• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قاری نامہ: نیشنل یوتھ ڈے، نوجوانوں کی تربیت، بڑے کیا کریں کہ وہ مؤثر ثابت ہو؟

Updated: January 18, 2026, 5:03 PM IST | Mumbai

۱۲؍ جنوری کو ’نیشنل یوتھ ڈے‘منایا جاتا ہے۔ اِس وقت ہمارا ملک دنیا کا سب سے نوجوان ملک ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ۱۵؍ سے ۲۹؍ سال کی آبادی ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً ۲۷؍ فیصد ہے۔

Teach young people critical thinking, give them the freedom to ask questions, and promote positive dialogue. Photo: INN
نوجوانوں کو تنقیدی سوچ سکھائیں، سوال کرنے کی آزادی دیں اور مثبت مکالمے کو فروغ دیں۔ تصویر: آئی این این

۱۲؍ جنوری کو ’نیشنل یوتھ ڈے‘منایا جاتا ہے۔ اِس وقت ہمارا ملک دنیا کا سب سے نوجوان ملک ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ۱۵؍ سے ۲۹؍ سال کی آبادی ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً ۲۷؍ فیصد ہے۔ ایسے میں اس دن کی ہمارے لئے کیا اہمیت ہے؟ ہمارے نوجوان آج کہاں ہیں؟ اور یہ کہ نوجوانوں کیلئے ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے؟ اسی طرح کے کچھ سوالات کے ساتھ ہم نے اپنے سماج کی کچھ اہم شخصیات سے رابطہ قائم کیا اور ان سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی ، ملاحظہ کریں:
یہ دن جشن کا نہیں، بیداری کاہونا چاہئے


اکثر کہا جاتا ہے کہ نوجوان کسی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، لیکن یہ مستقبل خود بخود تشکیل نہیں پاتا، اسے شعوری طور پر سنوارنا پڑتا ہے۔ اگر نوجوانوں کو درست سمت میں تربیت، رہنمائی اور بااختیار نہ بنایا جائے تو معاشرہ حقیقی ترقی کی امید کم ہی رکھ سکتا ہے۔۱۲؍ جنوری کو جب ہم قومی یومِ نوجوان مناتے ہیں تو یہ پیغام اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ یہ محض ایک رسمی یاد دہانی نہیں بلکہ غور و فکر اور ذمہ داری کا تقاضا ہے۔
ہندوستان کے جمہوری ویژن کی بنیاد آئینی اقدار، مساوات، آزادی اور اخوت پر قائم ہے۔ یہ محض کتابوں یا سرکاری تقاریر کیلئے وضع کئے گئے نظریات نہیں بلکہ ایک پُرامن، تشدد سے پاک اور پائیدار سماج کی زندہ اساس ہیں۔ معقول طرزِ فکر اور جمہوریت اسی وقت فروغ پا سکتے ہیں جب ان اقدار پر عملی طور پر عمل کیا جائے۔ یہ بات سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ مساوات، آزادی اور اخوت الگ الگ ہو کر مؤثر نہیں رہتیں بلکہ ایک دوسرے کو مضبوط بناتی ہیں۔ مساوات کے بغیر آزادی مراعات میں بدل جاتی ہے، اخوت کے بغیر مساوات کھوکھلی ہو جاتی ہے، اور آزادی کے بغیر اخوت یکسانیت اور جبر کی علامت بن جاتی ہے۔ ان میں سے کوئی ایک کمزور پڑتی ہے تو جمہوریت اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ ایسی صورت میں جو نظام باقی رہتا ہے وہ شکل میں تو جمہوری دکھائی دیتا ہے، مگر روح کے اعتبار سے وہ شمولیت اور انصاف کے بجائے اکثریتی غلبے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
نوجوانوں کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ معاشرے جامد نہیں ہوتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی روایات، اقدار اور سماجی اصول فرسودہ ہو جاتے ہیں۔ جو ادارے کبھی بامعنی تھے، وہ آج ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ذات، مذہب اور جنس پر مبنی درجہ بندی سے جڑی روایات مساوات، آزادی، اخوت اور عقلیت کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہیں۔ جس طرح ہم اپنی روزمرہ زندگی میں نئی ٹیکنالوجیز کو اپناتے اور اختراع کرتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے سماجی اداروں پر بھی ازسرِنو غور اور ان کی تشکیلِ نو کرنی ہوگی۔ ایک ترقی پسند مستقبل ایسے اداروں اور عملی طریقوں کا تقاضا کرتا ہے جو انسانی وقار، انصاف اور شمولیت جیسی عصری اقدار کی عکاسی کریں۔ سماجی، معاشی یا سیاسی ترقی مضبوط اور اخلاقی اداروں کے بغیر ممکن نہیں۔
اسی کے ساتھ ایک تلخ حقیقت کا سامنا کرنا بھی ضروری ہے کہ کچھ پرانے ادارے وقت کے ساتھ زہریلے ہو چکے ہیں۔ یہ تبدیلی کی مزاحمت کرتے ہیں، جدید جمہوری اقدار کو قبول نہیں کرتے، اور اکثر بچوں کو اس قابل بنانے میں ناکام رہتے ہیں کہ وہ جنس، ذات، مذہب اور سماجی حیثیت سے پیدا ہونے والی ناہمواریوں کو سمجھ سکیں اور ان کا مقابلہ کر سکیں۔ تنقیدی سوچ کو فروغ دینے کے بجائے، یہ ادارے خاموشی اور تعصب کو برقرار رکھتے ہیں۔شاید سب سے زیادہ تشویشناک رجحان نوجوانوں کے ایک حصے میں آزاد اور خودمختار سوچ کا بتدریج زوال ہے۔ غور و فکر کرنے اور سوال اٹھانے والے افراد کے طور پر ابھرنے کے بجائے، بہت سے نوجوان ایک اجتماعی ہجوم میں بدلتے جا رہے ہیں۔ سیاسی طاقتوں کے تنگ مفادات کیلئے استعمال ہونے والے نوجوان اپنی فکری خودمختاری سے محروم ہورہے ہیں ، ان میں ایک مشترکہ اور جامع مستقبل کا تصور کرنے کی صلاحیت مسلسل کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
آخر میں، اگرچہ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا نے معلومات اور مواقع کے بے مثال دروازے کھولے ہیں، لیکن اس نے غلط معلومات کا سیلاب بھی لایا ہے۔ جب ان پلیٹ فارمز کو تنقیدی شعور کے بغیر استعمال کیا جاتا ہے تو یہ عقل کو کمزور کرتے، سچ کو مسخ کرتے اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔اسلئے نوجوانو ں کے قومی دن کو محض ایک جشن کے طور پر نہیں منانا چاہئے، بلکہ اس کا استعمال بیداری کے طور پر کرنا چاہئےجو نوجوانوں کو تنقیدی سوچ اپنانے، آئینی اقدار کی پاسداری کرنے، اور ایک منصفانہ، عقلی اور جامع معاشرے کی شعوری طور پر تشکیل کی ترغیب دے۔
ڈاکٹر عبداشعبان
(پروفیسر، ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیز، ممبئی)
ہمارےنوجوان وہی اوصاف اپناتے ہیں جو ہم کرتے ہیں


نوجوانوں کاقومی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ تاہم نوجوان تنہائی میں پروان نہیں چڑھتے۔ ان کی قدریں، فیصلے اور جذباتی مضبوطی والدین، اساتذہ اور سماج کی اہم شخصیات کی رہنمائی سے تشکیل پاتی ہیں۔ اگر ہمارے بڑے باشعور، ہمدردانہ اور مستقل رہنمائی فراہم کریں تو ان نوجوانوں کےپُراعتماد ’یوتھ‘ بننے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ وہ ایسے ہمدرد انسان بن سکتےہیں، جو اپنے لئے درست فیصلے کریں اور ملک کیلئے حقیقی اثاثہ ثابت ہوں۔آج کے نوجوان تعلیمی دباؤ، سماجی موازنہ، ڈیجیٹل ہجوم اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال جیسے چیلنجز سے گزر رہے ہیں۔ ایسے میں رہنمائی محض نصیحت تک محدود نہیں رہ سکتی۔ عملی نمونہ پیش کرنا کہیں زیادہ اہم ہے۔ نوجوان اس بات سے کم سیکھتے ہیں کہ ان کے بڑے کیا کہتے ہیں بلکہ وہ اس بات سے زیادہ سیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح کا برتاؤ کرتے ہیں؟ دباؤ میں کیسے ردِعمل دیتے ہیں؟ اختلافات کو کیسے سنبھالتے ہیں؟ اور دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟ہماری اجتماعی منزل یہ نہیں ہونی چاہئے کہ ہم صرف ’کامیاب‘ نوجوان تیار کریں بلکہ ایسے شہری تیاری کریں جو جذباتی طور پر متوازن، سماجی طور پر ذمہ دار اور اخلاقی اقدار پر مضبوط ہوں۔
ہمدردانہ قیادت اور سرپرستی کے چھ اہم اصول:
۱)کچھ کہنے سے پہلے سنیں:
 ہمیں چاہئے کہ ہم جذباتی طور پر اپنے نوجوانون کیلئے ایسے محفوظ ماحول پیدا کریں جہاں وہ بلا خوف اپنی بات رکھ سکیں۔انہیں اس بات کا احساس ہو کہ ان کی بات سنی جاتی ہے۔ یہ رویہ ان میں اعتماد اور حوصلہ پیدا کرتا ہے۔
۲) غلطیوں کو سیکھنے کا موقع سمجھیں:
غلطیاں دراصل نشوونما کا ایک حصہ ہیں، اسے سیکھنے کا ایک موقع سمجھیں۔ کسی غلطی پر ٹوکنے، بھلا برا کہنے اور سخت تنقید کے بجائے ان کی رہنمائی کریں ۔ یہ رویہ ان کے اعتماد اور ان میں جواب دہی کو مضبوط کرتی ہے۔
۳) جذبات کو سمجھنے اور پہچاننےکی صلاحیت پیدا کریں:
نوجوانوں میں پائے جانے والے غصہ، بے چینی، مایوسی اور ناکامی جیسے جذبات کو پہچاننے کی اپنے اندر صلاحیت پیدا کریںاور اسے پہچان کر انہیں سنبھالنے میں ان کے ساتھ تعاون کریں۔
۴) واضح حدود کے ساتھ آزادی دیں:
حد سے زیادہ کنٹرول بغاوت کو جنم دیتا ہے، جبکہ مکمل آزادی عدم تحفظ پیدا کرتی ہے۔نرمی کے ساتھ اور مستقل طور پر قائم کی گئی حدیں انسان کو تحفظ اور ایک منظم ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں۔
۵)اپنے عمل سے رہنمائی کریں:
اخلاقی اقدار صرف باتوں سے نہیں سکھائی جاتیںبلکہ جب انہیں روزانہ کے عمل میں دیکھا جائےتو وہ زیادہ گہرا اثر چھوڑتی ہیں اور دیرپا بنتی ہیں، اسلئے ہمیں چاہئے کہ باتوں سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے ان کی رہنمائی کریں۔
۶) صرف کارکردگی پر نہیں، مقصد پر توجہ دیں:
تعلیم اور تربیت کو صرف امتحانی نتائج تک محدود نہ رکھا جا ئے بلکہ کوشش یہ ہو کہ بچوں میں سوچنے، محسوس کرنے اور ذمہ دار بننے کی صلاحیتیں بھی نشوونما پائیںکیونکہ یہی اوصاف انہیں بامعنی اور متوازن زندگی کی طرف لے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر سیدہ رخشیدہ (ماہر نفسیات ، فزیوتھیراپسٹ اور سابق صدر ’بامبے سائیکیاٹرک سوسائٹی‘)
نوجوانوں کو بتائیں کہ یکسوئی کے بغیر بلندی پر پہنچنا ممکن نہیں


اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے بامقصد، بااثر اور ذمہ دار انسان بنیں تو والدین کی حیثیت سے ہمیں ابتدا ہی سے نہایت شعوری اور سنجیدہ اندازمیں ان کی رہنمائی کرنا ہوگی۔ میرا پختہ یقین ہے کہ یہی تربیت نہ صرف انفرادی زندگیاں سنوارتی ہے بلکہ پوری قوم کے مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے۔زندگی کے ابتدائی۲؍ ہزار دن بچے کی ذہنی نشوونما کیلئے فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ ۵؍ برس کی عمر تک دماغ اپنی بالغ ساخت کے تقریباً ۹۰؍ فیصد حصے تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔ ماں باپ کی ایک آغوش، ایک کہانی، ایک ساتھ کھیلا گیا کھیل،یہ سب بچے کے ذہن، جذبات اور تعلقات کی تعمیر کرتے ہیں۔ بچے اسفنج کی طرح اپنے اردگرد کے ماحول کو جذب کرتے ہیں۔آج کی دنیا میں، جہاں فاسٹ فوڈ، اسکرینز اور فوری لذت ہر طرف موجود ہیں، بچوں کو یہ سکھانا ایک چیلنج ضرور ہے، مگر ناگزیر بھی، کہ حقیقی اطمینان محض دولت، شہرت یا سماجی مرتبے میں نہیں بلکہ مقصد، اقدار اور معنی خیز زندگی میں پوشیدہ ہے۔
فطری صلاحیتوں کی پہچان:اپنے بچے کو غور سے دیکھیں، سمجھیں کہ کون سی سرگرمیاں اسے فطری خوشی دیتی ہیں۔ اسے آزادی دیں کہ وہ خود طے کرے کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے۔ اپنی ادھوری خواہشیں اس پر مسلط نہ کریں۔ تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ والدین کا طرزِ زندگی اس بات پر گہرا اثر ڈالتا ہے کہ بچے اندرونی مسرت کے متلاشی بنتے ہیں یا محض بیرونی کامیابی کے۔ جب بچہ اپنے اصل شوق یا مقصد کو پہچان لے تو اس کی حفاظت کریں۔ اسے یہ سوال بار بار پوچھنا سکھائیں:’’کیا یہ واقعی میرے لئے سب سے زیادہ اہم ہے؟‘‘
خواب سے حقیقت تک:نوجوانی خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کا وقت ہوتی ہے۔ بچوں کی رہنمائی کریں کہ وہ خیالات کو عملی شکل دیں۔کوئی ماڈل، کوئی ایجاد، کوئی ایسا منصوبہ جو دوسروں کی زندگی بہتر بنا سکے۔ ایک طاقتور خیال، اگر جرأت اور مستقل مزاجی سے اپنایا جائے، تو معاشروں اور قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔جرمنی کی مثال ہمارے سامنے ہے، جسے ’خیالات کی سرزمین‘ کہا جاتا ہے۔ گوئٹے، کانٹ، آئن اسٹائن اور باخ جیسے اذہان اسی ماحول کی پیداوار تھے۔ایک ایسا معاشرہ جو فکر کو عمل میں بدلنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، قیادت، صحت اور انصاف جیسے شعبوں میں تخلیقی اور ہمہ گیر سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دی جانی چاہئے۔
یکسوئی ہی کامیابی کی کنجی ہے:یکسوئی کے بغیر بلندی پر پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ ایک روسی کہاوت ہے کہ ’’جو شخص دو خرگوشوں کے پیچھے بھاگتا ہے، وہ ایک بھی نہیں پکڑ پاتا۔‘‘آج کے نوجوان بیک وقت بہت کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں، یہ مناسب نہیں ہے۔
ڈیجیٹل خلفشار کا چیلنج:ڈیجیٹل دنیا کے نقصانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسکرین پر گزرنے والے گھنٹے تنہائی کو بڑھاتے ہیں اور حقیقی گفتگو کی جگہ مصنوعی روابط لے لیتے ہیں۔ شیری ٹرکل اس کیفیت کو’اکٹھے ہو کر بھی تنہا‘ قرار دیتی ہیں۔بچے اوسطاً روزانہ ۳؍ گھنٹے سے زیادہ وقت آن لائن گزارتے ہیں، جس کا اثر ان کی ذہنی صحت اور تخلیقی صلاحیتوں پر پڑتا ہے۔ والدین کو توازن سکھانا ہوگا تاکہ ٹیکنالوجی خادم رہے، حاکم نہ بنے۔
بچوں کو’دوسروں‘ کو جاننے، مختلف عقائد کو سمجھنے اور دل سے قبول کرنے کے مواقع دیں۔ یہ اقدار کسی الگورتھم سے نہیں، صرف انسانی دل سے منتقل ہوتی ہیں۔صرف اسی صورت میں ہم ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جہاں کسی کی محرومی یا مواقع کے زیاں پر خوشی نہ منائی جائے۔
مبشر مشتاق ( فری لانس صحافی اور وکیل، مالیگاؤں)
نوجوان اور امن ایک ناگزیر ذمہ داری 

موجودہ دنیا کو آج ترقی سے زیادہ امن کی ضرورت ہے۔ ترقی اس وقت بامعنی ہوتی ہے جب اس کے سائے میں امن موجود ہو، ورنہ وہ محض اعداد و شمار کا کھیل بن کر رہ جاتی ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، معاشرتی انتشار اور فکری تصادم نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا ہے کہ امن اب ایک انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ ایسے میں نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔
نوجوان اگر امن کے قیام میں فعال حصہ لیں تو وہ معاشروں کو استحکام کی طرف لے جا سکتے ہیں، لیکن اگر وہ اس عمل سے لاتعلق رہیں تو وہی لاتعلقی ایک بڑے خطرے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ بجا طور پر کہا گیا ہے کہ جو مسئلے کے حل کا حصہ نہ ہو، وہ خود مسئلہ بن جاتا ہے۔ یہی آج کی دنیا کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
امن صرف قوموں اور ملکوں کے درمیان جنگ کے نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ افراد کے درمیان اعتماد، خاندانوں میں ہم آہنگی، معاشرے میں برداشت، اداروں میں احترام اور مختلف مذہبی و سماجی گروہوں کے درمیان رواداری کا دوسرا نام ہے۔ سکون، نرمی، درگزر، سمجھوتہ اور باہمی احترام وہ اقدار ہیں جو فرد کو ایک بڑے اجتماعی امن سے جوڑتی ہیں۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ اشتعال، نفرت، تعصب اور تشدد کا ’شور‘ نئی نسل کی فطرت نہیں۔ یہ وہ منفی رویے ہیں جو ہم نے اپنی گفتگو، اپنے اختلافات اور اپنے طرزِ عمل کے ذریعے انھیں ورثے میں دیئے ہیں۔ اگر اس ورثے کی اصلاح نہ کی گئی تو بعید نہیں کہ یہی ’شور‘ کل ہماری سماعتوں کو اور زیادہ اذیت دے۔
جس طرح جسمانی صحت کا انحصار متوازن غذا پر ہے، اسی طرح نوجوانوں کی ذہنی صحت اور کردار سازی اس فکری غذا سے وابستہ ہے جو انھیں روزانہ ہمارے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے۔اس میں سب سے پہلا اور مؤثر کردار گھر کا ہے۔ گھر اگر بڑوں کے درمیان شکایت، غیبت اور نفرت کا مرکز بن جائے تو وہاں سے امن پسند اور متوازن شخصیت کا مالک نوجوان کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ گھر وہ تربیتی ادارہ ہے جہاں عمل، نصیحت سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
اس کے بعد اسکول کی ذمے داری آتی ہے۔ اسکول محض نصاب پڑھانے کی جگہ نہیں بلکہ سماجی تربیت کا مرکز ہے۔ اساتذہ کا رویہ، ادارے کا ماحول اور والدین سے تعلق، سب مل کر طلبہ کی شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔ جہاں بڑوں کے درمیان عدم برداشت اور بے احترامی ہو، وہاں کے بچوں میں رواداری جنم نہیں لے سکتی۔
اسی طرح مسجد اور منبر کو بھی نوجوانوں سے مکالمے کی ایسی زبان اختیار کرنی ہوگی جو قریب لائے، دور نہ کرے۔ تنقید اور تحقیر کے بجائے حکمت اور خیر خواہی ہی دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔
آخر میں تنظیموں اور سماجی اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ امن، برداشت اور بھائی چارے کو محض نعروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ سنجیدہ اور بامقصد سرگرمیوں کے ذریعے نئی نسل کی فکری رہنمائی کریں۔ ایسی سرگرمیوں میں خود نوجوانوں کو شامل کریں۔ ان پر اعتماد کریں اور ذمے داری دیں۔ یہی راستہ ایک پُرامن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔
ضیاء الرحمان مظہر الحق انصاری
(پرنسپل، رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، بھیونڈی)
نوجوانوں کو تنقیدی سوچ سکھائیں، سوال کرنے کی آزادی دیں اور مثبت مکالمے کو فروغ دیں


نوجوان محض قوم کا مستقبل ہی نہیں بلکہ اس کا حال بھی ہیں۔ آج جب ملک کی ایک بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے تو ان کی فکری، اخلاقی اور سماجی تربیت بڑوں کی سب سے بڑی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اگر نوجوانوں کو صحیح سمت نہ دی جائے تو یہی طاقت کمزوری میں بدل سکتی ہے، اور اگر درست رہنمائی ملے تو یہی نوجوان قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
نوجوانوں کی تربیت میں سب سے پہلا قدم کردار سازی کا ہونا چاہئے۔ اخلاق کے بغیر علم، چراغ کے بغیر روشنی کے مانند ہے۔ بڑوں کو چاہئے کہ وہ دیانت، سچائی، محنت اور برداشت کو وعظ کے بجائے اپنے عمل کے آئینے میں دکھائیں کیونکہ نصیحتیں کانوں سے گزر جاتی ہیں، مگر کردار کے نقش دل پر ثبت ہو جاتے ہیں، اور نوجوان انہی نقشوں پر چل کر اپنی راہیں بناتے ہیں۔اسی طرح نوجوانوں میں ذمہ داری اور خدمتِ خلق کا شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔جب نوجوان اپنے مفاد سے بلند ہو کر سماج کا بوجھ اپنے کندھوں پر لیتا ہے تو خودی مضبوط ہوتی ہے اور قوم سربلند۔ خدمتِ خلق وہ چراغ ہے جو جلتا ہے تو پورا معاشرہ منور ہو جاتا ہے۔
اگلا اہم پہلو نوجوانوں کی فکری رہنمائی ہے۔ آج کا نوجوان انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے معلومات کے سیلاب میں گھرا ہوا ہے، جہاں صحیح اور غلط میں فرق کرنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو تنقیدی سوچ سکھائیں، سوال کرنے کی آزادی دیں اور مثبت مکالمے کو فروغ دیں، تاکہ وہ جذبات کے بجائے عقل اور شعور کی بنیاد پر صحیح اور غلط کا فیصلہ کر سکیں۔
ہر نوجوان کے اندر کوئی نہ کوئی جوہر ہوتا ہے، کسی میں لفظوں کی تپش ہے، کسی میں قدموں کی رفتار اور کسی میں خدمت کی خاموش عظمت۔ اگر ہمارے بڑے ان جوہروں کو پہچان کر تراشیں تو یہی عام نوجوان غیر معمولی بن جاتے ہیں۔ سرپرستی نہ ملے تو ہیرے بھی پتھر رہ جاتے ہیں، اور توجہ ملے تو مٹی بھی سونا بن جاتی ہے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیشنل یوتھ ڈے محض ایک دن نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ نوجوانوں کی تربیت میں لاپرواہی دراصل قوم کے مستقبل سے غفلت ہے۔
مخلص مومن (سول انجینئر اور رکن، بزمِ ریختہ فاؤنڈیشن، بھیونڈی)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK