لوک سبھا میں ہنگامہ، ۳؍بار کارروائی ملتوی، پارلیمنٹ کے احاطے میں بھی حزب مخالف کے ایم پیز نے زبردست مظاہرہ کیا
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 11:23 PM IST | New Delhi
لوک سبھا میں ہنگامہ، ۳؍بار کارروائی ملتوی، پارلیمنٹ کے احاطے میں بھی حزب مخالف کے ایم پیز نے زبردست مظاہرہ کیا
اسرائیل-امریکہ اور ایران جنگ کے سبب ملک میں گھریلو گیس کی قلت پر اپوزیشن اراکین کے احتجاج کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی جمعہ کو پہلی بار صبح۱۱؍ بجے ملتوی کی گئی۔ دوپہر۱۲؍ بجے اجلاس دوبارہ شروع ہوتے ہی اپوزیشن اراکین نے پھر احتجاج کیا، جس پر کارروائی دوپہر۲؍ بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔ دوپہر۲؍ بجے کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر اپوزیشن نے اسی مسئلے پر پھر شور شرابہ کیا۔ ہنگامے کے دوران ہی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ۲۶۔۲۰۲۵ءکی اضافی گرانٹس پر بحث کا جواب دیا۔ اس کے بعد اضافی گرانٹس منظور کی گئیں اور اس سے متعلق بجٹ بل بھی پاس ہوا۔ اس کے باوجود اپوزیشن کا ہنگامہ جاری رہا، جس پر قائم مقام اسپیکر کرشن پرساد تینیٹی نے کارروائی پیر صبح۱۱؍ بجے تک ملتوی کر دی۔
اس سے پہلے صبح۱۱؍ بجے جیسے ہی اسپیکر اوم برلا نے سوال و جواب کا وقت شروع کیا، اپوزیشن اراکین گھریلو گیس کی قلت پر احتجاج کرنے لگے۔ برلا نے کہا کہ سوال و جواب کا وقت اہم ہوتا ہے، اس میں عوامی مسائل اٹھائے جاتے ہیں اور حکومت جواب دہ ہوتی ہے، اسلئے اسے روکنا مناسب نہیں۔ انہوں نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اراکین میزوں پر چڑھیں گے تو کارروائی ہوگی، پارلیمنٹ کی عزت اور وقار سب کی ذمہ داری ہے۔ بعد میں دوپہر۱۲؍ بجے اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے گیس کی کمی پر بحث کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ کئی اراکین ایوان کے وسط میں آ گئے۔
پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں طے ہوا تھا کہ وزیر خزانہ جواب دیں گی اور پھر نجی بلوں پر بحث ہوگی، لیکن کانگریس اراکین ہنگامہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے اراکین ایوان میں کھانے کے برتن لاتے ہیں، عوام یہ سب دیکھ رہی ہے۔ رجیجو نے کہا کہ کانگریس کے اراکین اپنے لیڈر کے ساتھ ساتھ خود بھی بگڑ گئے ہیں۔قائم مقام اسپیکر سندھیا رائے نے اپوزیشن کو کہا کہ عوام دیکھ رہی ہے کہ وہ کارروائی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، یہ مناسب رویہ نہیں ہے۔ لیکن اپوزیشن نے بات نہ مانی، جس پر کارروائی دوبارہ دوپہر۲؍ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
اتنا ہی نہیں اپوزیشن نے ملک میں ایل پی جی کی قلت کے خلاف آج پارلیمنٹ کے احاطہ میںایک بار پھراحتجاج کیا۔ متعدد اپوزیشن جماعتوں کے ایم پیز اور لیڈران نے حکومت پر ایندھن کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا اور ملک بھر میں رسوئی گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز بھی متعدد اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نےپارلیمنٹ کمپلیکس میں مکر دوار کے قریب جمع ہوکر احتجاج کیاتھا۔ان میںکانگریس، ڈی ایم کے، ترنمول کانگریس اور سماج وادی پارٹی سمیت مختلف جماعتوں کے قانون سازوں نے مظاہرے میں حصہ لیا۔کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے اس معاملے پر حکومت پر سخت تنقید کی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو اس بحران پر سست ردعمل کے کے لیے نشانہ بنایا۔