قرآن کی ہر بات پتھر کی لکیر ہے، وہ اس لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے جس کو کوئی بدل نہیں سکتا

Updated: May 22, 2020, 12:21 PM IST | Maolana Nadeemul Wajidi

تیسویں پارے کی پہلی سورہ النباء کا موضوع بھی سابقہ سورہ کے موضوع سے ملتا جلتا ہے، یعنی قیامت۔ یہ موضوع تھا ہی ایسا حیرت انگیز کہ جب بھی اہل مکہ کے سامنے قیامت کا ذکر کیا جاتا اور بتلایا جاتا کہ ایک دن یہ دنیا ختم ہوجائے گی تو وہ اس پر نہ صرف یہ کہ تعجب اور حیرت کا اظہار کرتے بلکہ اسے عقل سے بعید سمجھ کر اس خیال کا مذاق بھی اڑاتے

Quran Kareem - Pic : INN
قرآن کریم ۔ تصویر : آئی این این

تیسویں پارے کی پہلی سورہ النباء کا موضوع بھی سابقہ سورہ کے موضوع سے ملتا جلتا ہے، یعنی قیامت۔ یہ موضوع تھا ہی ایسا حیرت انگیز کہ جب بھی اہل مکہ کے سامنے قیامت کا ذکر کیا جاتا اور بتلایا جاتا کہ ایک دن یہ دنیا ختم ہوجائے گی تو وہ اس پر نہ صرف یہ کہ تعجب اور حیرت کا اظہار کرتے بلکہ اسے عقل سے بعید سمجھ کر اس خیال کا مذاق بھی اڑاتے۔ اس سورہ میں پہلے ان لوگوں کی خبر لی گئی ہے جو قیامت کے وقوع کا مذاق اڑایا کرتے تھے، ان سے پوچھا گیا ہے کہ کیا تمہیں یہ زمین نظر نہیں آتی جسے ہم نے تمہارے لئے فرش بنا رکھا ہے، ان اونچے پہاڑوں کو  دیکھو جنہیں ہم نے زمین کی میخیں بنا دیا ہے، خود کو دیکھو تمہیں مردوں اور عورتوں کے جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا ہے، اپنی نیند پر نظر ڈالو اس کے ذریعے تم چاق وچوبند ہوجاتے ہو، دن رات کی گردش پر غور کرو جو تمہاری ضرورت کے مطابق باقاعدگی کے ساتھ مسلسل جاری ہے، آسمانوں کا مضبوط نظام، سورج کی روشنی، بارشوں کی آمد اور بارشوں کے ذریعے نباتات کی پیداوار یہ ساری چیزیں تمہارے فکر و تدبر کے لئے کافی نہیں ہیں؟ اور کیا ان سے یہ نہیں سمجھ میں آرہا ہے کہ اس نظام کائنات کا چلانے والا کوئی ایک دانا، حکیم اور قادر مطلق ہستی ہے؟
  اس سورہ میں آخرت کا ذکر کرتے ہوئے روز جزاء کی منظر کشی بھی کی گئی ہے کہ اس دن کوئی بلا اجازت زبان بھی نہ کھول سکے گا، چہ جائیکہ کسی کو بخشوانے کا دعویٰ کرے، صرف وہ لوگ بول سکیں گے جنہیں اذن کلام ہوگا اور صحیح بات کہیں گے۔ آخر میں کہا گیا کہ جس دن کی خبر دی جارہی ہے وہ ضرور آئے گی، اب یہ تم پر منحصر ہے کہ اپنے رب کے راستے پر چلو یا نہ چلو، جو نہیں چلے گا وہ خود اپنا انجام دیکھ لے گا اور اس وقت اپنے اعمال نامے دیکھ کر پچھتائے گا اور حسرت سے کہے گا کاش میں (انسان نہ ہوتا بلکہ) مٹی ہوتا۔
  سورۂ النازعات کا موضوع بھی قیامت اور مرنے کے بعد کی زندگی ہے، اس زندگی کا انکار کرنے والوں سے یہ سوال کیا گیا ہے کہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا اس وسیع وعریض کائنات کو عدم سے وجود میں لانا دشوار ہے، جس اللہ نے یہ کام کردیا اس کے لئے دوبارہ زندہ کرنا کیوں مشکل ہوگا؟ آخر میں کفار کے اس سوال کا جواب بھی دیا گیا ہے کہ قیامت کب آئے گی، اس کا علم صرف اللہ کو ہے، رسول کا کام خبر دینا ہے، جس کا دل چاہے وہ اپنے آپ کو اس دن کے لئے تیار کرلے اور جس کا دل چاہے وہ خواب خرگوش میں پڑا رہے۔
 اگلی سورہ عبسہے، اس کے شان نزول کے متعلق روایات میں یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں مکّے کے کچھ سردار بیٹھے ہوئے تھے اور آپ انہیں اسلام قبول کرنے پر آمادہ فرما رہے تھے، اتنے میں ایک نابینا صحابی ابن ام مکتومؓ حاضر خدمت ہوئے اور اسلام کے متعلق کچھ پوچھنا چاہا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مداخلت ناگوار محسوس ہوئی، اور آپ نے ان سے کچھ بے رخی برتی اور ان کے ساتھ بے توجہی کا برتاؤ کیا، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں  ترش رو ہوئے اور اعراض کیا (پیغمبرنے) اس بات پر کہ ان کے پاس (ایک) نابینا آئے، آپ کو کیا معلوم شاید وہ نیک ہوجاتے یا (پیغمبر) ان کو نصیحت کرتے تو وہ نصیحت ان کو فائدہ دیتی، اور جو (آپ کی دعوت سے) بے نیازی برت رہے ہیں آپ ان کے پیچھے پڑے ہیں۔ ان آیات میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشفقانہ انداز میں اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ آپ ان سرداروں پر اتنی توجہ نہ دیں، یہ لوگ تو آپ کی بات ماننے والے نہیں ہیں، جو لوگ دین کے سلسلے میں آپ کے پاس آرہے ہیں ان پر کامل توجہ دیجئے، یہ سدھر سکتے ہیں اور  آپؐ کی نصیحت ان کے لئے سود مند ہوسکتی ہے۔ سلسلۂ کلام کا رخ کفار مکہ کی طرف پھیرتے ہوئے ان سے ارشاد فرمایا کہ اس روز آدمی اپنے بھائی، اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اولاد سے بھاگے گا، ان میں سے ہر شخص کا حال یہ ہوگا کہ کسی کو اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا (مگر) کچھ چہرے اس روز چمک رہے ہوں گے، مسکرار ہے ہوں گے اور خوش وخرم ہوں گے اور کچھ چہرے تاریک ہوں گے اور ان پر کدورت چھائی ہوئی ہوگی، یہ فاسق وفاجر لوگ ہوں گے۔ 
سورۂ التکویر کا موضوع آخرت اور رسالت ہے، آخرت کے تعلق سے فرمایا گیا کہ جب سورج بے نور ہوجائے گا اور ستارے بکھر جائیں گے، پہاڑ اڑنے لگیں گے وغیرہ، اس دن نامۂ اعمال کھولے جائیںگے، جرائم کے سلسلے میں دریافت کیا جائے گا اور  زندہ درگور کی گئیں لڑکیوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس گناہ کی پاداش میں قتل کیا گیا تھا۔ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ارشاد فرمایا گیا کہ یہ قرآن کسی دیوانے کی بڑنہیں ہے بلکہ ایک اولو العزم اور عظیم وامانت دار پیغمبر کا بیان ہے۔
 سورۂ انفطار میں بھی قیامت کے ہولناک مناظر بیان کئے گئے ہیں۔  اس دن انسان سے پوچھا جائے گا کہ  تجھے کس چیز نے اپنے ربِ کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا۔ جھٹلانے والوں سے کہا گیا کہ تم پر نگہبان فرشتے (کراماً کاتبین)  مقرر ہیں۔ اس سورہ کے سلسلے میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص قیامت کو اس طرح دیکھنا چاہتا ہو جیسے وہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہے تو اسے اذا السماء انفطرت اور اذا السماء انشقت پڑھنی چاہئے۔  (ترمذی)
 سورۂ المطففین کا مو ضوع بھی قیامت ہی ہے، اس کی ابتدائی آیات میں ان لوگوں پر گرفت کی گئی ہے جو دوسروں سے تو پورا پورا ناپ تول کرلیتے ہیں اور جب دوسروں کو دیتے ہیں تو گھٹا کر تولتے ہیں۔ یہ آخرت سے غفلت کا نتیجہ ہے، اگر یہ احساس ہو کہ ایک دن قیامت آئے گی اور خدا کے پاس حاضر ی ہوگی، اس وقت حساب دینا ہوگا، تب کوئی بھی یہ خیانت نہیں کرسکتا۔ نیکوکاروں کے لئے جنت  اور اس کی نعمتو ں کا ذکر ہے۔ کہا گیا کہ آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں ۔
 سورۂ الانشقاق کی ابتدائی آیات میں تو قیامت کی کیفیت بیان کی گئی ہے اور باقی آیات میں روز جزاء کا ذکر ہے جب ہر شخص کے ہاتھ میں اس کا اعمال نامہ تھما دیا جائے گا۔ اس میں شفق کی، رات کی اور چاند کی قسم کھا کر فرمایا گیا ہے کہ تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے۔
 سورۂ البروج میں اصحاب الاخدود کا قصہ ذکر کیا گیا ہے، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اہل ایمان کو آگ کے گڑھوں میں ڈال دیا تھا، اصحاب الاخدود کے اس ظلم کا کیا انجام ہوا، ان کا انجام سامنے رکھ کر کفار مکہ اہل ایمان کو اذیت دینے سے باز آجائیں، خدا کی پکڑ بڑی سخت ہے، فرعون اور ثمود کی قوموں کا انجام بھی سامنے رکھنا چاہئے، قرآن کی ہر بات پتھر کی لکیر ہے، وہ اس لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔
 سورۂ الطارق میں کہا گیا ہے کہ قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی، اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟ چمکتا ہوا تارا ۔ آگے  یہ بتلایا گیا ہے کہ انسان کو مرنے کے بعد خدا کے پاس جانا ہے، قرآن کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ اس میں بیان کردہ حقائق قول فیصل کی طرح اٹل ہیں، یہ ہنسی مذاق کی باتیں نہیں ہیں۔
 سورۂ الاعلیٰ کا بنیادی موضوع توحید ہے، اس کا آ غاز ہی اس طرح کیا گیا ہے کہ آپ اپنے رب کی تسبیح بیان کیا کیجئے جس نے پیدا کیا، تناسب قائم کیا، جس نے تقدیر بنائی، پھر ہدایت دی۔ آپ نصیحت کرتے رہئے۔ جو شخص ڈرتا ہے وہ نصیحت قبول کر لے گا۔ ابراہیمؑ اور موسیٰؑ کے صحیفوں میں بھی یہی باتیں کہی گئی تھیں۔
 سورۂ غاشیہ کا آغاز ایک سوال سے کیا گیا ہے کہ کیا آپ کو چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے؟ اس سوال کے بعد اس دن کا بیان ہے جس دن یہ آفت (قیامت) نازل ہوگی، اس سورہ میں جنت کی نعمتوں اور دوزخ کی تکلیفوں کا بیان بھی ہے، آخر میں انسانوں سے، اونٹ، آسمان، پہاڑ، زمین وغیرہ کے حوالے سے پوچھا جارہا ہے کہ کبھی تم نے ان کی تخلیق پر بھی غور کیا ہے؟ 
سورۂ الفجر میں بھی اسی طرح کے سوالات کا سلسلہ باقی رکھا گیا ہے، فجر کی، دس راتوں (عشرۂ ذی الحجہ) کی جفت رات (یوم النحر) کی، طاق رات (یوم عرفہ) وغیرہ کی قسم کھاکر اہل عقل کے لئے غوروفکر کا موضوع رکھ دیا ہے، ساتھ ہی قوم ثمود کا بھی ذکر ہے اور قوم فرعون کا بھی۔ پھر قیامت کا بیان ہے اور روز جزا کا منظر کھینچا گیا ہے۔
 سورۂ بلد میں شہر مکہ کی قسم کھاتے ہوئے اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ بیشک ہم نے انسان کو مشقت میں (مبتلا رہنے والا) پیدا کیا ہے۔  اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے سعادت اور شقاوت دونوں طرح کے راستے کھول دیئے ہیں، ان پر چلنے کا طریقہ بھی بتلا دیا ہے، اب یہ خود انسان پر موقوف ہے کہ وہ اپنے لئے کون سا راستہ اختیار کرتا ہے، سعادت کا یا شقاوت کا۔
 سورۂ الشمس میں سورج اور اس کی روشنی، چاند، دن، رات، آسمان، زمین اور انسانی جان کی قسم کھا کر  نیکی اور بدی کا فرق سمجھا یا گیا ہے کہ جس طرح سورج چاند، دن رات، زمین آسمان، ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور جس طرح ان کے اثرات اور تقاضے الگ الگ ہیں، اسی طرح نیکی اور بدی بھی دو متضاد چیزوں کا نام ہے۔
 سورۂ اللیل کا موضوع بھی تقریبا وہی ہے جو پچھلی سورہ کا ہے، اس میں بھی زندگی کے دو مختلف راستوں کے فرق پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ان راستوں پر چلنے والوں کے انجام کا بیان کیا گیا ہے۔ 
سورۂ الضحیٰ میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبیت کا بیان ہے کہ جن کی اتباع کا حکم دیا جارہا ہے وہ غیرمعمولی شخصیت ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت اور توجہ ہے آپ کو یقین دلایا جارہا ہے کہ آپ کو وہ سب کچھ دیا جائے گا جس سے آپ راضی ہوجائیں گے، اسی مناسبت سے کچھ ہدایات بھی ہیں کہ آپ یتیموں اور بے کسوں کے ملجا وماویٰ  بنیں اور اللہ کی نعمتوں کا اعتراف واظہار بھی کرتے رہیں۔
 سورۂ الانشراح میں اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نام نامی اسم گرامی کو بلند کیا جائے گا، آپ اپنا کام اطمینان کے ساتھ جاری رکھیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہیں۔
سورۂ التین میں  انجیر، زیتون، طور سینا اور امن والے شہر یعنی مکہ کی قسم کھا کر فرمایا گیا کہ بیشک ہم نے انسان کو بہترین (اعتدال اور توازن والی) ساخت میں پیدا فرمایا ہے۔ لوگ دو ہی طرح کے ہوسکتے ہیں ایک وہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور عمل صالح کریں، دوسرے وہ جو ان کی تکذیب کریں۔
سورۂ العلق کی پہلی آیت وہ ہے جو آپؐ پر پہلی وحی کی صورت میں نازل ہوئی تھی کہ اپنے رب کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھئے جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایا۔ کہا گیا کہ انسان کو اپنی حقیقت نہ فراموش کرنی چاہئے کہ وہ خون کے ایک لوتھڑے سے پیدا کیا گیا ہے، اس کے اندر بہ ذات خود کوئی قابلیت نہیں تھی، یہ ہم ہی ہیں جس نے اس کو علم عطا فرمایا جس سے وہ نابلد تھا، حصول علم اور اس کی ترویج کے لئے ہم نے قلم عطا  فرمایا، انسان کو چاہئے کہ وہ نعمت علم حاصل کرکے اللہ کو یاد رکھے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK