Updated: August 27, 2026, 4:04 PM IST
| New York
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی جانب سے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ہونے والی تقریب کی مخالفت کے بعد راشٹریہ سیوک سنگھ نے دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروگرام ’’کھلے مکالمے اور باہمی احترام‘‘ کے جذبے سے منعقد کیا جارہا ہے۔ آر ایس ایس کے ترجمان سنیل امبیکر نے کہا کہ ۲۹؍ اگست کو ہونے والی یونیورسل آنینس سیلیبریشن ہندوستانی تہذیبی روایت کی عکاس اور تمام برادریوں کے لیے کھلی ہے۔
ظہران ممدانی اور موہن بھاگوت۔ تصویر: آئی این این
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی جانب سے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی آئندہ تقریب کی مخالفت کے بعد راشٹریہ سیوک سنگھ (RSS) نے اپنے پروگرام کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ تقریب تمام دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے کھلی ہے۔ آر ایس ایس کے آل انڈیا پرچار پرمکھ سنیل امبیکر نے کہا کہ یونیورسل آنینس سیلیبریشن ۲۹؍ اگست کو میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ’’کھلے مکالمے اور باہمی احترام‘‘ کے جذبے سے منعقد ہوگی۔ ان کے مطابق پروگرام ہندوستانی تہذیبی روایت کی شمولیتی نوعیت کی نمائندگی کرتا ہے۔ امبیکر نے کہا کہ آر ایس ایس ان افراد کو بھی تقریب میں شرکت کی دعوت دیتا ہے جو تنظیم کے نظریے اور اس کے کام کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف برادریوں کے ساتھ مکالمہ اور باہمی سمجھ بوجھ پیدا کرنا آر ایس ایس کی عالمی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حقوقِ نسواں کی کارکن اور PARI کی شریک بانی سونیا گِل کا۷۰؍ برس کی عمر میں انتقال
یہ ردعمل ممدانی کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ بھاگوت کی تقریب کی حمایت نہیں کرتے۔ تاہم میئر نے یہ بھی واضح کیا کہ انہیں یقین نہیں کہ نیویارک شہر کے پاس کسی نجی تقریب کو منسوخ کرنے کا اختیار ہے۔ ممدانی نے اپنی مخالفت کی وضاحت کرتے ہوئے ہندوستان کے بارے میں اپنے خاندانی اور ذاتی تصور کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق ہندوستان ایک کثیر مذہبی اور سیکولر جمہوریہ ہے جہاں ہر شہری کی شمولیت بنیادی اصول ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسے رجحان کا بڑھنا تشویشناک لگتا ہے جو ان کے بقول ’’اخراجی وژن‘‘ پر مبنی ہے۔ تقریب کے خلاف امریکہ میں سرگرم بعض بین المذاہب اور شہری حقوق کی تنظیموں نے بھی آواز اٹھائی ہے۔ ہندوز فار ہیومن رائٹس، انڈین امریکن مسلم کاؤنسل اور انٹرفیتھ سینٹر آف نیویارک سمیت کئی تنظیموں نے نیویارک سٹی ہال کے باہر تقریب کی مخالفت کی۔
یہ بھی پڑھئے: عدالتیں جبر کا مرکز بن گئیں تو عوام کا انصاف پر اعتماد ختم ہوجائیگا: جسٹس مرلی دھر
تقریب کے منتظمین اسے ہندوستانی نژاد امریکی ہندو برادری کے لیے مشترکہ ورثے اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پروگرام قرار دیتے ہیں۔ تقریب میں تقریباً ۵؍ ہزار افراد کی شرکت متوقع ہے۔ موہن بھاگوت اس وقت امریکہ، کنیڈا، اور برطانیہ کے دورے پر ہیں۔ آر ایس ایس کے مطابق یہ دورہ تنظیم کے صد سالہ سال کے دوران عالمی سطح پر اس کے نظریے اور سرگرمیوں سے متعلق رابطہ مہم کا حصہ ہے۔ ادھر امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے بھی بھاگوت کے دورے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکی حکومت سے آر ایس ایس کے ارکان اور مبینہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہندوستانی عہدیداروں کے خلاف ہدفی پابندیوں پر غور کرنے کی اپیل کی ہے۔ آر ایس ایس ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور خود کو ہندوستانی تہذیب و ثقافت اور ہندو سماج کے اتحاد کے لیے کام کرنے والی تنظیم قرار دیتا ہے۔ ہندوستانی حکومت بھی ملک میں مذہبی امتیاز کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔