• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اگر ماہِ رمضان کی روح کو سمجھ لیں تو یہ ایک نئے عہد کا آغاز بن سکتا ہے

Updated: February 22, 2026, 11:57 AM IST | Saba Firdaous Bint E Nazir Chaos | Mumbai

ماہِ رمضان شروع ہوچکا ہے۔ فضا میں ایک روح پرور سرگوشی سی گونجنے لگی ہے، دلوں کے دریچوں پر نور کی دستک سنائی دے رہی ہے، اور اہلِ ایمان کی نگاہیں افقِ اُمید پر مرکوز ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ماہِ رمضان شروع ہوچکا ہے۔ فضا میں ایک روح پرور سرگوشی سی گونجنے لگی ہے، دلوں کے دریچوں پر نور کی دستک سنائی دے رہی ہے، اور اہلِ ایمان کی نگاہیں افقِ اُمید پر مرکوز ہیں۔ ربِ کریم کے بے پایاں فضل و کرم سے ہمیں ایک بار پھر اس بابرکت مہینے کا استقبال نصیب ہوا ہے، وہ مہینہ جو عارضی اور ناپائیدار زندگی کے اس مختصر سفر میں ہمارے لیے اصلاحِ باطن، تجدیدِ ایمان اور حصولِ مغفرت کا سنہرا موقع لے کر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۴): ’’ بیٹا رمضان میں شکایت کم اور دعا زیادہ کرنی چاہئے‘‘

رمضان المبارک اسلامی سال کا ایک عظیم اور جلیل القدر مہینہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اسے شہر عظیم اور شہر مبارک کہا ہے۔ یعنی بڑی عظمت والا مہینہ اور بڑی برکت والا مہینہ! نہ ہم اس ماہ کی عظمت کی بلندیوں کا تصور کر سکتے ہیں، نہ ہماری زبان اس کی ساری برکتیں بیان کر سکتی ہے۔ رمضان المبارک، ایام معدودات (گنتی کے دن) نیکیوں کا موسمِ بہار ہے۔ جس طرح بہار کی آمد سے سوکھی شاخوں پر نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں، ویسے ہی رمضان کی ساعتیں مردہ دلوں کو حیاتِ نو عطا کرتی ہیں۔ اس مہینے میں عبادت کا ذوق بڑھ جاتا ہے، سجدوں کی لذت دوچند ہو جاتی ہے، اور آنکھوں سے بہنے والے آنسو توبہ کے موتی بن کر انسان کے مقدر کو روشن کرنے لگتے ہیں۔ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی اُن بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے جو اس نے اُمتِ مسلمہ پر خصوصی فضل کے طور پر عطا فرمائی۔ یہ مہینہ محض عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ تاریخِ اسلام کی درخشاں ساعتوں، آسمانی ہدایت اور روحانی انقلاب کا عنوان ہے۔ اسی ماہ میں قرآنِ مجید نازل ہوا جیسا کہ ارشاد ہے:

’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) فرق و امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں۔‘‘ (سورہ البقرہ:۱۸۵)

یہ بھی پڑھئے: آج آپ وہ آیت بھی سنیں گے جس میں کہا گیا: میں نے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا

یہ وہ کتاب جو ہدایت بھی ہے، فرقان بھی، رحمت بھی ہے، نور بھی اور دلوں کے امراض کے لئے شفا بھی۔جب یہ کتاب نازل ہوئی تو اس نے جہالت کی تاریکیوں کو چاک کر دیا، انسان کو اس کی اصل پہچان عطا کی اور حق و باطل کے درمیان واضح خط امتیاز کھینچ دیا۔ یہی وہ ماہ ہےجس میں بدر کا وہ تاریخی دن یومُ الفرقان نصیب ہوا، جب قلیل اہلِ ایمان نے کثیر باطل قوتوں پر غلبہ پایا۔ وہ دن اس بات کا اعلان تھا کہ کامیابی عددی اکثریت سے نہیں، بلکہ ایمان، یقین اور اخلاص سے حاصل ہوتی ہے۔ جنہیں ہلاک ہونا تھا وہ دلیلِ روشن کے ساتھ ہلاک ہوئے، اور جنہیں زندہ رہنا تھا وہ دلیلِ روشن کے ساتھ زندہ رہے۔اسی ماہِ مبارک میں یومُ الفتح بھی طلوع ہوا۔ فتحِ مکہ کا وہ درخشاں باب، جس میں بغیر خونریزی کے اس شہر کی کنجیاں اہلِ ایمان کے سپرد کر دی گئیں جو امّ القریٰ ہے، مرکز انسانیت ہے، بیت اللہ کا امین ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بندگی و وفاداری کی لازوال روایتوں کا امین ہے۔ یہ وہی شہر تھا جہاں سے اللہ کے محبوب اور آخری پیغمبر ؐ کی دعوت اٹھی اور جہاں سے توحید کا پیغام پوری دُنیا میں پھیلا۔

یوں رمضان صرف روحانی ریاضت کا مہینہ نہیں، بلکہ عزم، استقلال اور نصرتِ الٰہی کی تاریخ بھی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اُمت کی سربلندی کا راز محض جذبات میں نہیں، جدوجہد میں پوشیدہ ہے، ایسی جدوجہد جو سب سے پہلے دلوں کو فتح کرے، پھر تہذیب و فکر کے میدان میں غلبہ حاصل کرے، اور اس کے ساتھ ساتھ نفس کی اصلاح کا محاذ بھی گرم رکھے۔جہاد کا سب سے پہلا مرحلہ اپنے نفس کے خلاف جدوجہد ہے۔ خواہشات کو قابو میں لانا، اَنا کو مغلوب کرنا، اور اپنے باطن کو تقویٰ سے آراستہ کرنا، یہی وہ بنیاد ہے جس پر اجتماعی عظمت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ رمضان ہمیں انفرادی تقویٰ بھی عطا کرتا ہے اور اجتماعی تقویٰ کا شعور بھی۔ خلوتوں میں نالۂ نیم شبی، آہِ سحرگاہی اور اشکوں سے وضو اور جلوتوں میں صداقت، دیانت، امانت، عدالت، شجاعت، اخوت اور حقوقِ انسانی کا احترام یہی وہ جامع طرزِ زندگی ہے جس کی تربیت رمضان کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۳): ’’پڑھائی کرنا بھی ایک عبادت ہے‘‘

اگر خلوتیں عبادت سے روشن ہوں مگر جلوتیں ظلم و ناانصافی سے آلودہ ہوں تو یہ رمضان کی روح سے ناآشنائی ہے۔ اسی طرح اگر زبان پر تلاوت ہو مگر کردار میں قرآن نہ ہو تو یہ روحِ رمضان سے دوری ہے۔ رمضان دراصل علم و عمل کا سنگم ہے۔ یہ ہمیں صرف پڑھنے کا نہیں، بلکہ جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ قرآن کو صرف زبان اور ہونٹوں تک محدود نہ رکھو، بلکہ اپنی معیشت، سیاست، معاشرت اور اخلاق کا محور بنا لو۔رمضان علم و عمل کا وہ بابرکت راستہ ہے جس کے ذریعے فرد بھی سنور سکتا ہے اور قوم بھی۔ یہ مہینہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی خلوتوں کو بھی سنواریں اور جلوتوں کو بھی، اپنے دلوں کو بھی پاک کریں اور اپنے معاشرے کو بھی۔ 

اگر ہم نے اس مہینے کی روح کو سمجھ لیا تو یہی رمضان ہمارے لئے ایک نئے عہد کا آغاز بن سکتا ہے۔اگر اس ماہ مبارک کو اصول دین کے مطابق کامل شعور، جذبۂ اخلاص اور حبیب خدا کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنے کی کوشش کی جائے تو یقیناً آدمی کی زندگی میں یہ ایک مہینہ انقلاب لانے کیلئے کافی ہے۔ رمضان المبارک کے حسنات و برکات کا انسانی زندگی پر جو اثر مرتب ہوتا ہے، وہ من جانب اللہ ہے، کیونکہ پورے مہینہ کی عبادت کا نام ہی رمضان ہے۔ اس ماہ کی ہر گھڑی میں فیض و برکت کا اتنا عظیم الشان خزانہ پوشیدہ ہے کہ نفل اعمال صالحہ، فرض اعمال صالحہ کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں اور فرائض ستر گنا زیادہ وزنی اور بلند ہو جاتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK