سنبھل تشدد معاملے میں ماخوذ ملّا افروز کو رہا کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو کافی سخت سست کہا۔ اس تعلق سے فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے نہ صرف ملا افروزکی ’نیشنل سیکوریٹی ایکٹ‘ (این ایس اے) کے تحت حراست منسوخ کر دی بلکہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی منسوخ کر دیا جس میں ان کی حراست کو برقرار رکھا گیا تھا۔ اس فیصلے کی اہمیت اس لحاظ سے بھی کافی ہے کہ سپریم کورٹ نے ملزم کو رہا کرتے ہوئے حکومت پر ۱۰؍ لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
سپریم کورٹ سے آج بھی لوگ انصاف کی آس لگاتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ کےاس فیصلے کااستقبال کیا جانا چاہئے

ملا افروز کی غیر قانونی حراست سنبھل تشدد معا ملہ پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ثابت کردیا کہ ملک کے ان نازک حالات میں بھی عدلیہ سے انصاف کی امید کی جاسکتی ہے۔ پورے فیصلے کو بار بار پڑھنے اور باریکی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اجمالی جائزے میں بھی تین اہم باتیں سامنے آتی ہیں۔ اول یہ کہ پولیس حراست میں دیا گیا اعترافی بیان قابل اعتماد نہیں ہوسکتا، اسلئے اس کی وجہ بنا کر حراست میں رکھنے کی کورٹ نے مخالفت کی۔ دوم یہ کہ عدالت عظمیٰ نے ملک کی پارلیمنٹ سے کہا کہ ایسا قانون بنایا جانا چاہئے جس سے طے ہو کن معاملات میں کسی کو حفظ ما تقدم کے تحت حراست میں یعنی preventive detention ہو اور اس کی مدت کیا ہو؟
اس فیصلے میں ایک اور اہم بات یہ کہ ایک شہری کی آزادی کو سلب کرنے کی پاداش میں حکومت پر ۱۰؍ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل کچھ اسی طرح کا فیصلہ الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک طالبہ آکرتی چودھری کے سلسلے میں سنایا تھاجنہیں نوئیڈا کی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ میدھا روپم کی اجازت سے این ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ اُس معاملے میں ہائی کورٹ نے جرمانے کی رقم میدھا روپم اور پولیس افسران کی جیب سے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
اسی طرح اس سلسلے کی تیسری بات یہ ہے جو کہ ایک سوال کی صورت میں ہے کہ کیا اس فیصلے کو دیگر کورٹ میں نظیر کے طو ر پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس تعلق سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس کا بہت کچھ انحصار جج اور بنچ پر ہے۔ ہمارے یہاں اس طرح کے بہت سارے معاملات ہیں جہاں سال ہا سال بےقصور حراست میں رکھے جاتے رہے ہیں اور آج بھی کئی لوگ اس کا شکار ہیں۔ اس فیصلے سے امید کی کرن تو نظر آتی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ عدلیہ کسی سیاسی دباؤ میں نہ ہو۔ افسوس کی اب اکثر ہماری عدالتوں پر بھی یہ الزام لگنے لگا ہے کہ وہ اس دباؤ کی وجہ سے انصاف نہیں کر پاتے ہیں۔ بہرحال انصاف پسند اور سیکولر عوام اس فیصلے کا استقبال کریں گے، اس امید کے ساتھ کہ ہمارے وکلا اس کو دیگر مقد مات میں بھی استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔
خورشید صدیقی (سماجی کارکن، گھاٹ کوپر، ممبئی)
یہ فیصلہ نظیر بن سکے گا کہ نہیں، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا

جب حکومتیں خود سر ہوجاتی ہیں، اور انتظامیہ بے لگام۔ تو ایسی صورت میں عوام کی امیدوں کا مرکز یہی عدالتیں ہوتی ہیں۔ فیصلے امیدوں کے مطابق آئیں یا بر خلاف، انھیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔ ماضی میں کئی ایسے فیصلے آئے، جنھیں انصاف کے بجائے عدالتی فیصلہ ہی کہا جا سکتا ہے، لیکن عوام نے اسے قبول کرکے قانون کی حکمرانی پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ سنبھل تشدد کے معاملے میں ملا افروز کی رہائی یو پی حکومت کی من مانی اور نظام انصاف و قانون کی پامالی کی واضح علامت ہے۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہےکہ ان جیسے دیگر معاملات میں بھی، جن کا فیصلہ ابھی نہیں آیا ہے یا جن میں استغاثہ کی پر زور دلائل و شواہد کی بنا پر فیصلہ سنا دیا گیا ہے، ان میں کس طرح قانون کا غلط استعمال کیا گیا ہوگا۔ اور قانون کے بجائے لا قانونیت اور اپنی مرضی کا طریقہ اختیار کیا گیا ہوگا۔ یہ فیصلہ باور کراتا ہے کہ انسانی حقوق اور نظام انصاف دونوں کو کچلا جارہا ہے، مخالفین کو خاموش کرنے کیلئے سخت دفعات کا استعمال کیا جا رہا ہے، اور اس میں حکومت کے ساتھ پولیس محکمہ شامل ہے۔ اس کی واضح مثال خود عدالت عظمیٰ کا تبصرہ ہے جس میں یوپی کے محکمہ پولیس کو تحلیل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
عدالت عظمی اپنے اختیارات کا استعمال کرکے این آر سی، ایس آئی آر، اور بلڈوزر جیسی کارروائی میں مداخلت کر سکتی تھی، اس کے پاس مواقع اور اختیار دونوں تھے اور اب بھی ہیں، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عدالت اپنے ہی فیصلے نافذ کروانے میں عاجز ہے، بلڈوزر کارروائی کے خلاف رہنمایانہ خطوط ہونے کے باجود کوئی فرق نہیں ہے، عدالت کا دورازہ کھلنے سے پہلے ہی بلڈوزرکارروائی مکمل ہو جاتی ہے۔ سنبھل تشدد سے جڑے اس معاملے میں ملا افروز کی رہائی اور یوپی حکومت پر دس لاکھ کا جرمانہ انصاف کی فتح تو ہے، لیکن اس فیصلے کے دوسرے مقدمات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، یا اسے نظیر بنایا جا سکتا ہے کہ نہیں۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگاکیونکہ حالیہ اور گزشتہ کئی برسوں کے اندر عدالتی تبصروں سے ایسا محسوس ہوا کہ فیصلہ انصاف بر مبنی ہوگا، لیکن ایسا ہوا نہیں۔ گزشتہ ہفتے معروف وکیل دشینت دوے نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں کئی بد عنوان جج رہے ہیں جنھوں نے نظام انصاف کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بات چونکانے والی ہیں اور ساتھ ہی تشویش بھی پیدا کرتی ہے۔
سعیدالرحمان (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اُرود ممبئی یونیورسٹی)
جرمانہ وزیراعلیٰ اورپولیس افسران پر عائد کیا جانا چاہئے

سنبھل تشدد معاملے میں سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ محض ایک شخص کی رہائی سے متعلق فیصلہ نہیں بلکہ اس سوال سے بھی جڑا ہوا ہے کہ ریاست کسی شہری کو قومی سلامتی قانون (این ایس اے) جیسے سخت قانون کے تحت کتنی آسانی سے اور کن بنیادوں پر مسلسل حراست میں رکھ سکتی ہے۔ جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو کی بنچ نے ملا افروز کے خلاف این ایس اے کے تحت حراست کا حکم منسوخ کرتے ہوئے یوگی سرکار پر۱۰؍ لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ سپریم کورٹ نے پایا کہ پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں، صرف حراست میں دیئے گئے ’اعترافی بیان‘ ہی کو واحد بنیاد بنایا ہے جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ احتیاطی حراست کا مقصد مستقبل میں کسی نقصاندہ سرگرمی کو روکنا ہے، اسے پہلے سے زیرِ سماعت فوجداری مقدمے کی سزا کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
اس فیصلے کی اہمیت اسی نکتے میں ہے۔ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ تشدد کے مقدمات ختم ہوگئے یا افروز بے قصور قرار دے دیئے گئے۔ اس نے صرف یہ واضح کیا کہ عام فوجداری کارروائی اور این ایس اے کے تحت احتیاطی حراست دو الگ چیزیں ہیں۔ عدالت نے صاف کہا کہ زیرِ سماعت فوجداری مقدمات اپنے قانونی طریقے سے آگے بڑھیں گے۔ ایسے میں اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ اس فیصلے کے اثرات دوسرے مقدمات پر بھی پڑیں گے، خاص طور پر اُن معاملات میں جہاں این ایس اے یا اسی نوعیت کی احتیاطی حراست کی بنیاد کمزور، ناقابلِ قبول یا ناکافی مواد ہو۔ حالانکہ یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ ہر مقدمے کاانحصار صرف قانون پر نہیں ہوتا بلکہ بہت کچھ ججوں کے ’صوابدید‘ پر بھی ہوتا ہے۔
اس فیصلے میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے یوگی حکومت کو ریاستی خزانے سے ملا افروز کو ایک ماہ کے اندر ۱۰؍ لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن اس سے ایک سوال بھی پید ہوتا ہے کہ اگر کسی سرکاری اختیار کا غلط استعمال ثابت ہو تو اس کی ذمہ داری سرکاری خزانے پر کیوں آئے؟ ہونا تو یہ چاہئے کہ یہ جرمانہ وزیراعلیٰ اور متعلقہ پولیس افسران پر عائد کیا جاتا۔ مستقبل میں ذاتی جواب دہی کا مؤثر نظام ہو تو افسران بھی اپنے فیصلوں کے قانونی اور مالی نتائج کے بارے میں زیادہ محتاط رہیں گے۔
ایڈوکیٹ نسیم سمیع اللہ مومن (قانون داں، بھیونڈی)
یقیناًقانونی حراست کے معاملات میں کمی آئے گی

یوپی پولیس نے سنبھل تشدد معاملے میں ملا افروز کو اُسکا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے ۱۷/ جنوری ۲۰۲۵ء کو گرفتار کیا تھا اور بعد میں اس پر نیشنل سیکوریٹی ایکٹ عائد کردیا تھا۔ اس کے تحت، کسی شخص کو نئے جرائم کرنے یا امن عامہ کو برقرار رکھنے سے روکنے کیلئے قید کرنے کے ضوابط موجود ہیں۔ یہ ایک بہترین قانون ہے ملک کے امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے، لیکن اس کے غلط استعمال کی بہت ساری مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں جن میں ملا افروز کا معاملہ بھی ہے۔ سپریم کورٹ نے پولیس کی نہ صرف سرزنش کی بلکہ اترپردیش سرکار کو۱۰؍ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے کر ملا افروز کے۲۰؍ مہینے جیل میں گزارنے کے غیر آئینی فیصلے کی تلافی کی کوشش بھی کی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کا ہم ایک جمہوری ملک کے شہری ہونے کے ناطے خیر مقدم کرتے ہیں کیوں کہ اس طرح کے الزامات لگانے سے پہلے ملزم کے خلاف ٹھوس ثبوت اکٹھا کرنا پولیس کی ذمےداری ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ منصفانہ، بے باکانہ اور دلیرانہ ہے۔ دلیرانہ اسلئے کہ ملک کے موجودہ سیاسی پس منظر میں لوگوں کا عدلیہ کے اوپر بھروسہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ فیصلہ ملک کے آئین اور قوانین کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس نے جج صاحبان کی غیر جانبداری ظاہر کی ہے۔ آج کل اس قسم کے فیصلے کم ہی سنائی دیتے ہیں۔ اس طرح کے الزامات اکثر لگتے ہیں کہ بر سر اقتدار پارٹیوں نے عدلیہ کے کام میں مداخلت کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر اس قسم کے غیر جانبدار، فرض شناس، ایماندار اور بے خوف ججز مختلف عدالتوں میں فائز کر دیئے جائیں تو عوام خصوصاً غریب اور سماج کے کمزور طبقات کا اعتماد عدلیہ پر اور زیادہ مضبوط ہو جائےگا۔
جہاں تک اس فیصلےکے نظیر بننے کی بات ہے، اس کی یقیناً امید کی جاسکتی ہے۔ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے ملک میں قوانین کی حیثیت رکھتے ہیں تو بلا شبہ اس فیصلے کے اثرات دوسرے مقدمات پر بھی پڑیں گے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ غیر قانونی حراست کے معاملات میں کمی آئیگی اور حکومتیں اپنے سیاسی اغراض و مقاصد اور اپنے ایجنڈوں کی تکمیل کیلئے کسی کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے سے پہلے سوچیں گی۔
ایڈوکیٹ مومن نفیس جہاں محمد انور (قانون داں، بھیونڈی)
ملا افروز کی رہائی: قانون کی عدالت میں آزادی کی صدا

سنبھل کے ہنگامہ خیز واقعات کے پس منظر میں ملا افروز کی نیشنل سیکوریٹی ایکٹ کے تحت غیر قانونی حراست اور الہ باد ہائی کورٹ کی توثیقی کاروائی کو سپریم کورٹ نےنہ صرف کالعدم قرار دیا بلکہ اتر پردیش میں یوگی کی بی جے پیحکومت پر۱۰؍ لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کردیا، جو عدالت عظمیٰ کی سختی کا واضح اظہار ہے۔ بلاشبہ یہ فیصلہ ایک اہم قانونی پیش رفت ہے جو اس بنیادی اصول کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ریاست کے پاس طاقت ضرور ہے، مگر اس طاقت کا استعمال قانون کی حدود میں رہ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ ملا افروز کی’این ایس اے‘ کے تحت حراست کو سپریم کورٹ کی جانب سے منسوخ کیا جانا محض ایک فرد کی رہائی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ شخصی آزادی، قانونی طریقۂ کار اور حکومت کے آمرانہ فرمان پر کسی کو بھی حراست میں رکھنے کے اختیارات کو لگام لگانے کا ایک اہم فیصلہ ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے اس معاملے میں اٹھائے گئے قانونی نکات خاص توجہ کے مستحق ہیں۔ احتیاطی حراست کوئی معمول کا انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک غیر معمولی اختیار ہے، جس کے استعمال کیلئے قانون میں مقررہ شرائط اور آئینی تقاضوں کی سختی سے پابندی ضروری ہے۔ اگر کسی شہری کی آزادی سلب کی جاتی ہے تو اس کے پیچھے موجود مواد، اس کی قانونی بنیاد اور اس سے اخذ کیا جانے والا خطرہ محض قیاس نہیں بلکہ قابلِ اعتبار اور مربوط ہونا چاہیے۔ یقیناً اب ہر معاملہ اپنے حقائق، شواہد اور قانونی بنیاد پر ہی پرکھا جائے گا ورنہ آئندہ شاید حکومت پر جرمانے کے ساتھ ساتھ سزا کا بھی اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ان تمام مقدمات کیلئے ایک اہم قانونی حوالہ بن سکتا ہے جہاں این ایس اے کا استعمال حراست کی بنیاد بنا ہے، مبینہ اقبالی بیانات یا ماضی کے واقعات کو مستقبل کے خطرے سے جوڑ کر قیاس کرلینا اوراین ایس اے کا استعمال کرنا اب آسان نہیں ہوگا۔ اصل پیغام یہی ہے کہ قانون کی حکمرانی میں جرم ثابت کرنے کا راستہ بھی قانون ہی سے ہو کر گزرتا ہے، اور آزادی سلب کرنے کا اختیار بھی قانون کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔
مبین اظہر انصاری(سیاسی و سماجی کارکن، مولانا آزاد روڈ، ممبئی)
یہ فیصلہ دوسرے مقدمات کیلئے بھی اہم قانونی حوالہ بن سکتا ہے

اس فیصلے کے بعد اب دوسرےاین ایس اے مقدمات بھی قانونی جانچ کے ایک نئے مرحلے میں آ سکتے ہیں خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں کسی شخص کے خلاف پہلے سے فوجداری مقدمہ چل رہا ہو اور اسی واقعے کی طرح انہی الزامات یا تقریباً اسی مواد کی بنیاد پر این ایس اے کے تحت حراست میں رکھا گیا ہو۔ عدالت یہ سوال اٹھا سکتی ہے کہ احتیاطی حراست کی ضرورت آخر کیا تھی؟ملا افروز کے معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے شواہد کی نوعیت اور حراست کی بنیاد پر اٹھائے گئے سوالات ان مقدمات کیلئے بھی اہم ہو سکتے ہیں جہاں پولیس کے سامنے دیئے گئے مبینہ اقبالیہ بیان چارج شیٹ یا دیگر محدود مواد کو این ایس اے کی بنیاد بنایا گیا ہے۔
اس فیصلے کا ایک اہم پہلو حراست کیلئے استعمال ہونے والے شواہد تک رسائی بھی ہے۔ اگر کسی شخص کی حراست کسی ویڈیو، سی سی ٹی وی فوٹیج یا دوسرے اہم ریکارڈ کی بنیاد پر کی گئی ہے تو یہ سوال اہم ہوگا کہ کیا وہ مواد متعلقہ شخص کو فراہم کیا گیا تھا اور کیا اسے مؤثر طریقے سے اپنا دفاع کرنے کا موقع ملا۔ تاہم اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام این ایس اے مقدمات ختم ہو جائیں گے یا ہر حراست غیر قانونی قرار پائے گی۔ ہر مقدمے کے حقائق اور شواہد الگ ہوتے ہیں لیکن ملا افروز کے معاملے نے یہ ضرور واضح کر دیا ہے کہ این ایس اے کے تحت کسی شخص کی آزادی محدود کرنے کیلئے صرف فوجداری مقدمہ الزامات یا ماضی کے واقعات کافی نہیں سمجھے جا سکتے۔
اسی لیے آنے والے دنوں میں این ایس اے کے ایسے مقدمات میں عدالتیں صرف یہ نہیں دیکھیں گی کہ کسی شخص کے خلاف کیا الزام ہے بلکہ یہ بھی دیکھ سکتی ہیں کہ اسے این ایس اے کے تحت حراست میں رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کیلئے کون سا نیا اور ٹھوس مواد موجود ہے اور کیا قانونی طریقۂ کار پر پوری طرح عمل کیا گیا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی وجہ سے ملا افروز کا فیصلہ دوسرے مقدمات کیلئے بھی اہم قانونی حوالہ بن سکتا ہے۔
ساحل خان( اسٹوڈنٹ ایم اے پالیٹکس، یونیورسٹی آف ممبئی)