کھلے نہیں ہیں۔ انٹرنیٹ پر، معاف کیجئے، ریل (Reel) دیکھے جاتے ہیں کتابیں نہیں پڑھی جاتیں یعنی واچن پریرنا دِوس کے سبب کتابوں کی کھپت بڑھی ہو، ایسا نہیں ہے۔ 
ہم یہ نہیں کہتے کہ یوم ترغیب مطالعہ منانا بے فیض ہے مگر کوئی بتائے تو ہم سر جھکا کر سننے کو تیار ہیں کہ یہ کتنا بافیض ثابت ہوا۔ اس کے باوجود ہماری رائے ہے کہ اس کو جاری رکھنا چاہئے کیونکہ اس سے مطالعہ کے اہم ہونے کی بات طالب علموں تک پہنچتی ہے۔ اگر وہ نوبت آنی بھی ہے تو اس کی وجہ سے فوراً نہیں آئے گی جب طالب علم ’’مطالعہ‘‘ کو ’’منہ پر تالہ‘‘ سمجھے گا۔ اگر ہمارا تاثر درست ہے کہ مطالعہ کا دن منایا جانا بافیض ثابت نہیں ہوا ہے تو یہ سوچا جانا چاہئے کہ اس کو بافیض بنانے کیلئے کیا کیا جاسکتا ہے۔ اگر کچھ کیا جاسکتا ہے تو ٹھیک ورنہ یہ اعلان کرنا چاہئے کہ واچن شکتی سے زیادہ طلبہ کی پاچن شکتی ضروری ہے، وہ اتنا ہضم نہیں کرسکتے جبکہ ماہرین کی رائے یہ ہے کہ تازہ ذہنوں میں غیر معمولی صلاحیت ِ انجذاب ہوتی ہے، ان پر کوئی علمی و تعلیمی سرگرمی بار نہیں ہوتی۔ ماہرین کے مطابق ’’ایک نوعمر اور نوجوان کی سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت اپنی حیاتیاتی انتہا پر ہوتی ہے، جس کی وجہ اعصابی نظام کی شدید نشوونما اور دماغ کی اعلیٰ درجے کی لچک (برین پلاسٹی سٹی) ہے۔ نوجوانوں میں تجریدی سوچ، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی(اسٹیم) اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی زبردست ذہنی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اتنا ہی نہیں تعلیم کو جذب کرنے کی ان کی عملی صلاحیت میں بھی بہت زیادہ مثبت فرق اس طرح آتا ہے کہ اب اُن پر پیدائشی ذہانت کے بجائے جذباتی، ماحولیاتی اور رویہ جاتی عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ‘‘
جو والدین یہ سمجھتے ہیں کہ طالب علم کو صرف نصاب پڑھنا چاہئے اُنہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اُن کیلئے ’’غیر نصاب‘‘ بھی اُتنا ہی ضروری ہے۔ وہ جتنا پڑھیں گے اُتنا یاد رکھ پائیں گے اور اُتنی اُن کی خود اعتمادی بڑھے گی۔ البتہ آٹھ گھنٹے کی نیند لازمی ہے جو سب کیلئے ہر عمر کے افراد کیلئے ضروری ہے۔ یوم ترغیب ِ مطالعہ منانا اہم ہے مگر اس سے زیادہ اہم ترغیب کے اثرات اور نتائج کا جائزہ لینا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK