سچن پائلٹ کی واپسی؟

Updated: July 30, 2020, 11:26 AM IST | Editorial

خبر ہے کہ سچن پائلٹ کے فیس بُک پر کانگریس کا ’’ہاتھ‘‘ واپس آگیا ہے جو اِدھر کچھ عرصہ سے ہٹ گیا تھا۔ اس کی وجہ سے یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ وہ بھی واپس آجائینگے۔ اس امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر یہ امکان کچھ زیادہ روشن نہیں ہے۔

Sachin Pilot - Pic : INN
سچن پائلٹ ۔ تصویر : آئی این این

خبر ہے کہ سچن پائلٹ کے فیس بُک پر کانگریس کا ’’ہاتھ‘‘ واپس آگیا ہے جو اِدھر کچھ عرصہ سے ہٹ گیا تھا۔ اس کی وجہ سے یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ وہ بھی واپس آجائینگے۔ اس امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر یہ امکان کچھ زیادہ روشن نہیں ہے۔ اُنہیں راجستھان کی نائب وزارت اعلیٰ اور کانگریس کی راجستھان اکائی کے صدر جیسے اہم عہدوں سے ہٹایا جاچکا ہے۔ چونکہ کانگریس اُن کی اہمیت کو جانتی ہے اور ۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۸ء تک ریاست میں پارٹی کو مستحکم کرنے کی اُن کی محنت سے بھی واقف ہے اس لئے اب بھی ان کیلئے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر اُنہیں پارٹی کی بنیادی رُکنیت سے ہٹایا نہیں گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ گہلوت نے بھلے ہی ’’نکما‘‘ کہا ہو مگر کانگریس کے مرکزی لیڈروں میں سے کسی نے اُن کیلئے ایسے کسی لفظ کا استعمال نہیں کیا۔ 
 سچن پائلٹ کے پاس پارٹی میں واپسی کے علاوہ صرف دو متبادل ہیں۔ مگر اس پر گفتگو سے پہلے ہم ایک اور نکتہ بیان کرنا چاہیں گے جو بطور یاددہانی عرض کیا جارہا ہے۔ سچن پائلٹ کانگریس پارٹی کے اُن معدودے چند خوش نصیب لوگوں میں سے ایک ہیں جنہیں اقتدار سونے کی تھالی میں سجاکر پیش کیا گیا۔ ۲۰۰۰ء میں والد راجیش پائلٹ کے انتقال کے بعد وہ پارٹی کی فطری اور پہلی پسند تھے۔ اُنہیں دوسہ (راجستھان) سے ۲۰۰۴ء میں پارلیمانی انتخاب میں اُتارا گیا جہاں اُنہیں کامیابی ملی۔ اُن کا سفر نہ تو پنچایت اور ضلع کی سطح سے شروع ہوا نہ ہی انہوں نے ایم ایل اے کاٹکٹ پانے کیلئے کئی سال تگ و دو کی جیسا کہ عام طور پر سیاست میں قدم رکھنے والوں کا مقدر ہوتی ہے۔ یہی کیا کم تھا کہ ۲۰۰۹ء میں اُنہیں مرکزی وزارت حاصل ہوگئی۔ یہ تحفہ بھی کم ہی لوگوں کو مل پاتا ہے۔ ۲۰۱۴ء میں وہ پارلیمانی الیکشن ہار چکے تھے اس کے باوجود راہل گاندھی کی خصوصی دلچسپی کے سبب اُنہیں راجستھان کانگریس کا صدر بنایا گیا۔ یہی نہیں، ۲۰۱۸ء میں جب پارٹی کو ریاست میں اقتدار حاصل ہوا تب اُنہیں نائب وزارت اعلیٰ سے نوازا گیا۔ اتنے کم وقت میں اتنے اہم اور بڑے عہدے کس کو ملتے ہیں جو سچن پائلٹ کو میسر آئے؟ اگر اتنے انعامات بھی ناکافی تھے تو یہ کسر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی جانب سے ملنے والی اہمیت، فوقیت اور اُن پر کئے گئے اعتماد سے پوری ہوجانی چاہئے تھی۔ اتنا تو کسی کے ساتھ نہیں ہوتا! اِس کے باوجود وہ عاقبت نااندیشی میں مبتلا ہوئے اوریہ سمجھنا غلط نہ ہوگا کہ اُنہوں نے اپنا شاندار کریئر داؤ پر لگا دیا ہے۔ اپنے غلط فیصلے کی وجہ سے وہ کانگریس کو کم، اپنے سیاسی کریئر کو زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔
 جیسا کہ عرض کیا گیا، پارٹی میں واپسی کے علاوہ اُن کے پاس دو متبادل ہیں۔ ایک تو یہ کہ بی جے پی میں شامل ہوجائیں مگر اس سے اُنہوں نے انکار کیا ہے۔ ممکن ہے اس معاملے میں اُن کا ذہن بالکل صاف ہو مگر ایک بات طے ہے کہ اپنے فیصلے اور اقدام کے ذریعہ وہ بی جے پی کو فائدہ تو ضرور پہنچا رہے ہیں۔ اس دوران کوئی وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب وہ کوئی پیشکش قبول کرلیں جیسا کہ جیوترا دتیہ سندھیا نے کیا۔ اس میں وقتی فائدہ تو ہوسکتا ہے مگر اس سے زیادہ نہیں۔ کاش وہ دیکھتے کہ سندھیا کو سیاسی طور پر حاشئے پر لانے کی کوشش شروع ہوچکی ہے۔ 
 دوسرا متبادل جو اُن کے سامنے ہے وہ اپنی علاحدہ پارٹی بنانے کا ہے۔ اپنی پارٹی کی صدارت اور کانگریس کی ریاستی اکائی کی صدارت میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے جو اُن کے پاس تھی۔ ان میں بھی آخر الذکر زیادہ بااثر اور باوقار ہے۔ اگر انہوں نے اپنی پارٹی بنائی تو ایک ایسے جواں سال لیڈر کی حیثیت ہمیشہ کیلئے علاقائی لیڈرکی ہوجائے گی جو کانگریس میں رہ کر قومی سیاست کا حصہ بننے کی آسان سی کوشش کرسکتا ہے۔ بہرحال اُن کے پاس اب بھی موقع ہے کیونکہ نہ تو کانگریس نے اُنہیں چھوڑا ہے نہ ہی اُنہوں نے کانگریس کو خیرباد کہا ہے 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK