رجب المرجب کی ابتداء ہوچکی ہے۔ آج اس کی پانچ تاریخ ہے۔ یہ ماہ ملا کر تسلسل کے ساتھ تین ماہ آئینگے۔ ان میں سے ہر ماہ کی اپنی فضیلت ہے جو اس مضمون کے عنوان سے ظاہر ہے۔
رمضان کی تیاری رجب المرجب سے شروع ہوجانی چاہئے۔ تصویر: آئی این این
رجب المرجب کی ابتداء ہوچکی ہے۔ آج اس کی پانچ تاریخ ہے۔ یہ ماہ ملا کر تسلسل کے ساتھ تین ماہ آئینگے۔ ان میں سے ہر ماہ کی اپنی فضیلت ہے جو اس مضمون کے عنوان سے ظاہر ہے۔ رجب کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے ان کالموں میں قرآن مجید، سیرت رسولؐ اور ائمہ و سلف صالحین کے فرمودات نقل کئے گئے ہیں۔ اگر ہم کچھ سیکھنا چاہے اور سمجھنا چاہیں تو درج ذیل عبارتیں ہی کافی ہوجائیں ۔ ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ماہِ رمضان کی تیاری کس طرح کی جاتی ہے: مرتب)
قرآن مبارک میں ماہِ رجب کا ذکر
’’بیشک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب (یعنی نوشتۂ قدرت) میں بارہ مہینے (لکھی) ہے جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین (کے نظام) کو پیدا فرمایا تھا ان میں سے چار مہینے (رجب، ذی القعدہ، ذی الحجہ اور محرم) حرمت والے ہیں۔‘‘ (سورہ توبہ: ۳۶)
’’(حرمت والے مہینوں کو) آگے پیچھے ہٹا دینا محض کفر میں زیادتی ہے اس سے وہ کافر لوگ بہکائے جاتے ہیں جو اسے ایک سال حلال گردانتے ہیں اور دوسرے سال اسے حرام ٹھہرا لیتے ہیں تاکہ ان (مہینوں) کا شمار پورا کر دیں جنہیں اللہ نے حرمت بخشی ہے اور اس (مہینے) کو حلال (بھی) کر دیں جسے اللہ نے حرام فرمایا ہے۔ ان کے لئے ان کے بُرے اعمال خوش نما بنا دیئے گئے ہیں اور اللہ کافروں کے گروہ کو ہدایت نہیں فرماتا۔‘‘ (سورہ توبہ:۳۷)
ماہِ رجب کی فضیلت احادیث ِ مبارکہ میں
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: زمانہ پلٹ کر اسی حالت پر آ گیا ہے جس پر اس دن تھا جب اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی۔ سال بارہ مہینے کا ہے۔ ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ تین مہینے ذی القعدہ، ذی الحجہ اور محرم تو مسلسل ہیں اور چوتھا مہینہ رجب مضر ہے (جس کا قبیلہ مضر کے لوگ بڑا احترام کرتے ہیں)، اور یہ جمادی الاخریٰ (جمادی الآخر) اور شعبان کے درمیان میں ہے۔ ( متفق علیہ )
حضرت عثمان بن حکیم انصاری ؓبیان کرتے ہیں کہ میں نے رجب کے مہینے میں ہی حضرت سعید بن جبیر ؓ سے ماہِ رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباسؓ کو یہ بیان کرتے سنا ہے: اللہ کے رسولؐ جب روزے رکھتے تو ہم یہ کہتے کہ اب آپؐ روزے نہیں چھوڑیں گے اور جب آپؐ روزے چھوڑتے تو ہم یہ کہتے کہ اب آپؐ روزے نہیں رکھیں گے۔‘‘ (امام مسلم اور احمد )
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پیغمبر آخر الزماں ؐ نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی ماہ کے روزے پورے نہیں رکھے سوائے رجب اور شعبان کے۔ ( امام طبرانی )
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ماہِ رجب کا آغاز ہوتا تو حضور نبیؐ اکرم دعا فرماتے کہ ’’ اے الله! ہمیں رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمارے لیے رمضان میں بھی برکت عطا فرما۔‘‘ اور آپؐ فرمایا کرتے تھے: جمعہ کی رات قابلِ احترام ہے اور اس کا دن منور ہوتا ہے۔ ( امام احمد بن حنبل اور طبرانی )
ائمہ سلف صالحین کے اِرشادات
حضرت ابراہیم نخعیؒ نے فرمایا ہے: بے شک رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔ اسی ماہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو کشتی میں سوار کیا۔ پھر حضرت نوحؑ نے روزہ رکھا اور آپ ؑ نے اپنے ساتھیوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ساتھیوں سمیت طوفان سے محفوظ رکھا اور زمین کو شرک اور دشمنان دین سے پاک کردیا۔
(غنيۃ الطالبين)
حضرت ذوالنون مصری ؒ فرماتے ہیں کہ رجب آفات کے ترک کا مہینہ ہے، شعبان عبادات کے استعمال کا اور رمضان کرامات کے انتظار کا مہینہ ہے۔ جس نے آفات کو ترک نہ کیا، عبادات سے تعلق نہ جوڑا، اور کرامات کا انتظار نہ کیا، وہ اہل باطل سے ہے۔آپ ؒنے مزید فرمایا: رجب فصل بونے کا مہینہ ہے، شعبان پانی دینے کا، اور رمضان فصل کاٹنے کا مہینہ ہے۔ ہر شخص جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے اور جو عمل کرتا ہے اسی کا بدلہ پاتا ہے۔ جس نے فصل کو ضائع کیا وہ کٹائی کے دن نادم ہوتا ہے اور اپنے گمان کے خلاف پاتا ہے اور برے انجام کو دیکھتا ہے۔ (غنیۃ الطالبین)۔ماہِ رجب ہوا کی مانند ہے، شعبان بادل کی مانند، اور رمضان بارش کی مانند ہے۔ (ابن رجب الحنبلي)
سال درخت کی مانند ہے
بعض علماء نے کہا ہے: سال درخت کی مثل ہے۔ ماہِ رجب اس درخت کی ہریالی کے دن ہیں، شعبان اس کے پھلنے پھولنے کے دن ہیں، اور رمضان اس کے کاٹنے کے دن ہیں، اس کو کاٹنے والے مومن ہوتے ہیں۔ جس شخص نے اپنے نامۂ اعمال کو گناہوں سے سیاہ کر لیا ہو اس کے لئے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ اس مہینہ میں توبہ کے ذریعے اسے سفیدی میں بدل دے اور جس نے سرکشی میں اپنی عمر کو ضائع کر دیا ہو وہ اس ماہ کو اپنی بقیہ عمر کے لئے غنیمت سمجھے۔ ( امام ابن ِ رجب الحنبلی )