پولیس نے انتظامیہ سے اجازت نہ لینے کی عجیب وغریب دلیل پیش کی۔
بریلی میں عجیب وغریب کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ایک مسلمان کے خالی مکان میں اُس کی اجازت سے نماز کے باجماعت اہتمام پر پولیس نے ۱۲؍ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ نقض امن کی دفعات کے تحت کی گئی اس گرفتاری کا جواز پولیس نے یہ پیش کیا ہے کہ مذکورہ کمرہ کو نماز کیلئے استعمال کرنے کی انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت نہیں لی گئی۔
بریلی میں، ایس پی (ساؤتھ) انشیکا ورما نے بتایا کہ محمد گنج گاؤں کے لوگوں سے اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے احتیاطی کارروائی کی ہے۔ گاؤں کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک خالی مکان کو گزشتہ کئی ہفتوں سے عارضی مدرسے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’بغیر اجازت کسی نئی مذہبی سرگرمی یا اجتماع کا انعقاد قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اگر ایسی سرگرمیاں دوبارہ ہوئیں تو سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘ انہوں نے لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل بھی کی۔ گرفتار کئے گئے افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں ضمانت مل گئی۔ ۳؍ دیگر افراد کی تلاش جاری ہے جو مبینہ طور پر فرار ہیں۔
پولیس کے مطابق ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ خالی مکان حنیف نامی شخص کی ملکیت ہے اور اسے جمعہ کی نمازکیلئے عارضی طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ حکام کے مطابق پوچھ تاچھ میں کوئی تحریری اجازت نامہ یاکاغذ پیش نہیں کیا جاسکا۔ پولیس نے بتایا کہ گاؤں کے کچھ لوگوں کو بغیر اجازت اس مکان میں باقاعدگی سے نماز ادا کئے جانے پر اعتراض تھا اور انہوں نے ہی حکام کو اطلاع دی، جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور نمازوں کو روک دیا۔