• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بریلی کی واردات اور’وِکست بھارت‘ پر سوال

Updated: January 05, 2026, 11:06 PM IST | Bareilly

بریلی میں جو کچھ ہوا اس پرمذکورہ طالبہ جو شرمندگی محسوس کررہی ہے، وہ شرمندگی ہر سمجھدار شہری کو محسوس کرنی چاہیے۔ یہ سوال ملک کے برسر ِ اقتدار حلقہ کے ذمہ داروںکیلئے خود احتسابی کا باعث ہونا چاہیےکہ کیا’’وِکست بھارت ‘‘ کی سماجی قدریں یہی ہوںگی؟

Bareilly
بریلی

 چند دنوں قبل بریلی میں نرسنگ کی ایک طالبہ نے وہی سوال عوامی سطح پر دہرایا جس کی باز گشت کئی برسوں سے سنائی دے رہی ہیں۔ مذکورہ طالبہ کا سوال ہے کہ ’’کیا مجھےمذہب دیکھ کر دوستوں کا انتخاب کرنا ہوگا؟‘‘ اس کا کہناہےکہ ’’ مجھے شرم آرہی ہے کہ میرے دوستوں کو (ان کے مذہب کی وجہ سے) ہراساں کیا گیا اور ان کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔‘‘اس کا یہ تبصرہ اوریہ سوال ۲۷؍دسمبر کو بریلی کے ایک ریسٹورنٹ میں اس کی سالگرہ کی پارٹی پرغنڈہ عناصر کے ایک گروہ کے پرتشدد حملے کا نتیجہ ہے۔ 
 پارٹی پر حملہ کرنے والے افراد اُس انتہاپسند ذہنیت کے حامل گروہ کا حصہ تھے جو بزعم خود اس خام خیالی میں مبتلا ہے کہ مسلم مردوں سے ہندو خواتین کی ’’حفاظت‘‘ اس کا حق اور ذمہ داری ہے۔ پارٹی میں شرکت کرنےوالوں میں مذکورہ طالبہ کے ۲؍ ہم جماعت مسلمان تھے۔ طالبہ کے مطابق نہ صرف یہ کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے ان پر حملہ کیا گیا اور ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی بلکہ وہاں موجود دیگرمہمانوں سے بھی ان کامذہب پوچھا گیا۔ نرسنگ کی اس طالبہ کا یہ سوال اس نظریہ پر براہ راست اور کاری ضرب ہے جو ہندوستان کو اس کی تکثیری بنیادوں سے ہٹادیناچاہتا ہے۔ بریلی میں جو کچھ ہوا اس پروہ طالبہ جو اور جس قدر شرمندگی محسوس کررہی ہے، اس سے زیادہ شرمندگی ملک کے ہر صاحب فہم وفراست شہری کو محسوس ہونی چاہیے۔ یہ سوال ملک کے سیاسی طبقے بالخصوص برسر اقتدار حلقہ کے ذمہ داروںکیلئے خود احتسابی کا باعث ہونا چاہیے۔انہیں خود یہ دریافت کرنا چاہئے کہ کیا’’وِکست بھارت ‘‘ (جس کا حوالہ وزیزاعظم بار بار دیتے ہیں)کی سماجی قدریں یہی ہوںگی؟ 
 اس معاملے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کچھ غنڈوں کو گرفتار کیا ہے اور ان کے سرغنہ عناصر کی تلاش میں مصروف ہے۔ البتہ ریاست اور مرکز میں برسراقتدار جماعت کے کسی سینئر لیڈر نے اس واقعے پر افسوس کا اظہارکرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی ۔ حیرت انگیز طور پر(حملہ آوروں  کے خلاف کیس کے اندراج کے ساتھ ہی ) ان دونوں مسلم نو جوانوں پر (جو برتھ ڈے پارٹی میں مدعو تھے اور جنہیں زدوکوب کیاگیا)اور ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف بھی کیس درج کر لیا گیا ہے۔ اس لئے یہ پوچھنا ضروری ہوجاتا ہے کہ کیا ’’میکالے والی غلامانہ ذہنیت سے نجات‘‘ اور ’’ہزاروں سال کی ’غیر ملکی‘ حکمرانی کی باقیات‘‘ کے خاتمے کا راستہ بریلی جیسے واقعات سے پُرہوگا؟
 نوجوان طالبہ کا سوال اس لئے اہم ہے کہ یہ اُن سماجی بلکہ قومی قدروں کی اصل روح تک پہنچتا ہے جنہیں ملک کا آئین لکھنے والے ہمارے لیڈر ہر شہری میں دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ہندوستانی سماج کی تشکیل کی بنیاد مذہب اور عقیدہ نہیں ہوسکتا، نہ ہی مذہب ملک کی قومی شناخت یا قوم پرستی کا بنیادی جز بن سکتا ہے۔یہ قدریں دیگر ممالک کی قدروں پر بھی منحصر نہیں تھیں۔ دوسروں  کے طور طریقوں سے بھی ان کا کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہ قدریں اصل میں  ہندوستانی آئین کا مرکزی پہلو ہیں کیونکہ ان قدروں کو اچھاسمجھا گیا تھا۔ یہ قدریں آج نہیں  ماضی بعید سے ہندوستان کی تہذیب و ثقافت کا بنیادی حصہ رہی ہیں۔اس لئے آئین سازوں کو یقین تھا کہ عقیدہ کو عوامی دائرہ سے باہر رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ کبھی ہندوستان میں کسی گروہ یا لوگوں کے ہجوم کو کسی دوسرے ہندوستانی کے ذاتی معاملات میں مداخلت کرنے کی یوں اجازت ہوگی یا ایسا کرنےوالوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
 حال ہی میں ایک گفتگو کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے یہ رائے دی کہ اپنے حقوق کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والے ہر شخص کو چاہئے کہ پہلے وہ یہ ثابت کرے کہ اس  نے اپنی آئینی ذمہ داریوں اور فرائض کو ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق جب وہ یہ ثابت کردیں کہ وہ بحیثیت شہری اپنے فرائض کو انجام دے رہیں تبھی عدالتوں کوحقوق سے متعلق ان کے مقدمات سننے چاہئیں۔ سالیسٹر جنرل کا ماننا ہے کہ اس سے سماجی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔ ان کا یہ نظریہ نیا ہے لیکن یہ یاد دہانی بروقت ہے کہ ملک کے ہر شہری کے کچھ آئینی فرائض ہیں۔ آئین میں  بنیادی فرائض سے متعلق باب یعنی ’آرٹیکل ۵۱؍اے ‘کا اضافہ ایمرجنسی کے دوران کیا گیا تھا اور اسے بعد میں نکالا نہیں گیا بلکہ۲۰۰۲ء میں اس کے دائرہ کار کو وسعت دینے کیلئے اس میں ترمیم بھی کی گئی۔ آرٹیکل۵۱؍اے شہریوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ’’مذہبی، لسانی، علاقائی یا طبقاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک کے تمام شہریوں کے درمیان ہم آہنگی اور مشترکہ بھائی چارے کے جذبے کو فروغ دیں اور اُن طور طریقوں سے دستبردار ہوجائیں جو خواتین کی عزت و وقار کے منافی ہیں۔‘‘ بریلی کا حادثہ اور کمزور و بے بس افراد کے خلاف تشدداس بات کا متقاضی ہے کہ حکومت تمام ہندوستانیوں کو ان کے آئینی فرائض یاد دلائے اور اس جانب متوجہ کرے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ بھی ہے کہ ایسے واقعات اور لنچنگ کے معاملات میں ملوث رہنےوالوں سےقانون کو پوری سختی کے ساتھ نمٹنا چاہئے۔ شاید یہی بریلی کی اس طالبہ کے سوال کاسب سے عمدہ جواب ہوگا۔
 ایسے وقت میں جب ملک کو سنگین اسٹریٹیجک چیلنجوں کا سامنا ہے، سماجی یکجہتی کو برقرار رکھنا حکمت عملی کے لحاظ سے بھی ضروری ہے۔ سماجی ہم آہنگی ہمارا اسٹریٹیجک اثاثہ بھی ہے کیوں کہ سماجی انصاف پر مبنی قومی اتحاد اور یکجہتی کے بغیر’’وِکست بھارت ‘‘محض ایک خواب ہی رہ جائے گا۔ اس لحاظ سے بریلی کے غنڈوں نے قومی سلامتی اور ترقی کو بھی خطرے میں ڈالا ہے۔ انہیں انتہاپسند عناصر کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ کل تک جنہیں اکادکا واقعات کہہ کر ٹال دیا جاتا تھا وہ آج معمول بنتے جارہے ہیں اور ان کی سوچ مرکزی دھارے میں بدلتی جا رہی ہے۔n
مصنف سابق سفارت کار ہیں۔
 (بشکریہ: ’دی انڈین ایکسپریس‘)

bareilly Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK