Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: بھاگوت کے دورے سے قبل USCIRF کا آر ایس ایس لیڈروں پر پابندی کا مطالبہ

Updated: August 20, 2026, 5:02 PM IST | Washington

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے متوقع دورۂ امریکہ سے قبل امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے واشنگٹن سے آر ایس ایس لیڈروں کے ساتھ اعلیٰ سطح کے روابط اور سفارتی مراعات سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ کمیشن نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف مبینہ خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد اور اداروں پر ہدفی پابندیاں عائد کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

Mohan Bhagwat. Photo: INN
موہن بھاگوت۔ تصویر: آئی این این

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے متوقع دورۂ امریکہ سے قبل آر ایس ایس لیڈران کے ساتھ اعلیٰ سطح کے روابط اور سفارتی مراعات سے گریز کیا جائے۔ کمیشن نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی اقلیتوں، جن میں عیسائی اور مسلمان شامل ہیں، کے خلاف حملوں کے ذمہ دار قرار پانے والے آر ایس ایس ارکان پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ یو ایس سی آئی آر ایف کے چیئرمین ڈاکٹر آصف محمود نے کہا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رکن ہیں۔ انہوں نے آر ایس ایس کو ایک ایسی وسیع تنظیم قرار دیا جس سے وابستہ گروہوں پر مذہبی اقلیتوں، خصوصاً عیسائیوں اور مسلمانوں، کے خلاف حملے کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر آصف محمود نے کہا، ’’ہندوستان کے وزیر اعظم مودی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رکن ہیں، جو ہندوستان کی ایک وسیع تنظیم ہے اور اس سے وابستہ ذیلی گروہوں پر مذہبی اقلیتوں، بشمول عیسائیوں اور مسلمانوں، کے خلاف حملوں کے الزامات ہیں۔ اب آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت امریکہ کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ جنگ: ٹرمپ کا دباؤ، جنوبی کوریا کو امریکی اتحاد پر تشویش

یو ایس سی آئی آر ایف کے کمشنر جین ملز نے بھی واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ آر ایس ایس لیڈران کے ساتھ اعلیٰ سطح کے روابط سے گریز کرے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس رہنماؤں کو سفارتی مراعات نہیں دی جانی چاہئیں اور امریکی حکام کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف پابندیاں عائد کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ یو ایس سی آئی آر ایف کی ۲۰۲۶ء کی سالانہ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ امریکہ ہندوستان کو ’’خاص تشویش کا حامل ملک‘‘ قرار دے اور ان افراد اور اداروں کے خلاف ہدفی پابندیاں عائد کرے جن پر مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کی ذمہ داری یا انہیں برداشت کرنے کے الزامات ہیں۔ رپورٹ میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ کمیشن نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ امریکہ پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور اداروں کے اثاثے منجمد کرے اور انہیں امریکہ میں داخلے سے روکے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے ساتھ مستقبل میں امریکی سیکوریٹی معاونت اور دو طرفہ تجارتی پالیسیوں کو مذہبی آزادی کی صورتحال میں بہتری سے مشروط کرنے اور اسلحہ برآمد کرنے کے قانون کے تحت ہندوستان کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہرمز کے متعلق ٹرمپ کے دعوے پر ایران نے کیلیفورنیا کو اپنا ’’نیا علاقہ‘‘ قرار دیا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ۲۰۲۵ء میں ہندوستان میں مذہبی آزادی کی صورتحال مزید خراب ہوئی۔ کمیشن نے امتیازی قوانین، ہندو قوم پرست ہجوم کی جانب سے مسلمانوں اور عیسائیوں پر حملوں اور اقلیتی مذہبی اداروں کو متاثر کرنے والے اقدامات کا حوالہ دیا۔ رپورٹ میں ۲۰۲۵ء کے وقف قانون اور اتراکھنڈ کے ’’یونیفارم سول کوڈ‘‘ سے متعلق قانون کو بھی ان اقدامات میں شامل کیا گیا جنہوں نے اقلیتی اداروں کو متاثر کیا۔ کمیشن نے مذہب کی تبدیلی کے خلاف بنائے گئے قوانین کے استعمال کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ کئی ریاستوں میں ان قوانین کو مزید سخت کیا گیا ہے، جن میں مذہب تبدیل کرنے کی وسیع تر تعریفیں اور زیادہ سخت سزائیں شامل ہیں۔ کمیشن کے مطابق ہندوستان کی ۲۸؍ میں سے ۱۲؍ ریاستوں میں مذہب کی تبدیلی کے خلاف قوانین نافذ ہیں، جبکہ ۲۰۲۵ء میں کئی ریاستوں نے ایسے قوانین متعارف یا مزید سخت کیے۔

یہ بھی پڑھئے: وسطی افریقی جمہوریہ میں سونے کی کان منہدم، ۱۰۰؍ سے زائد کان کن ہلاک

واضح ہو کہ یو ایس سی آئی آر ایف ایک دو طرفہ امریکی وفاقی حکومتی ادارہ ہے، جو ۱۹۹۸ء کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے قانون کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی صورتحال کی نگرانی کرتا ہے اور امریکی صدر، وزیر خارجہ اور کانگریس کو پالیسی سے متعلق سفارشات پیش کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK