Updated: February 22, 2026, 1:05 PM IST
| Mumbai
ہرسال۲۷؍ فروری کو ہم ’عالمی غیر سرکاری تنظیم کا دن‘ مناتے ہیں جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر غیر سرکاری تنظیموں کی حوصلہ افزائی کرنا، انھیں خراج تحسین پیش کرنا اور ان کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے لیکن اس تعلق سے ہمارے یہاں کیا صورتحال ہے؟ یہاں چھوٹی موٹی تنظیموں کی تو بھرمار ہے لیکن کیا ہم انہیں ’غیر سرکاری تنظیم یعنی این جی او‘ کہہ سکتے ہیں؟ کیا ہماری تنظیموں، ہمارے اداروں، ہماری کمیٹیوں اور ہماری سوسائٹیوںکے پاس وہ ضروری کاغذات ہوتے ہیں جن کی ضرورت ایک ’این جی او‘ کیلئے ہوتی ہے؟
ہمیں چاہئے کہ ہم ادارے کم بنائیں لیکن جوبنائیں ، وہ ٹھوس اور کارآمد بنائیں۔ تصویر: آئی این این
تنظیموں اور اداروں کو اپنا دائرہ بڑھانا چاہئے

آج کل معاشرے میںاین جی اوز کو مذہب کے ساتھ اس حد تک جوڑ دیا جاتا ہے کہ آہستہ آہستہ ان کا اصل مقصد پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ صرف کسی خاص مذہب تک محدود نہیں بلکہ ہر مذہب میں دیکھا جاتا ہے۔ کئی بار جو رقم اور وسائل غریبوں، یتیموں، بیواؤں، طلبہ اور ضرورت مند افراد کیلئے جمع کئے جاتے ہیں، وہ عملی طور پر مذہبی اجتماعات، تہواروں اور دیگر غیر ضروری تقریبات پر صرف ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو افراد حقیقت میں اس امداد کے مستحق ہوتے ہیں، انہیں ان کا حق نہیں مل پاتا۔حالانکہ این جی اوز کی رجسٹریشن کے وقت قوانین اور ضوابط میں واضح طور پر بتایا جاتا ہے کہ وسائل کا استعمال کن مقاصد کیلئے ہونا چاہئے، مگر افسوس کہ ان اصولوں پر عملدرآمد کمزور ہوتا ہے۔ محلوں میں کام کرنے والی کمیٹیاں اگر اپنی توجہ تعلیم، معاشی بہتری اور عوامی فلاح پر مرکوز کر لیں تو معاشرے کے ہر طبقے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
عالمی یومِ فلاحی ادارہ کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم تعلیمی اور شعوری بیداری کے پروگراموں کو ترجیح دیں گے۔ ساتھ ہی ایسے مراکز قائم کئے جائیں جہاں غریب افراد، طلبہ، یتیموں اور بیواؤں کو سرکاری سہولتوں سے فائدہ دلوانے کیلئے کاغذات کی تیاری، درخواست جمع کرانے اور رہنمائی میں مدد فراہم کی جائے۔ مزید یہ کہ این جی اوز کے غیر تربیت یافتہ کارکنان کو باقاعدہ تربیت دی جائے اور انہیں ادارے کے اصول و ضوابط سے مکمل آگاہ کیا جائے تاکہ شفافیت اور جوابدہی برقرار رہے۔ یہی ایک حقیقی این جی او کی پہچان ہے۔ اسی کے ساتھ بطور قوم اور بطور سماج ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ بہت ساری چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں نہ بنا کر ایک بامقصد بڑی تنظیم قائم کریں اور اس کے کاغذات و غیرہ درست کرکے سرکاری اور غیر سرکاری اسکیموں سے بھی فائدہ اٹھائیں۔
ڈاکٹر وفا فاروقی(سماجی کارکن، بھیونڈی)
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: غازی آباد میں جو کچھ ہوا، والدین، سرپرست اور سماج کی ذمہ داریاں؟
قانون کی پابندی ہماری ذمہ داری ہے

۲۷؍ فروری کو این جی اوز ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے جسے اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے۔یہ ایک دن کی یادگار نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے کہ خدمت عبادت ہے، اور عبادت میں خالص نیت، ایمانداری اور قانون کی پابندی ضروری ہے۔ ایسے میں آئیے ہم یہ عزم کریں کہ کسی بھی تنظیم کی بنیاد جذباتی فیصلے پر نہیں بلکہ حقیقی ضرورت پر رکھیں گے۔ ہم گہرا جائزہ لیں گے کہ کیا یہ تنظیم واقعی سماج کے کسی درد کا مرہم بن سکتی ہے؟ وطن عزیز میں این جی او قائم کرتے وقت ہم حکومت کے قوانین کے مطابق صحیح کیٹیگری، ٹرسٹ، سوسائٹی یاکمپنی کا انتخاب کریں گے۔ رجسٹریشن، قانونی دستاویزات، پین، بینک اکاؤنٹ، آڈٹ سسٹم اور تمام ضروری لوازمات مکمل کرنے کے بعد ہی سفر کا آغاز ہوگا۔ قانون کی پابندی ہماری ذمہ داری بھی ہوگی اور ہماری عزت بھی۔ہم یہ وعدہ کریں کہ ہماری تنظیم شفافیت کی روشن مثال ہوگی۔ ہر ٹرانزیکشن واضح، دستاویزی اور اپ ٹو ڈیٹ ہوگی۔ باقاعدہ آڈٹ، مکمل ریکارڈ اور ہر مالی حساب عوام کیلئے واضح ہوگا۔ عطیہ دہندگان کا اعتبار اور مستحق افراد کی دعائیں ہمارا سب سے بڑا انعام ہیں اور یہ صرف سچائی اور جوابدہی سے ملتے ہیں۔اس موقع پرعلامہ اقبال کا یہ پُراثر شعر ہمارے ارادوں کو مضبوط کرتا ہے:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی،
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری پہچان ہمارے اعمال سے ہوتی ہے۔ آئیے، این جی اوز ڈے پر ہم یہ عہد کریں کہ ہماری تنظیم صرف کاغذی دستاویزوں تک محدود نہ ہو بلکہ ایمانداری، قانون پسندی اور بے غرض خدمت کا روشن نمونہ بنے۔ تبھی ہم واقعی سماج میں دائمی اور بامقصد تبدیلی لا سکیں گے۔
محمد کامل(آئی منیجر، بھساول، جلگاؤں)
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: نیشنل یوتھ ڈے، نوجوانوں کی تربیت، بڑے کیا کریں کہ وہ مؤثر ثابت ہو؟
ہمیں اپنی تنظیموں کو رجسٹریشن کرانا چاہئے، قانونی دائرے میں لانا چاہئے اور مالی معاملات میں شفافیت اختیار کرکے عوام کے سامنے پیش کرنا چاہئے

ہرسال ۲۷؍ فروری کو دنیا بھر میں غیر سرکاری تنظیموں کا عالمی دن منایاجاتا ہے۔ اس دن کامقصد ان اداروں کی خدمات کو تسلیم کرنا ہےجو حکومت سے ہٹ کر معاشرے کی بہتری کیلئے کام کرتے ہیں۔غیر سرکاری تنظیمیں یعنی این جی اوز معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ تعلیم، صحت، ماحولیات، انسانی حقوق اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے عوام کی خدمت انجام دیتی ہیں۔لیکن اگر ہم اپنے ارد گرد اور اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو صورتِ حال کچھ مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے یہاں فلاح اور رفاہ کے نام قائم کی گئی چھوٹی بڑی تنظیموں، کمیٹیوں اور سوسائٹیوں کی کمی نہیں ہے لیکن انہیں دیکھ کر ایک سوال ذہن میں ضرور ابھرتا ہے کہ کیا ہماری یہ تنظیمیں واقعی ا س معیار پر پوری اترتی ہیں۔ہرمحلے اور ہر شہر میں کوئی نہ کوئی تنظیم کام کرتی نظر آتی ہے مگر صرف نام رکھ لینا، چندہ جمع کرناا ور وقتی سرگرمیاں انجام دینا کافی نہیں ہوتا۔ اکثر تنظیمیں باضابطہ رجسٹریشن، شفاف مالی حساب کتاب، سالانہ رپورٹ اور واضح دستور جیسے ضروری تقاضوں سے محروم ہوتی ہیںجبکہ ایک مستند این جی او کیلئے باقاعدہ رجسٹریشن، واضح آئین مالی شفافیت اور منظم نظام بہت ضروری ہیں۔ بدقسمتی سے اکثر تنظیمیں ان پہلوؤں پر توجہ نہیں دیتیں جس کی وجہ سے ان کی ساکھ مضبوط نہیں ہوپاتی۔
اس موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم اپنی تنظیموں کو مضبوط بنیادوں پر استوار کریں گے، باقاعدہ قانونی دائرے میں لائیں گے اور قانون کے مطابق رجسٹریشن کرائیں گے، ضروری دستاویزات مکمل کریں گے، حسابات واضح رکھیں گے، اپنے مالی معاملات میں شفافیت اختیار کریں گے اوراپنی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کریں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ خدمت خلق کو ذاتی مفاد سے بالاتر رکھیں گے۔ اگر ہم دیانت، خلوص، خدمت، نظم وضبط اور شفافیت کو اپنالیں تو یقیناً ہماری تنظیمیں نہ صرف نام کی بلکہ حقیقی معنوں این جی او کہلانے کی مستحق بن جائیں گی۔
خان الماس اسرافیل (طالبہ، جی ایم مومن ویمنس کالج، بھیونڈی)
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ:آج ہمارے ملک میں جمہوریت کی کیا اہمیت ہے،ہم اس کے تحفظ کیلئے کیا کریں؟
ہمیں محدود سوچ سے باہر نکلنا چاہئے

ہمارے معاشرے میں چھوٹی چھوٹی تنظیموں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ اس صورتِ حال سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ لوگوں میں سماجی خدمت کا جذبہ موجود ہے، لیکن یہ جذبہ زیادہ تر انفرادی سطح تک محدود ہے۔ اجتماعی سطح پر کوئی بڑا اور منظم کام طویل عرصے سے سامنے نہیں آ سکا ہے۔ اگر ہم اپنے تعلیمی اداروں پر نظر ڈالیں تو انجمن اسلام اور انجمن خیر الاسلام جیسے اداروں کے علاوہ بیشتر تنظیمیں انفرادی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح متعدد چھوٹی تنظیمیں بھی چند افراد کی ذاتی محنت سے قائم تو ہو جاتی ہیں مگر مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے کے فقدان کے باعث دیرپا اثرات مرتب نہیں کر پاتیں۔
ان تنظیموں کو عموماً مالی مشکلات، افرادی قوت کی کمی اور پیشہ ورانہ نظم و نسق کے فقدان کا سامنا رہتا ہے۔ بالخصوص آڈٹ اور شفافیت کے عالمی معیارات پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے یہ ادارے بین الاقوامی این جی اوز کے معیار تک نہیں پہنچ پاتے۔ نتیجتاً وہ بڑے پیمانے پر فنڈنگ اور تعاون حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
شہر ممبئی کے گوونڈی اور دھاراوی جیسے کثیف آبادی والے علاقوں میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں عالمی معیار کی این جی اوز کی اشد ضرورت ہے۔اگرچہ یہاں پر کوٹاک ایجوکیشن فاؤنڈیشن، اپنالیا اور روٹس آف کائنڈنیس فاؤنڈیشن جیسی تنظیمیں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہی ہیں، لیکن ان کوششوں کا دائرہ مزید وسیع ہونا چاہئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ چیریٹی کمشنر کے دفتر میں رجسٹرڈ سیکڑوں سوسائٹیاں برسوں سے عملی طور پر غیر فعال ہیں۔
موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ہم محدود سوچ سے باہر نکلیں اور اپنی تنظیموں کو عالمی اداروں جیسے ورلڈ بینک اور یونیسف سے مربوط کریں تاکہ پیشہ ورانہ مہارت، مالی وسائل اور شفاف نظام کے ذریعے حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کا حق ادا کیا جا سکے۔
ڈاکٹرقمر صدیقی (اسسٹنٹ پروفیسر، ممبئی یونیورسٹی)
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: ’’بی ایم سی اوربلدیاتی انتخابات میں عوامی بیزاری: اسباب اور حل‘‘
بے لوث کام کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا

یہ سوال اپنی جگہ درست ہے لیکن غیر سرکاری تنظیموں کے تعلق سے جنوبی ہند کے بارے میں وہی بات نہیں کی جا سکتی جو شمالی ہند کے تعلق سے کہی جاسکتی ہے۔ اس معاملے میں بھی ہندوستانی مسلم آبادی دو بڑے حصوں میں منقسم نظر آتی ہے۔ ہم یہاں جو بات کریں گے وہ شمالی ہندوستان میں مسلمانوں کی نام نہاد تنظیموں کی کارکردگیوں اور بے ضابطگیوں پر ہی کریں گے۔
پہلی بات یہ ہے کہ ہم نے جوتنظیمیں بنا رکھی ہیں اسے اپنی ذات کے ارد گرد ہی گھماتے ہیں۔ کسی طرح کی شفافیت نہیں ہے، حساب کتاب درست نہیں ہے۔ اپنی میراث سمجھتے ہوئے اپنے بعد اپنے بچوں کو ٹرانسفر کرنے کی فراق میں رہتے ہیں جبکہ یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ یہ تنظیم عوام کے تعاون سے وجود میں آئی ہے۔میں تو ان تنظیموں کی بات یہاں کر رہا ہوں جو رجسٹرڈ ہیں۔جو رجسٹرڈ نہیں ہیں ان کے بارے میں آپ اور ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ وہ کس سطح کے فراڈ ہیں۔ آٹھ دس بچوں کو لے کر کے ایک مدرسہ قائم کر لیتے ہیں جن میں دو چار بچے انہی کے ہوتے ہیں اور رسید لے کر نکل جاتے ہیں چندہ جمع کرنے کے لئے اور ہماری۲۵۔۲۰؍ کروڑ کی آبادی بغیر سوچے سمجھے انہیں اپنا تعاون پیش کر دیتی ہے۔ یہ سلسلہ اب تو صدیوں سے چلا آ رہا ہے مختلف شکلیں بدل کر۔
این جی او کا قیام تو بہت بڑی بات ہوگی۔ اسے بھی ہمیں قائم کرنا چاہئے لیکن جو ٹرسٹ اور انجمنیں پہلے ہی سے رجسٹرڈ ہیں انہیں منظم اور صحیح سمت میں کام کرنے والا بنانے پر زور دینا چاہئے اور اس کیلئے تو ہمارے علماء ہی کو آگے آنا ہوگا۔ پورے ڈھانچے کو ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے اور جب تک بے لوث کام کرنے کا جذبہ پیدا نہیں ہوگا، کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔
اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ساری تنظیمیں فراڈ اور نمائشی ہیں ... بے شک کچھ اچھے لوگ بھی ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ تعداد بڑھے اور یہ سارے ادارے منظم انداز میں کام کرنے کی کوشش کریں۔
ڈاکٹر ظہیر انصاری (مدیر، تحریر نو، نئی ممبئی)