ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مسلمانوں کی تعداد۴۰؍ لاکھ پہنچ گئی، جبکہ عدم مساوات برقرا ہے، مسلم کونسل آف برطانیہ کی رپورٹ نے دو دہائیوں کے مردم شماری کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہوئے برطانوی مسلمانوں کی نوجوان اور متنوع آبادی کو اجاگر کیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 14, 2026, 10:12 PM IST | London
ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مسلمانوں کی تعداد۴۰؍ لاکھ پہنچ گئی، جبکہ عدم مساوات برقرا ہے، مسلم کونسل آف برطانیہ کی رپورٹ نے دو دہائیوں کے مردم شماری کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہوئے برطانوی مسلمانوں کی نوجوان اور متنوع آبادی کو اجاگر کیا ہے۔
مسلم کونسل آف برطانیہ (ایم سی بی) کی بدھ کو جاری کردہ ایک اہم رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی مسلم آبادی۴۴۰ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ میں مسلسل اقتصادی عدم مساوات، بڑھتی ہوئی تعلیمی شرح، اور پچھلی دو دہائیوں کے دوران برطانوی مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔دو جلدوں پر مشتمل۴۰۰؍ صفحات کی رپورٹ ’’برٹش مسلمز ان نمبرز‘‘کا و یسٹ منسٹر سٹی ہال میں انکشاف کیا گیا۔
واضح رہے کہ یہ رپورٹ انگلینڈ، ویلز، شمالی آئرلینڈ کی۲۰۲۱ء کی مردم شماری اور اسکاٹ لینڈ کی ۲۰۲۲ءکی مردم شماری پر مبنی ہے۔ اس مطالعے میں گزشتہ ۲۰؍سالوں میں برطانوی مسلمانوں کے آبادیاتی، سماجی اور معاشی رجحانات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، برطانیہ میں اب۴۰؍ لاکھ مسلمان ہیں جو کل آبادی کا تقریباً۶؍ فیصد ہیں۔جبکہ انگلینڈ میں سب سے زیادہ ۳۸؍ لاکھ مسلمان ہیں، اسکاٹ لینڈ میں ایک لاکھ ۲۰؍ ہزار ، ویلز میں۶۷۰۰۰؍اور شمالی آئرلینڈ میں ۱۱۰۰۰؍مسلمان آباد ہیں۔
بعد ازاں مسلم کونسل آف برطانیہ کے سیکرٹری جنرل وجید اختر نے کہا کہ یہ رپورٹ مقامی انتخابات کے نتائج کے بعد بروقت سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کا گہرائی سے تجزیہ ،صحت، تعلیم، روزگار اور شہری مصروفیت جیسے شعبوں میں پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرے گا۔اس کے علاوہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ برطانیہ کی مسلم آبادی شہری علاقوں میں مرکوز ہے، جہاں لندن میں۱۳؍ لاکھ مسلمان رہتے ہیں۔ کارڈف میں۳۴۰۰۰؍، گلاسگو میں ۴۹۰۰۰؍اور بیلفاسٹ میں ۵۵۰۰؍ مسلمان ہیں۔جبکہ محققین کے مطابق مسلم آبادی مختلف نسلی گروہوں پر مشتمل ہے۔ جن میں تقریباً ۶۶؍فیصد ایشیائی،۱۱؍ فیصد سیاہ فام، اور۶؍ فیصد سفید فام ہیں۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی مسلمانوں کی آبادی کا بیشتر حصہ نسبتاً کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ جس میں تقریباً نصف (۴۶؍ فیصد) کی عمر۲۵؍ سال سے کم ہے، جبکہ پوری برطانوی آبادی میں یہ شرح ۲۹؍فیصد ہے۔اس کے علاوہ برطانیہ میں اسکول جانے والے تمام بچوں میں سے۱۰؍ فیصد مسلمان ہیں، جبکہ صرف۵؍ فیصد مسلمان۶۵؍ سال سے زائد عمر کے ہیں۔ مزید برآں رپورٹ میں اقتصادی عدم مساوات کی طرف بھی اشارہ کیاگیا۔جس کے مطابق انگلینڈ میں ۴۰؍ فیصد مسلمان ملک کے۴۶؍ سب سے زیادہ محروم اضلاع میں رہتے ہیں، حالانکہ یہ علاقے انگلینڈ کی کل آبادی کا صرف ۲۰؍ فیصد ہیں۔ اور یہ تناسب دو دہائیوں سے تبدیل نہیں ہوا ہے، جو محدود عوامی نقل و حرکت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ پر آواز بلند کرنے والے فنکار ’’بلیک لسٹ‘‘، پال لاورٹی کی ہالی ووڈ پر تنقید
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ۲۰؍ سالوں میں مسلمانوں میں تعلیمی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔۱۶؍ سے ۲۴؍ سال کے مسلمانوں میں، ڈگری تک کی تعلیم حاصل کرنے والوں کا تناسب ۲۰۰۱ء میں۱۱؍ فیصد سے بڑھ کر۲۰۲۱ء میں۲۱؍ فیصد ہوگیا۔مسلم خواتین میں روزگار کی شرح ۲۰۰۱؍ میں۲۰؍ فیصد سے بڑھ کر۲۰۲۱ء میں ۳۱؍ فیصد ہوگئی۔صحت کے نتائج پر، رپورٹ نے بتایا کہ مسلمان عام آبادی کے مقابلے میں کم عمری کے سبب ’’بہت اچھی یا اچھی صحت‘‘ ہونے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔ تاہم، بوڑھے مسلمانوں کی صحت عام آبادی کے بوڑھے لوگوں کے مقابلے میں خراب پائی گئی۔ علاوہ ازیں رپورٹ نے سیاسی شمولیت کا بھی جائزہ لیا، جس میں اندازہ لگایا گیا کہ ۲۰۲۹ء تک۴۹؍ پارلیمانی حلقے ایسے ہو سکتے ہیں جہاں مسلمانوں کی ووٹنگ کی عمر کی آبادی۲۰۲۴ء کے عام انتخابات کے جیتنے والے مارجن سے کم از کم ۱۰؍ ہزار ووٹوں سے زیادہ ہوگی۔