Updated: May 15, 2026, 5:01 PM IST
| Ghaziabad
پنکی چودھری اس وقت دہلی این سی آر اور غازی آباد میں فرقہ وارانہ تقاریر، تشدد، دھمکیاں دینے اور حکام کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کے تحت تقریباً ۲۵ مجرمانہ مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ وہ فی الحال ضمانت پر باہر ہیں۔ اس سال کے شروع میں، چودھری اور ان کے حامیوں نے بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مبینہ مظالم کا حوالہ دیتے ہوئے غازی آباد اور دہلی میں ہندو رکشا دل کے دفاتر سے تلواریں تقسیم کی تھیں۔
وائرل ویڈیو کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس
ہندوتوا گروپ، ہندو رکشا دل کے لیڈر بھوپیندر چودھری عرف پنکی چودھری نے غازی آباد کے صاحب آباد علاقے میں راجندر نگر سیکٹر-۲ میں منعقدہ اجتماعی بھوج (ضیافت) کے دوران مسلمانوں کو کھانا پیش کرنے سے انکار کر دیا۔ اس واقعے کے ویڈیوز سامنے آنے کے بعد نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
چودھری کے فیس بک پیج پر اپ لوڈ کی گئی دو منٹ کی ویڈیو میں انہیں بھوج کے دوران ایک شخص سے پلیٹ چھینتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس تلخ کلامی کی اصل وجہ تو واضح نہیں ہے، لیکن چودھری کو ”مُلّا نہ آوے میرے پاس“ اور ”کوئی مسلمان ہمارا کھانا نہ کھائے“ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ مسلمانوں کو اس تقریب میں کھانا نہیں کھانا چاہئے۔ ویڈیو میں ان کا بیٹا ہرش چودھری بھی نظر آ رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد چودھری نے اپنے تبصرے کا دفاع کرتے ہوئے ایک اور ویڈیو جاری کی۔ اس بیان میں انہوں نے الزام لگایا کہ مسلمان ہندوؤں کو دیئے جانے والے کھانے میں تھوکتے اور پیشاب کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوؤں کو مسلمانوں کو کھانا کھلانا بند کر دینا چاہئے کیونکہ مسلمان مبینہ طور پر ہندوؤں کو اپنے اجتماعی دعوتوں میں مدعو نہیں کرتے۔ انہوں نے اپنے تبصرے کو پاکستان میں ہندوؤں کے ساتھ ہونے والے واقعات سے بھی جوڑا اور کہا کہ ان کی مخالفت کرنے والے چاہتے ہیں کہ ”ہندوستان میں ایک بھی ہندو باقی نہ بچے۔“
ہندو رکشا دل کے دہرادون کے لیڈر للت شرما نے بھی چودھری کی حمایت میں ایک ویڈیو جاری کی۔ نازیبا زبان کا استعمال کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ مسلمانوں کو ہندوؤں کیلئے مختص سہولیات تک رسائی کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر ان کے بس میں ہو تو مسلمانوں کو پانی اور دیگر عوامی سہولیات سے محروم کر دیا جائے۔ شرما نے مزید کہا کہ اگر کسی مسلم مریض کو خون کی ضرورت ہو تو وہ خون عطیہ کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دورہ امریکہ سے واپسی پر آر ایس ایس لیڈر نے ہند۔پاک تعلقات میں بہتری کی وکالت کی، تنقیدوں کی زد میں
واضح رہے کہ پنکی چودھری اس وقت دہلی این سی آر اور غازی آباد میں فرقہ وارانہ تقاریر، تشدد، دھمکیاں دینے اور حکام کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کے تحت تقریباً ۲۵ مجرمانہ مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ وہ فی الحال ضمانت پر باہر ہیں۔ اس سال کے شروع میں، چودھری اور ان کے حامیوں نے بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مبینہ مظالم کا حوالہ دیتے ہوئے غازی آباد اور دہلی میں ہندو رکشا دل کے دفاتر سے تلواریں تقسیم کی تھیں۔ ۶ جنوری ۲۰۲۶ء کو غازی آباد پولیس نے تلواروں کی تقسیم کے اس کیس کے سلسلے میں چودھری اور ہرش چودھری کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد انہیں ۱۵ جنوری کو ضمانت مل گئی تھی۔ حال ہی میں، ہندو رکشا دل کی خاتون اراکین کو بھی اتر پردیش میں دہلی-دہرادون نیشنل ہائی وے پر بنے بیریئرز پر فرقہ وارانہ نعرے پینٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔