Inquilab Logo Happiest Places to Work

مذہبی آزادی کےامریکی کمیشن نے ہندوستان کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا

Updated: August 27, 2026, 6:01 PM IST | Washington

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بی جے پی کی زیرِ قیادت نریندر مودی حکومت پر آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے سے ہم آہنگ پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کا الزام لگایا۔ کمیشن نے کہا کہ ہندوستانی حکام مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف ہجومی تشدد کو مناسب طریقے سے روکنے، اس کی تفتیش کرنے یا خاطیوں سزا دینے میں ناکام رہے ہیں۔ USCIRF نے تبدیلیٔ مذہب کے خلاف قوانین پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ بنیادی طور پر عیسائیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے ہندوستان کو مذہبی آزادی کی سنگین اور مسلسل خلاف ورزیوں پر جواب دہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس RSS) کے ممبران اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں مبینہ طور پر ملوث ہندوستانی حکام کے خلاف پابندیاں (targeted sanctions) عائد کرنے پر غور کرے۔

امریکی کمیشن نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس کے ذیلی گروپس کے ممبران مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور سکھوں سمیت مذہبی اقلیتوں کے خلاف پرتشدد حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ کمیشن کے چیئرمین آصف محمود نے کہا کہ ”ہندوستان میں مذہبی آزادی کی صورتحال مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے کیونکہ مذہبی اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کیلئے تشدد اور اشتعال انگیزی کا بار بار استعمال کیا جاتا ہے۔“ انہوں نے امریکی حکومت پر زور دیا کہ وہ بھاگوت کا ویزا منسوخ کرنے اور مستقبل میں ان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگانے پر غور کرے۔

یہ بھی پڑھئے: آرایس ایس کا کردار سوالوں کی زد پر، جبکہ تنظیم اپنی شبیہہ بہتر بنانے میں مصروف

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بی جے پی کی زیرِ قیادت نریندر مودی حکومت پر آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے سے ہم آہنگ پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کا الزام لگایا جو مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ ہندوستانی حکام مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف ہجومی تشدد کو مناسب طریقے سے روکنے، اس کی تفتیش کرنے یا خاطیوں سزا دینے میں ناکام رہے ہیں۔ USCIRF نے تبدیلیٔ مذہب کے خلاف قوانین پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ بنیادی طور پر عیسائیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ کمیشن نے شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، بالخصوص آسام میں جاری کارروائیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (FCRA) میں مجوزہ تبدیلیاں مذہبی تنظیموں کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔

امریکی کمیشن کی وائس چیئر سیسی ہیل نے کہا کہ امریکہ کے پاس ”ہندوستان کو جواب دہ ٹھہرانے کا ایک موقع ہے۔“ انہوں نے مذہبی اقلیتوں اور عبادت گاہوں پر انتہا پسند گروہوں کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جواب دہی کے بغیر حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: بھاگوت کے دورے سے قبل USCIRF کا آر ایس ایس لیڈروں پر پابندی کا مطالبہ

واضح رہے کہ USCIRF کا یہ بیان، اس وقت سامنے آیا ہے جب آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت امریکہ کے دورے پر ہیں۔ وہ آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں امریکہ، کنیڈا اور برطانیہ کے سہ ملکی آؤٹ ریچ دورے کیلئے منگل کو نیویارک پہنچ گئے ہیں۔ نیویارک میں درجنوں وکالتی گروپس سنیچر کے روز میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ان کے طے شدہ پروگرام کے خلاف متحرک ہو رہے ہیں اور تنظیم پر اکثریتی نظریے کو فروغ دینے کا الزام لگا رہے ہیں۔

اس سے قبل، USCIRF کی ۲۰۲۶ء کی سالانہ رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں ہندوستان کو ”خصوصی تشویش کا حامل ملک“ (Country of Particular Concern) نامزد کرنے کی سفارش کی گئی تھی، جو اس سال نشان زد کیے گئے ۱۸ ممالک میں سے ایک ہے۔ USCIRF نے مئی ۲۰۲۶ء میں ہندوستان میں مذہبی آزادی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر سماعت بھی کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK