واقفیت حاصل کرنے کی نت نئی سہولتیں آگئی ہیں پھر بھی اکثر لوگ وہ نہیں جانتے جو اُنہیں جاننا چاہئے۔ مثلاً ہندوستان کے بارے میں بیرونی ملکوں کے لوگ نہیں جانتے کہ جمہوریت کس طرح کمزور ہورہی ہے۔
EPAPER
Updated: August 30, 2026, 2:34 PM IST | Aakar Patel | Mumbai
واقفیت حاصل کرنے کی نت نئی سہولتیں آگئی ہیں پھر بھی اکثر لوگ وہ نہیں جانتے جو اُنہیں جاننا چاہئے۔ مثلاً ہندوستان کے بارے میں بیرونی ملکوں کے لوگ نہیں جانتے کہ جمہوریت کس طرح کمزور ہورہی ہے۔
ہفتۂ رفتہ کے دوران ذرائع ابلاغ سے وابستہ ایک غیر ملکی ادارے نے میرا انٹرویو کیا۔ گفتگو ختم ہونے کے بعد انٹرویو لینے والے نے یہ اعتراف کیا کہ ہندوستان کے حالات کے بارے میں اُسے اتنی واقفیت نہیں تھی۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اکثر غیر ملکیوں کا حال یہی ہے۔ ہندوستان کا مطالعہ کرنے والے ماہرین تعلیم اور یہاں موجود غیر ملکی نامہ نگاروں کے علاوہ، بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ ملک کتنا بدل چکا ہے۔ اس مضمون میں مَیں انٹرویو کے سوالات اور میرے جوابات کا خلاصہ پیش کروں تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ انٹرویو لینے والا کتنا کم جانتا تھا۔ اس خلاصے کے مطالعہ کے بعد آپ اس کا موازنہ اپنے اپنے مشاہدات و تجربات بھی کر سکتے ہیں کہ آج ہمارا ملک کہاں ہے۔
وہ سب سے پہلے ہندوتوا کی ابتدا، نظریاتی بنیادیں اور ہندو مذہب اور ہندوتوا کے فرق کو سمجھنا چاہتا تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ لفظ ’ہندوتوا‘ جو ہے وہ ’ہندو‘ اور ’توا‘ ہے اور اس کا مطلب ہندو ہونا ہے۔ یہ لفظ ایک صدی پہلے ساورکر کی کتاب میں استعمال ہوا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ہندوستان اور ہندو کی بنیاد ایک ہی ہے جیسے سندھ اور سندھو اایک ہی ہیں۔ اس نظریہ کے مطابق کوئی شخص صرف ہندو اور توسیعی طور پر ہندوستانی ہوسکتا ہے تاکہ اس کے مقدس مقامات ہندوستان میں ہوں نہ کہ یروشلم یا مکہ یا کسی اور جگہ۔
سوال کے دوسرے حصے کے جواب میں، میں نے کہا کہ ہندو مت ایک مذہب ہے جس کا تعلق عقائد سے ہے، جیسے کہ دیوی دیوتا، عبادات، برت یا اُپواس اور تہوار۔ اس کے برعکس، ہندوتوا کا تعلق دوسروں کے عقائد اور ان پابندیوں سے ہے کہ وہ کیا نہیں کھا سکتے، کہاں عبادت نہیں کر سکتے، کس سے محبت نہیں کر سکتے اور کہاں قیام نہیں کر سکتے۔ انٹرویو کرنے والے کا دوسرا سوال ہندوستانی سیاست میں ہندوتوا کی گھس پیٹھ، خاص طور پر بی جے پی کے عروج میں اس کے کردار اور اس کے بتدریج بااثر ہونے سے متعلق تھا۔ میں نے کہا کہ اگرچہ اس کی بنیاد ۱۹۵۱ء میں رکھی گئی تھی لیکن چار دہائیوں تک قومی سطح پر بی جے پی اور بھارتیہ جن سنگھ کا ووٹ فیصد دو ہندسی (۱۰؍ فیصد سے کم) ہی رہا اور ۱۹۹۰ء تک وہ کسی بھی ریاست میں بغیر اتحاد کے کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ اتنے طویل عرصے تک پارٹی یہ طے نہیں کر پائی کہ کس مسئلے کو بنیاد بنا کر عوام کو متحرک کیا جائے۔ جس واقعے نے اسے مقبول بنایا اور اس کے ووٹ شیئر کو دوگنا کرکے ۱۸؍ فیصد تک پہنچا دیا، وہ ایودھیا میں بابری مسجد کا انہدام تھا۔ اس واردات کے بعد، جس نے بی جے پی کو عروج بخشا، تقریباً ۳؍ ہزارہندوستانی فوت ہوئے۔ دو دیگر مطالبات کشمیر کی آئینی خود مختاری کے خاتمے اور مسلمانوں کے پرسنل لاء کے خاتمے کو بھی بی جے پی نے سیاسی مفادات کے تحت مسلسل گرم رکھا۔
اس کے بعد انٹرویو لینے والے صحافی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہندوتوا نے ہندوستان کے سیاسی اداروں اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک سمیت وسیع سیاسی ماحول کو کس طرح متاثر کیا ہے۔ یہاں ان اعداد کو بتانے کے علاوہ کچھ نہیں تھا جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری حکمراں پارٹی کا طرز عمل کیا ہے، اس کے وزراء، لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین اور اس کے ریاستی قانون سازکون ہیں اور ان کے انتخاب کے ذریعہ کس طرح دیگر طبقات کو باہر رکھنے کی پالیسی اپنائی گئی۔ مَیں نے بتایا کہ ’’بڑے کا گوشت‘‘ رکھنے کو جرم قرار دینے والے قوانین کا آغاز ۲۰۱۵ء میں ہوا، جس کے بعد بڑے کے گوشت پر ہجومی تشدد برپا ہونے لگا۔ اس کے بعد بین مذ ہبی شادی کو جرم قرار دینے والے قوانین ۲۰۱۸ء شروع ہوئے۔ انٹرویو کرنے والا، یہ جان کر حیران ہوا کہ کس طرح ملزم کو ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ مجرم نہیں ہے۔ اس نے پوچھا کہ آپ جس ماحول میں رہتے ہیں وہاں یہ سب کچھ ہورہا ہے تو اس کو جمہوریت کیسے کہہ سکتے ہیں۔ مَیں نے معنی خیز خاموشی اختیار کرلی تاکہ سوال کرنے والا ہی ان باتوں کا تجزیہ کرے اور خود ہی جواب تلاش کرے۔
پھر اُس نے ہندوتوا کی سیاست کو معمول بنا دینے میں وزیر اعظم کے کردار اور اس سیاسی منصوبے کی انتخابی کامیابی کے بارے میں پوچھا۔ میں نے کہا کہ مودی، ہندوتوا کے معاملے میں اپنی پارٹی کے پیش رَو لیڈرو ں کی نسبت زیادہ کھل کر اور دھڑلے سے اظہار خیال کرتے ہیں۔ اسی رویے نے انہیں اپنے حامیوں میں مقبول بنایا اور بی جے پی کی قومی سطح پر حمایت کو ۳۸؍ فیصد تک پہنچا دیا جو اَب بھی برقرار ہے۔ اس ضمن میں مَیں نے بتایا کہ بی جے پی قوانین اور پالیسیوں کے ذریعے مستقل پولرائزکرتی ہے۔ بلڈوزروں کے استعمال اور قانونی تقاضوں سے چشم پوشی کا سن کر تو وہ دنگ رہ گیا۔
پھر اُس نے پوچھا کہ ہندوتوا نے اقلیتوں کو کس طرح متاثر کیا ہے، اور ’اکثریت پسند سیاست‘ (Majoritarian Politics) کا عروج اقلیتوں کے مفادات پر کس طرح اثرانداز ہوا ہے۔ میں نے اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق جواب دیا جس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ملک میں اقلیتوں کی تعداد مغربی یورپ کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ انٹرویور کا ایک سوال سرحدوں سے باہر ہندوتوا کے اثرات سے متعلق تھا جس پر مَیں نے کہا کہ جب اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف اپنے اقدام کا جواز پیش کرنا پڑتا ہے، تو وہ ہمیں اپنے ایک قابلِ اعتماد دوست اور حلیف کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اگلا سوال تھا: کیا بی جے پی لیڈران کو اس نقصان کا احساس نہیں ہے؟ میں نے کہا کہ میرے تجربے کے مطابق وہ خلوصِ نیت سے اپنے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ کسی مقصد کے حصول کا محض ایک ذریعہ نہیں بلکہ بذاتِ خود ایک مقصد ہے، اور اسی وجہ سے اخراج اور جبر و استبداد کا جو سلسلہ جاری ہے، اس کے نتائج کچھ بھی ہوں، وہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ اخیر میں انٹرویور نے مستقبل کے بارے میں پوچھا کہ کہ آیا یہ ملک اکثریتی سیاست سے ہٹ سکتا ہے؟ حزبِ اختلاف اور جمہوری ادارے کیا کردار ادا کر سکتے ہیں اور کیا تکثیری روایت ہندوتوا کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
میں نے کہا کہ ہماری فطری حالت تکثیری (Pluralist) ہے اور مجموعی معاشرہ حکومت کے نظریے کی عکاسی نہیں کرتا۔ تاہم، اوپر سے مسلط کیے جانے کے طویل عرصے کے نتیجے میں یہ نظریہ ہمارے اداروں اور معاشرہ میں سرایت کر چکا ہے اور پارٹی اقتدار سے ہٹ جائے تب بھی باقی رہے گا۔ مستقبل بظاہر تاریک نظر آتا ہے کیونکہ ہمارے پاس اس بارے میں کوئی لائحہ عمل نہیں ہے کہ نصف ارب لوگوں کو غربت سے کیسے نکالا جائے، جہاں وہ بدستور پھنسے ہوئے ہیں، اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اب ہم ہندوتوا کے مسئلے پر وہ گفتگو نہیں کرتے جو فی الفور کی جانی چاہئے۔