Inquilab Logo Happiest Places to Work

کشمیر: منزل ابھی دور ہے: عمر عبداللہ نے رابرٹ فراسٹ کی نظم کا حوالہ دیا

Updated: August 06, 2026, 4:02 PM IST | Srinagar

جموں کشمیر سے خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے سات سال مکمل ہونے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاست کے عوام کے زخم ابھی تک مندمل نہیں ہوئے اور ان کی جماعت اپنے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جموں کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ دلانا فی الحال اولین ترجیح ہے، جبکہ دفعہ ۳۷۰؍ اور دفعہ ۳۵؍ اے کی بحالی کی جدوجہد بھی جاری رہے گی۔ عمر عبداللہ نے معروف شاعر رابرٹ فراسٹ کی نظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منزل ابھی دور ہے اور کئی وعدے ابھی پورے کرنے باقی ہیں۔

Omar Abdullah. Photo: INN
عمر عبداللہ۔ تصویر: آئی این این

جموں کشمیر میں ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کو دفعہ ۳۷۰؍ اور دفعہ ۳۵؍ اے کی منسوخی کے سات سال مکمل ہونے پر ایک بار پھر خصوصی آئینی حیثیت، ریاستی درجے کی بحالی اور خطے کے سیاسی مستقبل پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اپنے بنیادی مؤقف سے دستبردار نہیں ہوئی، تاہم موجودہ حالات میں مکمل ریاستی درجہ واپس حاصل کرنا اولین ترجیح ہے۔ عمر عبداللہ نے ایک جذباتی بیان میں امریکی شاعر رابرٹ فراسٹ کی مشہور نظم Stopping by Woods on a Snowy Evening کی آخری سطروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ابھی بہت سے وعدے پورے کرنے ہیں اور سونے سے پہلے ابھی کئی میل کا سفر طے کرنا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سات برس گزر جانے کے باوجود جموں کشمیر کے عوام کے زخم ابھی تک بھر نہیں سکے اور ان کی جماعت نہ تو ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کے فیصلے کو بھولی ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ مفاہمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی: راہل گاندھی کے ’’چھاتروں کی گونج‘‘ پروگرام کی اجازت منسوخ

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’ہم نے نہ اسے بھلایا ہے اور نہ ہی قبول کیا ہے۔ ہم اپنے لوگوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ چاہتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس نے اسمبلی انتخابات کے دوران عوام سے جو وعدے کیے تھے، وہ آج بھی اپنی جگہ برقرار ہیں اور ان کی تکمیل کے لیے آئینی، قانونی اور جمہوری ذرائع سے جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ ریاستی درجے کی بحالی کو ترجیح دینے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ جماعت نے دفعہ ۳۷۰؍ کی بحالی کا مطالبہ ترک کر دیا ہے۔ ان کے مطابق مکمل ریاست کا درجہ ملنے سے منتخب حکومت کو زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے، جس کے بعد عوام کے دیگر آئینی اور سیاسی مطالبات کے لیے مزید مؤثر انداز میں آواز اٹھائی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مطالبات ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک ہی جدوجہد کے مختلف مراحل ہیں۔ 

عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کو دوبارہ ریاست بنانے کا وعدہ کئی مرتبہ کیا گیا، لیکن سات برس گزرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ ان کے مطابق عوام اسی وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ ۵؍ اگست کی برسی پر نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور کانگریس سمیت مختلف جماعتوں نے جموں کشمیر کے متعدد علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ کئی مقامات پر پارٹی کارکنوں نے مختصر ریلیاں نکالیں اور ۲۰۱۹ء کے فیصلے کو ’’یومِ سیاہ‘‘ قرار دیا، جبکہ بعض مقامات پر پولیس اور انتظامیہ نے بڑے اجتماعات کی اجازت نہیں دی۔ 

یہ بھی پڑھئے: رانچی میں طلبہ کا احتجاج شدید تر، مزید ۵؍ بھوک ہڑتال پر بیٹھے

دوسری جانب وزیراعظم نریندر مودی نے اسی موقع پر کہا کہ گزشتہ سات برسوں میں جموں کشمیر اور لداخ میں بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، سرمایہ کاری، خواتین کے اختیارات اور مجموعی ترقی کے میدان میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کا فیصلہ خطے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوا ہے۔ واضح رہے کہ ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کو مرکزی حکومت نے آئین کی دفعہ ۳۷۰؍ اور دفعہ ۳۵؍ اے کے تحت جموں کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے سابق ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں، جموں کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا تھا۔ اس اقدام کے بعد وادی میں سخت سیکوریٹی انتظامات کیے گئے، متعدد سیاسی لیڈروں کو حراست میں لیا گیا اور مواصلاتی پابندیاں بھی نافذ کی گئیں۔ اس فیصلے کے بعد سے ریاستی درجے اور خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی خطے کی سیاست کا مرکزی موضوع بنی ہوئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK