• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قاری نامہ: ’’بی ایم سی اوربلدیاتی انتخابات میں عوامی بیزاری: اسباب اور حل‘‘

Updated: January 04, 2026, 6:18 PM IST | Inquilab Desk | Mumbai

ممبئی اور مہاراشٹر کے کئی شہروں میں بلدیاتی انتخابات کیلئے بگل بج چکا ہے۔ سیاسی جماعتوں نےکمر کس لی ہے۔ اپنے اپنے امیدوار میدان میں اُتار کر اب عوام سے حمایت کی امید چاہتے ہیں لیکن ووٹرس بالخصوص سیکولر ووٹرس میں سیاسی جماعتوں کے تئیں کافی ناراضگی پائی جارہی ہے۔ سیکولر عوام کی شدید خواہش تھی کہ فرقہ پرست طاقتوں سے مقابلے کیلئے تمام سیکولر جماعتیں متحد کر میدان میں اُتریں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اسی حوالے سے ہم نے اپنے قارئین سے جاننے کی کوشش کی کہ اس تعلق سے وہ کیا سوچتے ہیں ؟

As always, this time too, the main responsibility lies not with the political parties and their candidates, but with the people. Photo: INN
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اہم ذمہ داری سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں پر نہیں بلکہ عوام کے کندھوں پر ہے۔ تصویر: آئی این این

اب الیکشن جیتنے کیلئے سماجی خدمتگار ہونا اور فلاح و بہبود کیلئےکام کرنا ضروری نہیں رہ گیا ہے


ملک کی سیاست کے اثرات مقامی سطح پر بھی دکھائی دینے لگے ہیں ۔ سیاست میں اخلاقیات، اصول پسندی، سماجی مسائل کے تئیں لیڈران کی تگ و دو اب ماضی کی باتیں ہو کر رہ گئی ہے۔ سیاسی جوڑ توڑ، ذاتی مفاد، کاروباری ذہنیت اور خاندانی سیاسی وراثت کو سنبھالنے اور آگے بڑھانے کا رحجان دلی سے لے کر گلی تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر کی لاڈلی بہن یوجنا اور بہار میں الیکشن سے قبل بانٹے گئے روپے نے اس رحجان کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب الیکشن جیتنے کیلئے سماجی خدمتگار کا ہونا، لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے کوششیں کرنا اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا رول ادا کرنا نہیں ہے بلکہ آپ کا سیاست میں رشتےدار کون ہے ؟ آپ کے پاس الیکشن میں خرچ کرنے کیلئے روپے کتنے ہیں ؟ اور آپ کے وارڈ میں آپ کے خاندان، برادری، علاقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے کتنے ووٹ ہیں ؟ اس رحجان کے سبب وہ تمام سماجی کارکن جو مندرجہ بالا خصوصیات کے حامل نہیں ہوتے ہیں وہ یا تو خود بخود کنارہ کش ہو جاتے ہیں یا انہیں کنارے لگا دیا جاتا ہے۔ 
 حالیہ میونسپل انتخابات سیاسی، سماجی اور خاندانی صورتحال پل پل کیسے بدلتی ہے اس کا بہترین نمونہ پیش کر رہی ہے۔ عوام انگشت بدنداں ہے کہ راتوں رات سیاسی وفاداریاں کیسے بدلتی ہے؟ کیسے دوستی دشمنی میں بدلتی ہے اور کیسے زمانے کے دشمن جگری دوست بن جاتے ہیں۔ اگر یہ سب دیکھنا ہو تو میونسپل انتخابات کا مشاہدہ کرنا چاہئے۔ ہر وارڈ میں سیاسی مفاد پرستی کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹتے نظر آ رہے ہیں۔ کل تک جو کانگریس میں شامل تھے آج وہ سماجوادی میں شامل ہیں، جو شیوسینا میں تھے وہ بی جے پی میں اور جو بی جے پی یا این سی پی میں تھے وہ کانگریس اور سماجوادی کے نور نظر بنے ہوئے ہیں ۔ ایسے میں عوام مخمصے کا شکار ہیں کہ کون کس پارٹی میں ہے اور وہ کس کا ساتھ دیں ؟امیدوار کو دیکھیں یا پارٹی کو اور پھر اس بات کی بھی کیا گارنٹی کہ جیتنے کے بعد وہ اسی پارٹی میں رہیں گے جس سے الیکشن لڑ رہے ہیں ؟ یہی وجہ ہے کہ رفتہ رفتہ عوام انتخابات سے بیزار نظر آ نے لگے ہیں ۔ افسوس کی بات ہے کہ امیدواروں کی بھیڑ میں عوامی مسائل کا تذکرہ ہی نہیں ہے۔ ہر کوئی صرف اسلئے الیکشن لڑ رہا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور وہ اس کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔ سابق پارٹی کے ذمہ داران نے اس کا ٹکٹ کاٹ کر یا دوسری پارٹی سے آئے ہوئے امیدواروں کو ٹکٹ دے کر اس کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اب اس کا حل عوام ہی کے پاس ہے اورعوام یقیناً انصاف کریں گے۔ 
ڈاکٹر شکیل اختر انصاری(سماجی کارکن، بھیونڈی)
اتحاد نام کا، حقیقت مفاد کی، سیکولر سیاست کا المیہ 


سیاست میں نظریات کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن جب معاملہ بقا کا ہو تو حکمتِ عملی اور اتحاد ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ موجودہ سیاسی منظر نامے میں سیکولر ووٹر جس بے چینی اور اضطراب کا شکار ہیں، اس کی بنیادی وجہ وہ خلیج ہے جو سیکولر سیاسی جماعتوں کے دعوؤں اور ان کے عملی رویوں کے درمیان حائل ہو چکی ہے۔ عوام نے یہ تصور کیا تھا کہ اگر ملک کی سالمیت اور جمہوری اقدار کو فرقہ پرستی سے خطرہ لاحق ہے، تو تمام سیکولر قوتیں اپنی انا کی قربانی دے کر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گی لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ اتحاد محض کاغذی ثابت ہوا، جس کی جڑیں سیاسی مفادات اور ذاتی انا میں پیوست ہیں۔ 
اس سیاسی ناکامی کے اسباب کا تجزیہ کیا جائے تو سب سے نمایاں پہلو ان جماعتوں کی ’انا پرستی‘ ہے۔ ہر جماعت اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہی اصل قائد ہے اور کسی دوسری قوت کو اپنے برابر تسلیم کرنا ان کی قیادت کیلئے کسرِ شان ہے۔ اتحاد کیلئے ایثار اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں سیٹیں چھوڑنا اور اپنے مضبوط امیدواروں کو پیچھے ہٹانا پڑتا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہماری قیادت میں اتنا بڑا سیاسی قد نظر نہیں آتا۔ مزید برآں، مقامی سطح پر سیاست کو ایک ’کاروبار‘ بنا دیا گیا ہے۔ مقامی لیڈران کو عوامی مسائل سے زیادہ اپنے اثر و رسوخ اور مالی مفادات کی فکر رہتی ہے۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر اتحاد ہوا تو ان کی سیاسی دکان بند ہو جائے گی۔ بدگمانی کا عالم یہ ہے کہ یہ پارٹیاں اسٹیج پر تو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں، لیکن پردے کے پیچھے ایک دوسرے کی جڑیں کاٹنے میں مصروف رہتی ہیں۔ 
اگر واقعی ان جماعتوں کو جمہوریت کی فکر ہے، تو انہیں اب اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔ اتحاد محض نعروں سے نہیں بلکہ سخت نظم و ضبط سے بنتا ہے۔ سب سے پہلے سیٹوں کی تقسیم میں ایمانداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور صرف جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے امیدوار کو ہی میدان میں اتارنا ہوگا۔ عوام اب کرپشن زدہ اور گھسے پٹے چہروں سے تنگ آ چکے ہیں، لہٰذا صاف ستھری شبیہ والے نئے لوگوں کو موقع دینا وقت کی ضرورت ہے۔ محض فرقہ پرستی کا ڈر دکھا کر ووٹ لینے کا زمانہ لد چکا، اب ایک مشترکہ ترقیاتی منشور پیش کرنا ہوگا جو عام آدمی کے مسائل کا حل پیش کرے۔ جب تک قیادت اپنی انا کو عوام کے مستقبل پر ترجیح دیتی رہے گی، شکست ان کا مقدر رہے گی اور اس کی تمام تر ذمہ داری ان سیاسی جماعتوں کی خود غرضی پر عائد ہوگی۔ 
یوسف خان( گرافک ڈیزائنر، مالیگاؤں )
سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنےوالوں کو سزا دینا ضروری ہے


ممبئی سمیت کئی شہروں میں ۷؍ سال بعد کارپوریشن کا الیکشن ہونے جارہا ہے۔ گزشتہ دو سال سے تمام کارپوریشن میں کمشنر راج چل رہا تھا۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جنوری میں الیکشن ہونا طے پایا ہے۔ عوام کو امید تھی کہ ملک کے حالات کے پیش نظرتمام سیکولر پارٹیاں اتحاد کا مظاہرہ کریں گی اور پوری طاقت سے فرقہ پرستوں کا مقابلہ کریں گی لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔ حالات ایسے ہیں کہ سیکولر پارٹیاں بکھری ہوئی ہیں۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ان کے آپسی اختلافات کی وجہ سے فرقہ پرستوں کے جیتنے کے خدشات زیادہ دکھائی دےرہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے تئیں بیزاری کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بعض وارڈوں میں سیکولر پارٹیاں پرانے کارکنان کو چھوڑ کر نئے چہروں کو میدان میں اتار رہی ہیں جس کی وجہ سے مقامی لیڈران راتوں رات مخالف پارٹی سے ٹکٹ لے کر اپنی ہی پارٹیوں کے مخالف کھڑے ہو گئے ہیں۔ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنےوالوں کو سزا دینا ضروری ہے تاکہ امیدوار اور پارٹی دونوں ہی کو سبق ملے۔ یہ سارے مناظر دیکھ کر صورتحال کافی گمبھیر نظر آرہی ہے۔ ایسی صورت میں ہر وارڈ کے باشعور اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے تاکہ آپس کے مشورے سے کسی اچھے اور سیکولر امیدوار ہی کو ووٹ جائے اور ایسے زیادہ سے زیادہ امیدوار کارپوریشن میں پہنچیں جن سے ہم کچھ بہتر توقع رکھ پائیں۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں آنے والے ۵؍ برسوں تک سوائے کف افسوس ملنے کے ہم کچھ نہیں کر سکیں گے۔ 
حاجی شکیل احمد (صدر، نیو فیوچر فاؤنڈیشن، ممبئی)
عوام کو بیداری، نگرانی اور سوال کرنے کا کردار ادا کرنا ہوگا  

 
مہاراشٹر میں کئی میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات کیلئے سیاسی جماعتوں میں زبردست ہنگامہ آرائی ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ عوام میں اسی تناسب سے بیزاری بھی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ خود کو سیکولر جماعت قرار دینے والی پارٹیوں کا آپس میں دست و گریباں ہونا ہے۔ اس بار بیشتر شہروں میں بیشتر سیکولر پارٹیاں الگ الگ چناؤ لڑ رہی ہیں، جس کی وجہ سے سیکولر ووٹوں کا منتشر ہونا یقینی ہے۔ ناراضگی کی دوسری بڑی وجہ شہری مسائل کا برسوں تک حل نہ ہونا ہے۔ خراب راستے، بے ہنگم ٹریفک اور غیر منظم شہری منصوبہ بندی ایسے مسائل ہیں جو روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں .... افسوس اس بات کا ہے کہ یہ موضوع سیاسی جماعتوں کیلئے موضوع ہی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی بدعنوانی، اقرباپروری اور ترقیاتی کاموں میں تاخیر نے بھی عوام کے اعتماد کو مزید مجروح کیا ہے۔ 
عوام کی اس ناراضگی کا حل شفاف اور جوابدہ بلدیاتی نظام میں مضمر ہے۔ میرے خیال سے اس کا حل سیاسی جماعتوں کے پاس نہیں بلکہ عوام کے پاس ہے۔ اس الیکشن میں ووٹرس کو محض ووٹ دینے تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ بیداری، نگرانی اور سوال کرنے کا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اگر سیاسی جماعتیں بلدیاتی اداروں کو واقعی عوامی خدمت کا مرکز بنائیں اور شہریوں کو فیصلہ سازی میں شریک کریں تو عوامی ناراضگی اعتماد میں بدل سکتی ہے، جو کسی بھی مضبوط جمہوریت کیلئے ناگزیر ہے۔ 
محمد قمر رضا مصباحی (سنی جامع مسجد، پتری پل، کلیان)
ان امیدواروں کو سبق سکھانا ہوگا جو عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں 


مہاراشٹر کی کل۲۹؍ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ہو رہے ہیں، جن میں بی ایم سی اور ٹی ایم سی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان انتخابات میں چاہے وہ ٹی ایم سی ہو یا بی ایم سی، پارٹی کے نام نہاد سیکولر عہدیدار فرقہ پرست جماعتوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ غرض یہ کہ مطلوبہ سیاسی پارٹی کے امیدوار کو اگر ٹکٹ نہیں ملا تو پرچۂ نامزدگی کے آخری دن وہ دوسری پارٹی میں شامل ہو گئے اور انہیں ٹکٹ مل بھی گیا۔ اس صورتِ حال سے عوام میں شدید پریشانی اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ رائے دہندگان الجھن میں ہیں کہ کون کس پارٹی کے ٹکٹ پر کھڑا ہے اور کسے ووٹ دیا جائے؟ چونکہ اب زیادہ تر سیاسی پارٹیوں کے امیدوار اپنے نصب العین پر قائم نہیں رہتے اور اقتدار و دولت کی لالچ میں بار بار پارٹیاں بدل لیتے ہیں، اسلئے عوام بھی ان پر بھروسہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ ایسے میں اب رائے دہندگان کو ان سے توقعات وابستہ کرنے کے بجائے خود اپنا ہی شعور بیدار کرنا ہوگا اور انہیں سبق سکھانا ہوگا جو عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔ انتخابات میں ایسے امیدواروں کو ووٹ دیا جانا چاہئے جو قابل ہوں، سنجیدہ ہوں، تعلیم یافتہ ہوں اور اپنی سیاسی پارٹی کے ساتھ ہی عوام کے بھی وفادار ہوں۔ سیاسی جماعتوں سے عوام کی ناراضگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعہ کئے جانےوالے انتخابی وعدے صرف کاغذی ثابت ہوتے ہیں۔ امیدواروں اور سیاسی جماعتوں میں جوابدہی کا کوئی مؤثر نظام نظر نہیں آتا ہے۔ 
شاہد ہنگائی پوری علیگ( سکون ہائٹس، ممبرا)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK