شیوسینا ( شندے ) کے رکن اسمبلی نےمہاراشٹر این سی پی سربراہ کے خلاف ایک قتل کے تعلق سے الزام تراشی کی تھی ۔
این سی پی ( اجیت ) کے ریاستی صدر سنیل تٹکرے- تصویر:آئی این این
این سی پی (اجیت)کے ریاستی صدر اور رائے گڑھ کے رکن پارلیمان سنیل تٹکرے نے کرجت کے رکن اسمبلی مہندر تھوروے کے خلاف ۶۵؍ کروڑ ۳؍ ہزار روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ مقدمہ رائے گڑھ ضلع کے مانگاؤں میں واقع سینئر سطح کی دیوانی عدالت میں داخل کیا گیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب کھپولی میں منگیش کالوکھے کے قتل کے بعد ۲۷؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کو رکن اسمبلی مہندر تھوروے نے ایک نیوز چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ رائے گڑھ میں ’خون آلود سیاست‘ جاری ہے اور اس دوران انہوں نے بعض سنگین الزامات عائد کئے تھے۔
دعویٰ میں کہا گیا ہے کہ اس بیان کے ذریعے رکن پارلیمان سنیل تٹکرے کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ دریں اثنا سنیل تٹکرے نے ان تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی طویل سیاسی زندگی میں انہوں نے مختلف اہم ذمہ داریاں نبھائی ہیں اور ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے عدالت میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان بیانات کے باعث معاشرے میں ان کی شبیہ کو مجرمانہ رجحان سے جوڑنے کا غلط تاثر پیدا ہوا ہے۔دعویٰ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مہندر تھوروے کے بیانات کو جھوٹا اور ہتک آمیز قرار دیا جائے، متعلقہ ویڈیو اور مواد کو تمام پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا جائے اور آئندہ اس نوعیت کے بیانات دینے سے روکا جائے۔اس کے ساتھ ہی عدالت سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ ملزم کو ۶۵؍ کروڑ ۳؍ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔
یاد رہے کہ سنیل تٹکرے اور مہندر تھوروے دونوںہی کا تعلق مہایوتی سے ہے۔ تھوروے ایکناتھ شندے کی شیوسینا سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں میں سیاسی مخاصمت ہے۔ رائے گڑ میں شیوسینا کے تینوں اراکین اسمبلی مہندر دلوی اور بھرت گوگائولے اور مہندر تھوروے سنیل تٹکرے کے خلاف میڈیا کے سامنے بیانات دیتے رہتے ہیں۔