• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان ڈائری (۴): ’’ بیٹا رمضان میں شکایت کم اور دعا زیادہ کرنی چاہئے‘‘

Updated: February 22, 2026, 11:47 AM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

رمضان المبارک کی آمد صرف ایک مذہبی مہینے کا آغاز نہیں ہوتی بلکہ یہ دلوں کی کیفیت، معمولاتِ زندگی کی تبدیلی اور روحانی بیداری کا پیغام لے کر آتی ہے۔ جب چاند کی خبر آتی ہے تو گویا پورا ماحول بدل جاتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

رمضان المبارک کی آمد صرف ایک مذہبی مہینے کا آغاز نہیں ہوتی بلکہ یہ دلوں کی کیفیت، معمولاتِ زندگی کی تبدیلی اور روحانی بیداری کا پیغام لے کر آتی ہے۔ جب چاند کی خبر آتی ہے تو گویا پورا ماحول بدل جاتا ہے۔ یہی کیفیت اس سال بھی ممبئی کے مصروف اور گنجان علاقے کرلا میں نظر آئی، جہاں روزمرہ کی تیز رفتار زندگی کے باوجود رمضان نے اپنے مخصوص سکون، سنجیدگی اور روشنیوں سے شہر کے اس حصے کو ایک نئی روح عطا کردی۔ہر صاحبِ ایمان کے دل میں یہ احساس جاگ اٹھتا ہے کہ نہ جانے کتنے لوگ پچھلے رمضان کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئےاور ہمیں ایک بار پھر یہ سعادت نصیب ہوئی ہے کہ ہم صحت اور امن کے ساتھ اس بابرکت مہینے کو پا رہے ہیں۔ یہی احساس رمضان کو مزید قیمتی بنا دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲): اللہ نے اگر اسی طرح رزق دینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہی سہی

کرلا جیسے گنجان، مسلم اکثریتی اور ہمہ وقت متحرک علاقے میں بھی سحری کے وقت ایک خاص سکون محسوس ہوتا ہے۔ گلیوں میں ہلکی روشنی، گھروں سے برتنوں کی مدھم آوازیں اور مساجد سے تلاوتِ قرآن کی گونج یہ سب مل کر ایک روحانی منظر پیش کرتے ہیں۔ گھروں میں سحری کے دسترخوان سادہ مگر محبت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ چائے، روٹی، دہی یا دال یہی معمولی چیزیں اس لمحے میں غیر معمولی محسوس ہوتی ہیں۔فجر کے بعد کچھ دیر کے لئے شہر پر خاموشی چھا جاتی ہے، مگر جلد ہی روزمرہ زندگی اپنی رفتار پکڑ لیتی ہے۔ کرلا اسٹیشن کی طرف جاتے ہوئے بہت سے روزہ دار ملازمین اور مزدور نظر آتے ہیں جو اپنے اپنے کاموں کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ روزہ رکھ کر کام کرنا یقیناً آسان نہیں لیکن یہی رمضان کا درس بھی ہے کہ عبادت صرف مسجد تک محدود نہیں بلکہ محنت اور ذمہ داری کی ادائیگی بھی بندگی کا حصہ ہے۔رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی کرلا کی مساجد میں غیرمعمولی رونق دیکھنے کو ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تم کمالِ نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک وہ چیزیں خرچ نہ کرو جو تمہیں عزیز ہوں

کرلا پائپ روڈ مسجد میں تراویح کی دو جماعتیں ہوتی ہیں۔ پہلی عشاء کے فوراً بعد اور پھر دوسری رات ۱۱؍ بجے۔ دونوں ہی جماعتوں میں مصلیان کی کثرت یہ واضح کرتی ہے کہ اس مہینے کی برکت سے سبھی فیضیاب ہونا چاہتے ہیں۔ بزرگ سنجیدگی سے عبادت میں مصروف ہوتے ہیں، بچے اپنے بڑوں کے ساتھ پہلی بار مکمل تراویح پڑھنے کی کوشش کرتے ہیںاور نوجوان بھی بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔اگرچہ کبھی کبھار نوجوانوں کی بے صبری یا موبائل فون میں مصروفیت جیسے مناظر بھی نظر آ جاتے ہیں مگر مجموعی طور پر رمضان انہیں بھی مسجد کی طرف کھینچ لاتا ہے اور یہی سب سے اہم بات ہے۔

رمضان میں کرلا کے بازاروں کی رونقیں بھی دیکھنے کے لائق ہوتی ہیں۔ افطار سے چند گھنٹے پہلے بازاروں میں رَش بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ پھلوں کے ڈھیر، کھجوروں کی مختلف اقسام، سموسے، پکوڑے، فروٹ چاٹ اور شربت کے اسٹال ہر طرف ایک خوشگوار ہلچل محسوس ہوتی ہے۔ چھوٹے تاجروں کے لئے یہ مہینہ آمدنی کا بھی اہم موقع ہوتا ہے۔ فٹ پاتھ پر لگے ٹھیلوں پر بیٹھے دکاندار پورے دن کی تھکن کے باوجود افطار تک محنت کرتے نظر آتے ہیں۔ انہی میں ایک نوجوان شربت فروش نے مسکراتے ہوئے کہا ’’روزہ رکھنا مشکل ہے، مگر یہی مہینہ ہمت بھی دیتا ہے اور باقی اللہ برکت ڈال دیتا ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ماہِ رمضان المبارک: گناہوں کو بخشوانے کا زرین موقع ہے

ممبئی کے دیگر علاقوں کی طرح اس مرتبہ کرلا میں بھی پولیس کی سختی کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے ٹھیلے والوں اور دکانداروں کی آزمائش ہے۔ پھل فروش ارجن کے بقول: ’’سال بھر رمضان کا انتظار رہتا ہے، اس مہینے میں ۲؍ پیسے زیادہ کمالیتے ہیں لیکن اس مرتبہ پولیس اور بی ایم سی چین ہی نہیں لینے دے رہے ہیں۔‘‘ بازاروں کی رونق کے ساتھ کچھ مشکلات بھی سامنے آتی ہیں۔ فٹ پاتھ کے تاجروں کو اکثر انتظامیہ کی سختی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی سامان ہٹانے کی ہدایت، کبھی جرمانے کا خوف یہ سب ان کے روزمرہ کا حصہ ہے۔ اس صورتحال میں بھی اکثر لوگ صبر و قناعت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ایک بزرگ پھل فروش نے کہا کہ ’’بیٹا رمضان میں شکوہ کم اور دعا زیادہ کرنی چاہئے۔‘‘ ان کی بات میں سادگی اور یقین تھا جو شاید کتابوں میں نہیں، زندگی کے تجربے سے ملتا ہے۔

افطار کا وقت قریب آتے ہی گھروں میں ایک خاص بے چینی اور خوشی ساتھ ساتھ محسوس ہوتی ہے۔ دسترخوان سادہ ہو یا پُرتکلف، مختصر ہو یا وسیع، اصل اہمیت سب کے ایک ساتھ مل بیٹھنے کی ہوتی ہے۔ تبھی اذان کی آواز سے پہلے دعا کیلئے ہاتھ اٹھتے ہیں اور اذان کی آواز پر پانی کا پہلا گھونٹ حلق سے اترتے ہی دل میں شکر کا احساس جگاتا ہے کہ اے اللہ تیرا شکر ہے کہ تو نے کھلایا، پلایا!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK